کیا کرونا کی وجہ سے تھوک سے گیند چمکانے پر پابندی لگ سکتی ہے؟

کرونا کی وبا نے زندگی کے کئی پہلوؤں کو بدل کے رکھ دیا ہے اور اب کرکٹ کا سب سے بنیادی حصہ بھی نظروں میں آ چکا ہے، یعنی گیند کو چمکانا۔

سسیکس کے ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے سوال اٹھایا ہے کہ کھیل بحال ہونے کے بعد کیا کرکٹ کی گیند کو تھوک اور پسینے سے چمکانے کی پرانی روایت جاری رہ سکے گی؟ (فائل تصویر)

کرونا (کورونا) کی وبا نے زندگی کے کئی پہلوؤں کو بدل کے رکھ دیا ہے اور اب کرکٹ کا سب سے بنیادی حصہ بھی نظروں میں آ چکا ہے، یعنی گیند کو چمکانا۔

دنیا جراثیم کے حوالے سے جتنی محتاط اب ہے اتنی کبھی نہیں تھی۔ آسٹریلوی برق رفتار بولر اور سسیکس کے ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے سوال اٹھایا ہے کہ کھیل بحال ہونے کے بعد کیا کرکٹ کی گیند کو تھوک اور پسینے سے چمکانے کی پرانی روایت جاری رہ سکے گی؟

گلیسپی انگلش کاؤنٹی سیزن کی معطلی کے بعد واپس آسٹریلیا آ چکے ہیں۔ اتوار کو گلیسپی نے اس بارے میں سوال اٹھایا، جو اس وبا سے پہلے بھی کئی بار اٹھایا جا چکا ہے کہ بولر اور فیلڈرز جو کہ گیند کو اپنے تھوک سے چمکاتے ہیں۔ جب اس بارے میں سوچا جائے تو یہ 'کافی گندا' محسوس ہوتا ہے۔

آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے ساتھ ریڈیو انٹرویو میں گلیسپی نے کہا: 'میرے خیال میں یہ کوئی انوکھا سوال نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقی سوال ہے اور اس بارے میں سوچنا چاہیے۔ میرے خیال میں کسی چیز کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہر اوور کے اختتام پر امپائر کھلاڑیوں کو اپنے سامنے گیند چمکانے کی اجازت دیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: 'مجھے نہیں پتہ کہ یہ صرف پسینہ ہو سکتا ہے۔ کیا آپ کو صرف پسینہ استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے لیکن اس بارے میں بات ضرور ہو گی۔ اگر آپ اس بارے میں سوچیں تو یہ بہت گندا محسوس ہوتا ہے۔'

گذشتہ مہینے ختم ہونے والے آسٹریلین کرکٹ سیزن کے دوران کئی مقامی کرکٹ ایسوسی ایشنز نے تھوک کے استعمال سے گیند چمکانے کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اس روایت پر پابندی کے سوال پر آسٹریلوی فاسٹ بولر جوش ہیزل وڈ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں گیند کے ساتھ ایسا کرنا 'بہت اہم ہے' اور یہ گیند کی زندگی بڑھا دیتا ہے۔

سوموار کو ایک روزہ کرکٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'سفید گیند کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن ٹیسٹ میچ میں گیند کو نہ چمکانا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ بولرز وکٹ پر گیند کے دائیں بائیں گھومنے پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر آپ 80 اوورز تک گیند کا خیال نہیں رکھتے تو ابتدائی 15 اوورز میں نئی گیند کی چمک ختم ہونے کے بعد بلے بازی کرنی بہت آسان ہو جائے گی۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ