پہلے کرونا، اب ٹڈی دل: ’فصل بچے گی تو ہی فروخت کریں گے‘

کرونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن سے بلوچستان کے زمیندار پریشان تھے کہ ’کاشت فصل کو کہاں فروخت کریں گے‘، لیکن ٹڈی دل کے حملے نے یہ خطرہ پیدا کردیا ہے کہ ’فصل بچے گی تو ہی فروخت کریں گے۔‘

بلوچستان میں ٹڈی دل کا حملہ گذشتہ سال بھی ہوا تھا اور یہ ایران سے آئے تھے۔(فائل تصویر: اے ایف پی)

بلوچستان کے ضلع نوشکی کے زمیندار محمد اعظم ماندائی اپنی زمینوں پر کاشت فصل میں موجود ٹڈی دل کو روایتی طریقے یعنی ٹین بجا کر بھگانے کے لیے کام کرتے مزدوروں کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ گذشتہ برس کی طرح اس سال بھی ٹڈی دل ان کی فصلوں کو نقصان پہنچائیں گے۔

محمد اعظم کے بقول: ’ایک طرف کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن سے ہم پریشان ہیں اور اب ٹڈی دل نے بھی حملہ کر دیا ہے۔‘

ان کی طرح نوشکی میں سینکٹروں زمیندار ہیں جن کی گندم کی فصل کی کٹائی ہو رہی ہے اور دیگر فصلیں بھی تیار ہونے والی ہیں، تاہم اس دو طرفہ حملے نے انہیں مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔

محمد اعظم کے مطابق: ’بلوچستان میں زمیندار پہلے ہی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کبھی ان کی بجلی بند کر دی جاتی ہے تو کبھی فصلوں کی قیمتیں گر جاتی ہیں لیکن اس بار دو قدرتی آفات نے زمینداروں کو اپنے مستقبل کے حوالے سے خوفزدہ کر دیا ہے۔

نوشکی میں اس وقت زمینداروں نے گندم، زیرہ، پالیزات اور کپاس کاشت کر رکھی ہے۔ بلوچستان میں ٹڈی دل کا حملہ گذشتہ سال بھی ہوا تھا اور یہ ایران سے آئے تھے۔

محکمہ زراعت کے پلانٹ پروٹیکشن شعبے کے مطابق ایران سے متصل علاقوں میں نوشکی، پنجگور، گوادر، چاغی اور ضلع کیچ ٹڈی دل کے حملے سے متاثر ہیں۔ 

نوشکی کے زمینداروں کے مطابق کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن سے رواں سیزن میں ان کے پیاز کی فصل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ گذشتہ سال پیاز کی بوری تین ہزار روپے میں فروخت ہوتی تھی، جس کے نرخ آج 18 سو روپے پر آگئے ہیں۔

محمد اعظم  ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے سپرے مہم سے بھی مطمئن نظر نہیں آتے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نوشکی میں فضائی سپرے کر کے ان کیڑوں کا خاتمہ کیا جائے۔

محمد اعظم کہتے ہیں:  ’ملخ (مقامی زبان میں ٹڈی دل) ابھی بچے ہیں اور پندرہ بیس دن میں یہ بڑے ہوجائیں گے، اگر وسیع پیمانے پر سپرے کیا جائے تو ان کا خاتمہ ہوسکتا ہے لیکن اس وقت جو سپرے کیا جا رہا ہے، اس سے ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔‘

بالغ ٹڈی دل کا رنگ زرد ہوتا ہے جو فصلوں کے لیے نقصان دہ ہے جبکہ انڈوں سے نکلنے والے بچے زمین کے رنگ کے ہوتے ہیں۔

زمیندار ایکشن کمیٹی نوشکی کے اعداد وشمار کے مطابق ضلع میں اس وقت 846 ٹیوب ویل نصب ہیں، جن سے ہزاروں ایکڑ زمینوں پر کاشت کاری کی جاتی ہے۔

نوشکی میں گندم کی کٹائی شروع ہونے والی ہے جبکہ پالیزات اور دیگر فصلیں مئی کے مہینے میں تیار ہوجاتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب ٹڈی دل کو تلف کرنے کے لیے کام کرنے والے محکمہ زراعت کے شعبے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئےکار لا رہے ہیں۔

پلانٹ پروٹیکشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عارف شاہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کو ٹڈی دل کے ایک اور بڑے حملے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

ڈاکٹر عارف شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نوشکی، چاغی اور چند دیگر علاقوں میں ٹڈی دل کا حالیہ حملہ زیادہ خطرناک نہیں۔ یہ ٹڈی دل بالغ نہیں ہیں اور فصلوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

ڈاکٹر عارف شاہ کے مطابق: ’خطرہ ہے کہ ایران سے ٹڈی دل کا ایک بڑا ریلہ آسکتا ہے جو پورے بلوچستان میں پھیل جائے گا۔‘

واضح رہے کہ بلوچستان میں ٹڈی دل کے تلف کرنے کے لیے محکمہ زراعت کی 160 ٹیمیں سپرے کا کام کرنے میں مصروف ہیں لیکن انہیں بعض علاقوں میں کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر عارف شاہ کہتے ہیں: ’ٹڈی دل کو مکمل تلف کرنا ممکن نہیں کیونکہ جب کسی علاقے میں اس کی بالغ نسل حملہ کرتی ہے تو اس علاقے میں انڈے بھی دیتی ہے اور ہمیں اب بھی ان انڈوں سے نکلنے والے ٹڈی دل کے حملوں کا سامنا ہے۔‘

عارف شاہ سمجھتے ہیں: ’ایران سے ممکنہ حملہ یہاں زراعت اور باغبانی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے لیے ابھی سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور اپریل، مئی اور جون کے مہینے اہم  ہیں۔‘

محکمہ زراعت کے اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ سال صرف خاران اور خضدار میں کاٹن کی پیداوار دو ارب سے زائد ریکارڈ کی گئی، جسے ٹڈی دل کے حملے سے بڑے نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔ 

سپرے سے ٹڈی دل کا خاتمہ کس حد تک ممکن ہوا؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر عارف شاہ نے بتایا: ’ہم سپرے کے ذریعے اب تک صرف دس سے 15 فیصد تک خاتمہ کرسکے ہیں۔ اگر مطلوبہ وسائل بروقت مل جائیں تو 70 سے 80 فیصد تک تلف کرسکیں گے۔‘

ادھر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زراعت نے بھی مشرقی افریقہ میں ٹڈی دل کی صورت حال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کینیا، ایتھوپیا اور صومالیہ میں اس کی تعداد بڑھ رہی ہے جو خوراک اور معیشت کے لیے خطرناک ہے کیونکہ اس وقت پودے لگانے کا سیزن ہے۔

رپورٹ کے مطابق بالغ ٹڈی دل کے انڈوں سے نکلنے والے بچے مئی کے مہینے میں کینیا، یوگینڈا، جنوبی سوڈان اور ایتھوپیا پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔

کرونا وائرس کی وبا اور لاک ڈاؤن کے باعث زمیندار پریشان تھے کہ ’کاشت فصل کو کہاں فروخت کریں گے‘، لیکن ٹڈی دل کے حملے نے یہ خطرہ پیدا کردیا ہے کہ ’فصل بچے گی تو فروخت کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت