ان عورتوں کا قتل نہ ہو تو کیا ہو؟

ابھی کوہستان ویڈیو کا معاملہ ختم نہیں ہوا تھا کہ سنا ہے وزیرستان میں ایک اور جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

فائل فوٹو (روئٹرز)

گذشتہ برس کوہستان ویڈیو سکینڈل کے واحد گواہ اور مدعی افضل کوہستانی کا قتل ہوا تو انسانی حقوق کے کارکنان کو تو جیسے آگ ہی لگ گئی۔ سارے کے سارے ایسے بلبلانے لگے جیسے ان کے اپنے ابا جی وفات پا گئے ہوں۔

ہمارے ہاں تو یہ روز کا کام ہے، ہم اب کس کس کو روتے پھریں۔ ٹھیک ہے وہ کافی عرصے سے حکومت سے تحفظ مانگ رہا تھا، کسی نے کوئی چھوٹی موٹی دھمکی بھی دے دی ہو گی، اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے۔ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں، ایسی چھوٹی موٹی باتوں سے گھبرانا ہمیں زیب نہیں دیتا۔ ویسے بھی ہم غریب ملک ہیں، بڑی مشکل سے کھینچ تان کر گزارا کر رہے ہیں۔ اور یہ لوگ بجائے ملک کا ساتھ دینے کے، ہم سے ڈو مور، ڈو مور کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نا شکرے لوگ۔

اتنا بڑا سا ہمارا ملک ہے اور اس میں اتنے ہی زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ برتن بھی زیادہ ہو جائیں تو کھڑکنے لگتے ہیں، یہ تو پھر جیتے جاگتے انسان ہیں۔ ان کا آپس میں جھڑپنا اور پھر ایک دوسرے کو ہلکا پھلکا مار دینا کون سی انہونی بات ہے؟

عوام کو چاہیے کہ وہ ایسی چیزوں کو زیادہ سر پر سوار نہ کیا کریں۔ سرکار کے کرنے کو اور بڑے کام ہیں۔ سرکار اب ایسے ہر ایک کو انصاف دینے لگ پڑی تو باقی کے کام کب کرے گی؟

افضل کوہستانی کو یہ بات بہت بار سمجھائی لیکن وہ ایسا ڈھیٹ تھا، کچھ سمجھتا ہی نہیں تھا، اس کی زبان پر تو بس ایک رٹ تھی، انصاف، انصاف اور بس انصاف۔

ارے کاہے کا انصاف۔ ایک تو تمہارے بھائی تیار شیار ہو کر کسی کی شادی پر گئے، پھر وہاں چاپ چاپ بیٹھنے کی بجائے ناچنے لگے۔ کسی پرائے کی شادی پر کون اتنا خوش ہوتا ہے اور پھر ناچنے سے پہلے ہمیں بتانا بھی ضروری سمجھا؟ تب تو پرائیویٹ افئیر تھا، اب ایک دم حکومت کی ذمہ داری یاد آ گئی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان لڑکوں کی دیکھا  دیکھی، وہ چاروں لڑکیاں بھی تالیاں پیٹنا شروع ہو گئیں اور گیت بھی گانے لگیں۔ یہ قتل کروانے والی باتیں نہیں تو اور کیا ہیں؟ شریف گھرانے کی لڑکیاں بھلا ایسے تالیاں پیٹتی ہیں؟

اب پتہ نہیں کون اسے گولی مار گیا ورنہ ہم تو انصاف دینے کو تیار بیٹھے تھے۔ خیر وہ قصہ تمام ہوا تو ایک نیا کھل گیا۔ کچھ روز سے شور مچا ہوا ہے کہ وزیرستان میں دو کم عمر لڑکیوں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا ہے۔ ارے ایسا کیا ہو گیا کہ آسمان سر پر اٹھائے بیٹھے ہو۔ موت تو برحق ہے۔ وہ ویسے نہ مرتیں تو کرونا سے مر جاتیں۔ یہ تو قدرت کا اصول ہے جو پیدا ہو گا اسے مرنا بھی ہو گا۔ ہاں موت کا کوئی بہانہ ہو سکتا ہے۔ ان کی موت اسی بہانے لکھی ہوگی، آگئی تو آ گئی، اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟

کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر سال ایک ہزار عورتیں غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔

تو؟

پاکستان میں پولن سے بھی ایک ہزار لوگ مرتے ہیں۔ ابھی ڈینگی آئے گا تو ہزاروں اور مر جائیں گے۔ تم ان ہزار عورتوں کو ہی کیوں رو رہے ہو؟ یہ خود اپنا چال چلن ٹھیک رکھتیں تو آج اپنے اپنے گھروں میں بیٹھی یہ بلاگ پڑھ رہی ہوتیں۔

ہمارے خاندان میں تو کبھی کسی عورت کا غیرت کے نام  پر قتل نہیں ہوا۔ الحمداللہ سب کا چال چلن بالکل درست ہے۔ ہماری عورتیں ایسے ٹھٹھے نہیں لگاتی پھرتیں نہ ہی تالیاں بجاتی پھرتی ہیں۔ ہاں کبھی کبھار ہلکی پھلکی مرمت کی ضرورت پڑ جاتی ہے، وہ بھی چپ چاپ کروا لیتی ہیں، پھر وہی اپنی روٹین۔ 

اس قندیل بلوچ کو ہی دیکھ لو۔ کیسے فیس بک پر اپنی سیلفیاں اپ لوڈ کرتی تھی۔ اتنی دیدہ دلیر تھی، یہاں سے وہاں گھومتی پھرتی تھی، جو جی میں آیا کر دیا، جو جی میں آیا کہہ دیا، بڑے بڑوں کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ سبھی برداشت کر رہے تھے۔ اپنے ہی بھائی کی برداشت ختم ہوئی تو کر دیا کام تمام۔ دوسروں کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھو تو خود غلطی بننا پڑتا ہے۔ قندیل کے ساتھ یہی ہوا۔

پھر دیکھو وہ شرمین عبید چنائے۔ اس نے تو جیسے پاکستان کو بدنام کرنے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ ایسی عورتوں کے تو ہم منہ لگنا بھی پسند نہیں کرتے۔ اس کی وجہ سے ہمیں کچھ تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کے لیے قانون سازی کرنی پڑی۔

یہ جو قندیل کا بھائی جیل میں بیٹھا ہے، اس کے پیچھے اسی قانون کا ہاتھ ہے۔ اب دیکھو یہ بھی تو ہم ہی نے کیا ہے۔ اب تم اپنا کام کرو اور ہمیں اپنے کام کرنے دو۔ زیادہ ہی شور مچانا ہے تو اس مرد کے لیے مچاؤ جو پورا دن اپنے گھر کی ملکہ کے لیے خوار ہوتا پھرتا ہے اور یہ ملکہ ایک قہقہہ لگا کر یا تالی بجا کر اس کی عزت ملیامیٹ کر دیتی ہے۔

اب اس کی سزا تو بنتی ہی ہے۔ نہیں؟

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ