کرونا سے انتقال: 'میجر اصغر کو افغان اہلکار پیار سے اپنا افسر کہتے تھے'

ترجمان آئی ایس پی آر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں طورخم بارڈر پر تعینات میجر اصغر کی کرونا وائرس کے نتیجے میں موت کی تصدیق کی تھی۔

میجر اصغر نے لواحقین میں بیوی، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں (آئی ایس پی آر)

'میں نے میجر محمد اصغر کے ساتھ کافی عرصہ طورخم بارڈر پر کام کیا اور اس دوران ہمیشہ ان کو ہنس مکھ اور خندہ پیشانی سے ملنے والا انسان پایا۔ بارڈر پر موجود افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار انہیں پیار سے کہتے تھے کہ میجرصاحب پاکستان کے نہیں ہمارے افسر ہیں۔'

کرونا (کورونا) وائرس کے باعث انتقال کر جانے والے پاکستانی فوج کے میجر اصغر کے بارے میں یہ الفاظ ان کے ساتھ کام کرنے والے ایف سی کے ایک جوان نے ادا کیے، جنہوں نے طورخم بارڈر پر ان کے ساتھ ڈیوٹی انجام دی تھی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں دوران ڈیوٹی میجر اصغر کی کرونا وائرس کے نتیجے میں موت کی تصدیق کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

37 سالہ میجر اصغر نے لواحقین میں بیوی، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب 34 رجمنٹ سے تھا۔ وہ آج کل ایف سی کے 143 سی ایس ونگ میں تعینات تھے اور طورخم بارڈر پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔

بنیادی طور پر ان کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تھا لیکن ان دنوں وہ کراچی میں رہائش پذیر تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق میجر اصغر کو سانس اور کھانسی کی تکلیف ہوئی، جس کے بعد انہیں پشاور کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کیا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے۔

میجر اصغر کے ساتھ کام کرنے والے ایف سی کے ایک جوان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہفتے کی شام ان کو سانس اور کھانسی کی تکلیف شروع ہوئی، جس پر انہیں ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے آرمی ہسپتال پہنچایا گیا، تاہم وہاں ان کی حالت بگڑی تو انہیں پشاور کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

میجر اصغر کے ساتھ گزرے چار گھنٹے

دسمبر 2019 میں انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم کے ساتھ راقم الحروف کو طورخم بارڈر پر ایک رپورٹ بنانے کے لیے جانا تھا۔

اس موقع پر میجر اصغر نے مجھ سے رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ 'تمام تر انتظامات مکمل ہیں اور آپ یہاں پہنچ کر ہمارے مہمان ہوں گے۔'

طورخم بارڈر پر چھوٹی داڑھی اور بلند قامت کے حامل میجر اصغر دفتر کے گیٹ پر کھڑے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ وہ ہم سے ایسے ملے جیسے کئی برسوں سے جانتے ہوں۔

میجر اصغر کے ساتھ گزرے ان چار گھنٹوں کے دوران ہم نے طورخم بارڈر پر موجود کسٹم ٹرمینلز کا دورہ بھی کیا۔

اس دوران جب بھی وہاں پر کوئی سپاہی ان کو دیکھتا تو وہ یوں گپ شپ لگاتے جیسے سارے اہلکار ان کے قریبی دوست ہیں۔

(تصویر: اظہار اللہ)


ہم بارڈر کے زیرو پوائنٹ پر پہنچے تو وہاں پر سپاہی افغانستان سے آئی ہوئی ایک بیمار خاتون کی ضروری دستاویزات چیک کر رہے تھے۔

میجر اصغر خاتون کے تیماردار کے پاس گئے تو انہیں پتہ چلا کہ خاتون کی حالت ٹھیک نہیں۔ یہ جاننے پرانہوں نے جانچ پڑتال کا عمل مختصر کرتے ہوئے پاکستان کی طرف موجود ایمبولینس کو بلایا اور انہیں فوراً قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔

ہم نے وہاں پر ایک اور واقعہ بھی دیکھا۔ ایک نوجوان افغان خاتون، جو پشاور کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں،جب ٹرمینل پر آئیں تو انہیں پتہ چلا کہ ان کے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہوگئی ہے۔

میں اس وقت میجر اصغر کے ساتھ کھڑا تھا، جب ایک سپاہی خاتون کو لے کر میجر اصغر کے پاس آیا۔ رات کے تقریباً آٹھ بج رہے تھے اور وہ خاتون رو رہی تھیں۔

انہوں نے میجر اصغر سے مدد کی درخواست کی تاکہ وہ افغانستان جا کر اپنے گھر والوں سے مل سکیں، جس پر انہوں نے سپاہی کو حکم دیا کہ خاتون سے افغانستان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی کاپیاں لے کر انہیں جانے دیا جائے۔ 

میجر اصغر نے میری طرف دیکھتے ہوئے بتایا: 'بارڈر پر ایسے بہت سے کیسز آتے ہیں لیکن ہم بندے کی مجبوری دیکھ ان کی مدد ضرور کرتے ہیں۔'

ہمارے کیمرہ مین نے جب ریکارڈنگ مکمل کی تو رات کے 10 بج رہے تھے۔ میجر اصغر مجھ سے کہنے لگے: 'اگر آپ کا کام مکمل نہیں ہوا ہے تو میں یہی ہوں اور کسی بھی مدد کے لیے حاضر ہوں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان