جھگڑا مکمل اور جزوی لاک ڈاؤن کا: کس کی سنیں اور کس کی نہ سنیں؟

حکومت کہتی ہے کہ سارا دن سڑکوں پر مٹر گشتی کرنے والے مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ کرونا کے اعداد وشمار مکمل حقائق کی عکاسی نہیں کرتے اور صورت حال خراب ہو رہی ہے۔ ایسے میں عوام کس کی سنیں؟

راولپنڈی میں لاک ڈاؤن کے دوران ایک حجام اپنے کام میں مصروف ہیں (اے ایف پی)

پاکستان میں گذشتہ چند روز میں کرونا (کورونا) وائرس کے متاثرین کی تعداد میں تیزی آنے کے بعد اس بیماری کے خلاف ہراول دستہ یعنی معالج بھی بظاہر شدید تشویش اور تحفظات کا شکار ہو گئے ہیں۔

کراچی کے ڈاکٹروں نے بدھ کو خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وائرس سے بچنے کی خاطر حکومت کو لاک ڈاؤن سخت کرنے کی ضرورت ہے لیکن حکومتی عہدے داروں نے اس مطالبے کو 'سیاسی کھیل' قرار دے کر نظر اندز کر دیا۔ اب پنجاب میں بھی ڈاکٹروں نے حکومت سے لاک ڈاؤن میں مزید سختی کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت طبی ماہرین کی کیوں نہیں سن رہی؟

پنجاب حکومت کی ترجمان مسرت چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن کسی صورت میں نہیں کیا جائے گا۔ 'حکومت نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔ اب تو باقی دنیا بھی سمارٹ لاک ڈاؤن کی جانب جا رہی ہے۔'

مسرت چیمہ کا کہنا ہے کہ 'پاکستان کی 70 فیصد آبادی بلواسطہ یا بلاواسطہ زراعت سے تعلق رکھتی ہے اور اگر ہم پورا لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو اس آبادی پر برا اثر ہوگا جس سے ملک میں خوراک کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

'جتنی پاکستان کی آبادی ہے تقریباً اتنی ہی لائیو سٹاک ہے جو 15 کروڑ سے زیادہ ہے، جسے تین وقت کا کھانا دینا ہوتا ہے، ان کی فارمنگ ہونی ہوتی ہے، اسی لیے لاک ڈاؤن میں نرمی پیدا کرنی ضروری ہے ورنہ وہ جانور مر جائیں گے یا ان میں بیماریاں آجائیں گی۔ اس کے علاوہ ہماری 12 سو ارب کی گندم تیار کھڑی ہے جس کی کٹائی ہونے والی ہے۔

'مکمل لاک ڈاؤن کا برا اثر گندم کی فصل پر پڑے گا اور اس سے خوراک کا بحران پیدا ہو جائے گا، اسی لیے ہم سمارٹ لاک ڈاؤن کا انتخاب کر رہے ہیں۔'

مسرت چیمہ کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو دو یا ایک کمرے کے چھوٹے چھوٹی یونٹس میں رہتی ہے اور ان کے خاندان کے افراد بھی زیادہ ہیں وہ کہاں سے کھائیں گے؟ کہاں سے کمائیں گے؟ اور ان کا اس طرح گھر پر رہنا بھی خطرناک ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومتی ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'جو کلاس مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر رہی ہے وہ سارا دن سڑکوں پر مٹر گشتی کرتی ہے۔ دفاتر تو بند ہیں اور ہم نے مزدوروں کے لیے تعمیراتی کاموں کو کھولا ہے اور وہاں چند مزدور ہوتے ہیں ان کے درمیان سماجی دوری کو قائم کیا جاسکتا ہے۔ دکانیں ہم نے اس لیے کھولیں کیونکہ عوام بہت زیادہ ہے اور وہ اپنی روزمرہ کی کھانے پینے کی چیزیں لیتے رہیں۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز[یو ایچ ایس] کے وائس چانسلر اور صدر پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ڈاکٹر جاوید اکرم کہتے ہیں سیدھی سی بات ہے کہ اس وقت ہم نے زندگی اور موت کے بیچ انتخاب کرنا ہے۔ ’آپ کی زندگی ہو گی تو معاشی و معاشرتی تقاضے پورے کر سکیں گے۔ ہم حکومت کے موقف کو پوری طرح سمجھتے ہیں لیکن اگر آپ کی زندگی بچ جائے بیشک آپ غریب ہو جائیں گے، روزگار چلا جائے گا یا کچھ اور مگر موقع تو آئے گا کہ آپ پھر سے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں گے اگر آپ زندہ ہی نہیں رہیں گے تو کہانی ویسے ہی ختم ہو جائے گی۔' 

'بدقسمتی سے میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان میں کرونا وائرس عنقریب بہت زیادہ پھیلے گا اور شرح اموات بھی بڑھتی جائے گی اور ہمارا صحت کا نظام بہت نازک ہے، ہم اس سے نمٹنے کی سکت نہیں رکھتے۔'

انہوں نے اٹلی اور جرمنی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے صحت کے نظام میں جو فرق تھا اس کی وجہ سے اٹلی میں 10 گنا اموات زیادہ ہوئیں۔ ’ہمارے ہیلتھ کیئر سسٹم پر تو عام حالات میں بھی بوجھ بہت زیادہ ہے۔ حکومت کے تحفظات اپنی جگہ مگر وہ یہ بھی تو سوچیں کے کرونا پھیلنے کے بعد دوسری جانب کی انتہا کیا ہوگی؟'

ڈاکٹر جاوید اکرم کہتے ہیں کہ ابھی تو کرونا کیسز کی رپورٹنگ ہوئی ہی نہیں۔ ’جو کیس رپورٹ ہو رہے ہیں وہ ٹپ آف دی آئس برگ ہیں۔ حکومت کو اب تک کم از کم 22 لاکھ ٹیسٹ کر لینے چاہیے تھے جبکہ حکومت نے ابھی ہزاروں میں ٹیسٹ کیے ہیں۔ اتنے چھوٹے سیمپل میں ہم کیا اندازہ لگائیں گے کہ کتنے لوگ اس وائرس سے متاثر ہیں؟'

اپاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن [پی ایم اے] لاہور کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی نے بھی حکومتی ترجمان کی نفی کی اور کہا 'ہم اس وقت ہائی ٹائم پر ہیں کیونکہ عالمی ادارہ صحت اور وزیر اعظم کے مشیر خاص ڈاکٹر ظفر مرزا بھی کہہ رہے ہیں کہ اگلے دو سے تین ہفتے ہمارے لیے خوف ناک ہیں۔ وزیر صحت سندھ نے بھی کہا کہ ہسپتال بھر گئے ہیں۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو اس بات کا عندیہ دے رہی ہیں کہ ہم جلد کسی بڑی مصیبت میں پھنسنے والے ہیں۔‘

ڈاکٹر نظامی کا کہنا ہے کہ اس وقت 80 فیصد لوگ ایسے ہیں جن میں کرونا کی علامات ظاہر ہی نہیں ہوئیں۔ 'اس پھیلاؤ کو روکنے کی صرف دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ 60 سے 70 فیصد آبادی کا ٹیسٹ کریں اور پھر ہم بتائیں کہ کتنے لوگ اس وائرس سے متاثر ہوئے۔ ہم نے اب تک جو ٹیسٹ کیے اس میں 10 فیصد لوگوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان میں وائرس پایا گیا۔ اب اگر اس 10 فیصد کو ہم 22 کروڑ سے ضرب دیتے ہیں تو تعداد ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں جاتی ہے اور اسی طرح شرح اموات بھی بڑھے گی۔'

’دوسری صورت یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کو سخت کیا جائے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ باقی کی دنیا اس وقت سمارٹ لاک ڈاؤن پر جا رہی ہے جب وہ اس سٹیج سے گزر چکے ہیں۔ ہم تو اس سٹیج پر ابھی آئے ہی نہیں ہیں۔'

دوسری جانب گرینڈ ہیلتھ الائنس اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر سلمان حسیب نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے کہا کہ  'اگر حکومت سمارٹ لاک ڈاؤن برقرار رکھتی ہے تو یہ پوری قوم کو برباد کرنے کے مترادف ہوگا۔ ’پنجاب میں طبی سہولیات اور انتظامیہ، ملک میں سب سے بدتر ہے۔‘

ڈاکٹر سلمان حسیب کا کہنا ہے کہ 'حکومت کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کا کرونا وائرس کے خلاف جو سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول ہے وہاں پر ہم 10 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں اور دفتر بند ہے۔ نہ سیکرٹری آ رہے ہیں نہ کوئی اور کام ہو رہا ہے اور ایسا ہماری وجہ سے نہیں۔ ہم تو وہاں انتظار گاہ میں بیٹھے ہیں۔'

حکومت کا الزام ہے کہ سیاسی پس منظر رکھنے والے ڈاکٹر مکمل لاک ڈاؤن کی بات کر رہے ہیں۔ اب ایسے میں عوام پھر سے ابہام کا شکار ہیں کہ کون سچ کہہ رہا ہے اور کون نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست