ایدھی میت خانے بند: 'چند ایمبولینس ڈرائیوروں کو قرنطینہ میں جانا پڑا'

ہمیں نہیں پتہ کہ مرنے والے میں کرونا وائرس تھا یا نہیں، اس لیے ہم نے پاکستان بھر میں اپنے میت خانے، سرد خانے اور غسل خانے بند کردیے ہیں: سربراہ ایدھی فاؤنڈیشن فیصل ایدھی

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے باعث  ان کے  مراکز پر راشن لینے آنے والوں کی تعداد دگنی  جبکہ چندہ دینے والے افراد کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔(تصویر: امر گرڑو)

کرونا (کورونا) وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دیگر صوبوں کی طرح صوبہ سندھ میں بھی جاری لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں سب سے زیادہ ایمبولینس رکھنے والے فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن نے پورے ملک میں موجود میت خانے، میتوں کو عارضی طور پر رکھنے والے سرد خانے اور غسل خانے بھی بند کر دیے ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن نے اپنے ایمبولینس ڈرائیوروں کے کرونا (کورونا) وائرس کے ٹیسٹ بھی کروائے ہیں جبکہ چند ڈرائیوروں کو احتیاطاً قرنطینہ میں بھیج دیا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'پاکستان بھر میں ہمارے ایک سو سے زائد میت خانے، سرد خانے اور غسل خانے ہیں، جن میں سے 10 سرد خانے اور 20 غسل خانے بڑے سائز کے ہیں۔ ہمارے پاس ہر روز سینکڑوں میتیں لائی جاتی ہیں۔ اب ہمیں نہیں پتہ کہ مرنے والے میں کرونا وائرس تھا یا نہیں، اس لیے ہم نے پاکستان بھر میں اپنے میت خانے، سرد خانے اور غسل خانے بند کردیے ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سوال کے جواب میں فیصل ایدھی نے بتایا: 'ہم نے ڈرائیوروں کو ماسک کے ساتھ رین کوٹ بھی دیے ہیں جبکہ مریضوں کو ان کی منزل تک چھوڑنے کے بعد ڈرائیور کے کپڑوں پر جراثیم کُش سپرے کیا جاتا ہے اور ایمبولینس کو بلیچ سے دھویا جاتا ہے۔'

کرونا وائرس کے مشتبہ افراد کو گھروں سے ہسپتال، وائرس کی تشخیص ہونے والے مریضوں کو ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال لے جانے اور وائرس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی میتوں کو ہسپتال سے قبرستان لے جانے والے ایمبولینس ڈرائیوروں کو وائرس سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ امکان ہوتا ہے۔

فیصل ایدھی کے مطابق: 'ہم نے اپنے ڈرائیوروں کا ٹیسٹ کروایا ہے اور وہ سب منفی آئے ہیں مگر چند ڈرائیور جن میں کھانسی یا زکام جیسی علامات تھیں، ہم نے انہیں قرنطینہ میں بھیج دیا ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن نے صرف سرد خانے، میت خانے اور غسل خانے عارضی طور پر بند کیے ہیں، مگر ملک بھر میں موجود ایدھی مراکز بدستور کام کرتے رہیں گے اور مستحقین کو کفن بھی مہیا کیا جاتا رہے گا۔ اس کے علاوہ ایدھی مراکز پر مستحق لوگوں میں راشن کی تقسیم بھی جاری رہے گی۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ساڑھے تین ہزار ملازمین ہیں اور ایمبولینس سروس کے تحت 1800 گاڑیاں یا ایمبولینس ہیں۔ دوسری جانب ایدھی بوٹ ایمبولینس میں 18 کشتیاں اور ایدھی ایئر ایمبولینس میں دو جہاز شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے بتایا کہ 'لاک ڈاؤن کے باعث ہمارے مراکز پر راشن لینے آنے والوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے جبکہ چندہ دینے والے افراد کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔'

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے باعث تھیلیسیمیا کے مریض بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور آمد رفت بند ہونے کے باعث خون دینے والے ڈونر نہیں آرہے ہیں۔ 'ہم نے سول ہسپتال کراچی کے تھیلیسیمیا مرکز کو ایک بس دی ہے تاکہ وہ مختلف علاقوں میں جاکر خون عطیہ دینے کی اپیل کرسکیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان