اسلام آباد راؤنڈ اپ: کرونا وائرس تمام سیکٹرز میں پہنچ چکا ہے

اسلام آباد کے شہری تو لاک ڈاؤن پر عمل کر رہے ہیں مگر شہر کے نواحی علاقوں اور راول پنڈی میں لوگ اسے زیادہ اہمیت نہیں دے رہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یکم مئی تک 343 افراد میں کرونا (کورونا) وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ چار اموات ہوئی ہیں۔

اسلام آباد میں کرونا وائرس کا پہلا مثبت کیس 14 مارچ کو سامنے آیا تھا اور تقریباً ڈیڑھ مہینے میں یہ مہلک وائرس اسلام آباد شہر کے سیکٹرز کے علاوہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کے مختلف قصبوں اور دیہات میں پھیل چکا ہے۔

اسلام آباد شہر میں متاثر ہونے والے سیکٹرز میں آئین ٹین سرفہرست ہے، جہاں سے کرونا وائرس کے 30 مثبت کیس رپورٹ ہوئے۔

گذشتہ روز آئی ٹین کے دو سب سیکٹرز (ون اور فور) کو سیل کر کے رہائشیوں کو اپنے اپنے گھروں تک محدود کر دیا گیا تھا۔

اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق آئی ٹین کے علاوہ وفاقی دارالحکومت کے 20 دوسرے سیکٹرز میں بھی کرونا وائرس پہنچ چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح شہر کے نواح میں واقع بارہ کہو کا علاقہ کرونا وائرس کے مثبت کیسز کے حوالے سے پورے آئی سی ٹی میں سر فہرست ہے، جہاں مجموعی طور پر 32 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

اسلام آباد کا ایک اور نواحی علاقہ ترلائی میں مثبت کیسز کی تعداد 31 ہے۔

لاک ڈاؤن کے حوالے سے اسلام آباد میں صورت حال نسبتاً بہتر ہے۔ مارچ میں لاک ڈاؤن سے متعلق اعلانات کے بعد اسلام آباد شہر میں تین سے چار ہفتوں تک تقریباً مکمل لاک ڈاؤن دیکھنے میں آیا۔

اسلام آباد شہر کی آبادی کی اکثریت ملک کے دوسرے شہروں سے آنے والوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے لاک ڈاؤن کے اعلانات کے فوراً بعد ان لوگوں کی اکثریت اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلی گئی، جس کے باعث شہر کی آبادی میں کمی واقع ہو چکی ہے۔

دفاتر اور کاروباری مراکز بند ہونے کے باعث اسلام آباد شہر میں لاک ڈاؤن پر تقریباً مکمل عمل کیا گیا۔

تاہم شہر کے گردو نواح میں واقع قصبوں، دیہاتوں اور کالونیوں میں لاک ڈاؤن کچھ کم نظر آیا اور لوگ گھروں سے باہر نکلتے دکھائی دیے۔ اسی طرح اکثر مقامات پر کاروباری مراکز اور چھوٹی بڑی مارکیٹیں بھی کھلی رہیں۔

اسلام آباد سے متصل راولپنڈی شہر میں بھی لاک ڈاؤن پر کچھ زیادہ عمل نظر نہیں آیا۔

شہری عام طور پر رش والے مقامات پر جانے سے نہیں کترائے جبکہ اکثر مقامات پر کاروباری مراکز بھی کھلے رہے۔ سڑکوں پر ٹریفک کی صورت حال بھی لاک ڈاؤن میں لوگوں کی عدم دلچسپی کا احوال سناتی رہی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان