مجھے کرونا وائرس ہوا تو رشتہ دار عیب زدہ سمجھنے لگے: نرس امبر

ملیے کرونا وائرس کا شکار ہونے والی نرس امبر شفیع سے، جو قرنطنیہ میں رہنے کے بعد ڈیوٹی پر واپسی آ چکی ہیں اور وبا سے لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔

میں دنیا کو پیغام دیتی ہوں کہ کرونا وائرس سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے:امبر شفیع (تصویر بشکریہ امبر شفیع)

عالمی ادارۂ صحت نے 2020 کو نرس اور مڈوائف کا سال قرار دیا ہے۔ اسی کی مناسبت سے انڈپینڈنٹ اردو نے ایک خصوصی سیریز تیار کی ہے۔ مندرجہ ذیل رپورٹ اسی کا حصہ ہے۔ 

دنیا بھر میں پھیلی کرونا (کورونا) وبا میں نرسیں فرنٹ لائن ورکر ہیں اور مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران ان میں سے کئی نرسیں خود بھی اس بیماری کا شکار ہوئیں۔

ملتان کی تحصیل شجاع آباد سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ امبر شفیع بھی ایک ایسی نرس ہیں، جو کووڈ۔19 بیماری کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہو گئی ہیں۔

امبر کے مطابق وہ نشتر ہسپتال، ملتان میں معمول کی ڈیوٹی پر تھیں کہ آئسولیشن وارڈ میں کرونا وائرس کا ایک مشتبہ مریض داخل ہوا۔

مریض کے نمونے ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھیجے گئے۔ تاہم ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) نہ ہونے کے باعث امبر کو دو دن تک اس مریض کا درجہ حرارت لینا اور دیگر طبی امداد بغیر حفاظتی دستانوں کے دینا پڑی۔

وہ بتاتی ہیں کچھ دن میں مریض کے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی، جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے وارڈ میں ڈیوٹی کرنے والے تمام ڈاکٹرز، نرسوں اور عملے کو قرنطنیہ میں رکھ دیا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب کے سابق صدر ڈاکٹر اظہار چوہدری کے مطابق صوبے میں اب تک 545 ڈاکٹر، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ 

امبر کے مطابق: ’ہمارے ٹیسٹ لیبارٹری بھجوائے گئے۔ اگلے دن رپورٹ آئی تو پتہ چلا مجھ سمیت تین نرسوں، ایک ڈاکٹر اور عملے کے ایک اور فرد میں کرونا وائرس پایا گیا ہے۔ یہ سن کر میرے تو جیسے پاؤں کے نیچے سے زمین سی نکل گئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتی ہیں کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان میں کرونا وائرس اُس مریض سے منتقل ہوا جو ان کے وارڈ میں آئسولیٹ تھے تو انہیں مریض کی حالت سے حوصلہ ہوا کیونکہ اس مریض کی حالت خراب نہیں تھی بلکہ وہ صحت مند لوگوں کی طرح کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا تھا۔

امبر نے کہا: ’لیکن اس کے اہل خانہ بہت پریشان تھے، جو اس سے فون پر باری باری بات کرتے۔ جب وہ مریض بچوں سے بات کرتا تو اس کے آنسو نکل پڑتے۔ جب مجھے بھی یہ خیال آیا کہ اب اکیلے رہنا پڑے گا تو بہت رونا آیا۔‘

ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد 11 اپریل کو امبر اور ان کے ساتھی عملے کو ملتان سے 50 کلومیٹر دور انڈس ہسپتال مظفر گڑھ منتقل کر دیا گیا۔

جب اپریل میں انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے پہلی بار بات کی تھی تو ان کو قرنطنیہ میں ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ اب وہ بالکل صحت یاب ہیں اور کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد آٹھ مئی سے انہوں نے نشتر ہسپتال میں اپنی ڈیوٹی جوائن کر لی ہے۔

امبر بتاتی ہیں کہ کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد وہ بہت پریشان تھیں اور دو دن مسلسل روتی رہیں کیونکہ انہیں ایسا لگتا تھا کہ جیسے ان میں کوئی مستقل معذوری ہو گئی ہے اور اس کے مستقل گہرے اثرات ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گھر والوں سے فون پر بات کرتے ہوئے انہیں معلوم ہوا کہ خاندان کے بعض لوگ اب انہیں عیب زدہ سمجھنے لگے ہیں اور ان کی حالت پر تنقیدی ہمدردیوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسے رویوں سے انہیں بہت مایوسی ہوئی۔

امبر کے مطابق جب انہوں نے دو دن آئسولیشن میں گزار لیے اور علیحدگی میں مختلف خیالات آئے تو انہوں نے خود کو بہت مضبوط پایا۔

وہ بتاتی ہیں کہ جب ان کے مریض کو کرونا کی تشخیص نہیں ہوئی تھی تو اس دن وہ ڈیوٹی ختم کر کے گھر گئیں اور اگلے دن شب برات کا روزہ بھی رکھا تھا، جس میں انہیں تھکن اور کمزوری محسوس ہوئی۔ تاہم جب مریض کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تو انہیں لگا کہ شاید ان کو وہ کیفیت بھی کرونا وائرس لاحق ہونے کی بعد کی تھی۔

امبر نے کہا کہ اب وہ تجربے سے کہہ سکتی ہیں کہ کرونا وائرس سے ڈرنے کی بجائے اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کردار ادا کریں۔ ’میں چاہتی ہوں کہ کوئی ایسا ذریعہ ہو کہ میں اپنا پیغام دنیا تک پہنچا سکوں کہ کرونا وائرس سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے۔‘

متاثرہ اہل خانہ

نشتر ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں امبر کے دو بھائی بھی داخل ہیں، جنہیں ممکنہ طور پر امبر سے ہی کرونا وائرس لاحق ہوا۔

امبر کے مطابق مریض کی تشخیص ہونے اور ان سمیت عملے کے قرنطینہ میں جانے سے پہلے تک وہ ڈیوٹی کے بعد گھر جاتی رہیں۔ ان کے دو بھائی مختلف اوقات میں موٹر سائیکل پر انہیں ہسپتال چھوڑتے اور گھر واپس لے جاتے رہے۔

’بس اسی دوران شاید ان کو کرونا وائرس لاحق ہو گیا۔ ان کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی جبکہ ان کے بیوی بچوں اور میری دیگر دوست لڑکیوں میں، جن سے اس دوران میں ملی، کرونا ٹیسٹ منفی آئے۔‘

امبر کے مطابق جب وہ آئسولیشن میں تھیں تو انہیں یہ سوچ کر رونا آتا تھا کہ جس وارڈ میں وہ ڈیوٹی کرتی تھیں وہیں ان کے دونوں بھائیوں کو آئسولیشن میں اکیلے اکیلے رکھا گیا۔

ان کو یہ پچھتاوا بھی ہے کہ ان کی وجہ سے ان کے بھائی بھی عارضی مشکلات میں پڑ گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس تمام مشکل وقت میں انتظامیہ اور نرس ساتھیوں نے ان کا مکمل خیال رکھا، جس پر وہ ان کی مشکور ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت