'ایپل سِری نے لاکھوں صارفین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کی'

وہ افراد جنہوں نے 2019 میں انکشاف کیا تھا کہ ایپل کے ٹھیکے داروں نے ورچوئل اسسٹنٹ 'سِری' کی ریکارڈنگ کو صارفین کے علم میں لائے بغیر سنا تھا، منظرعام پر آگئے ہیں۔

اگست 2019 میں   ڈیٹا لیک کی خبر پر   ردعمل کے طور پر ایپل نے اپنے تین ملازمین کو صرف ایک ہفتے کےنوٹس پر نکالتے کہا کہ وہ اپنے آڈیو پروگرام پر نظرثانی کر رہی ہے۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

وہ وِسل بلؤر جنہوں نے 2019 میں انکشاف کیا تھا کہ امریکی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے ٹھیکے داروں نے ورچوئل اسسٹنٹ'سِری'کے صارفین کی ریکارڈنگ کو ان کے علم میں لائے بغیر سنا تھا، منظرعام پر آ گئے ہیں اور انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنی کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے پر احتجاج کیا ہے۔

ان مخبروں نے ڈیٹا کے تحفظ کے ذمہ دار تمام یورپی اداروں کو خط لکھا ہے، جس میں تھامس لے بونیئک نے کہا ہے کہ ایپل نے 'لاکھوں شہریوں کی پرائیویسی کی بہت بڑی خلاف ورزی کی ہے۔'

انہوں نے لکھا کہ اگرچہ اس معاملے کی خبر پہلے ہی عام  ہو چکی ہے لیکن ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی کے خلاف 'میرے علم کے مطابق ابھی تک کسی قسم کی تحقیقات نہیں کی گئیں۔'

آئرلینڈ میں ایپل کے ذیلی کنٹریکٹر 'گلوب ٹیکنیکل سروسز' نے لے بونیئک کی خدمات حاصل کی تھیں۔ انہیں سن کر لکھی گئی تحریروں کی غلطیاں درست کرنے کے لیے صارفین کی ریکارڈنگ سننی پڑی تھی۔ انہوں نے ایپل کے آئی فونز، آئی پیڈز اور ایپل واچز کی ہزاروں ریکارڈنگ کو سنا جن میں سے کئی'سِری کو ایکٹیویٹ کیے بغیر' لی گئی تھیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین اس عمل سے واقف نہیں تھے۔

ایپل کے آلات نے ان کے مالکوں کی ریکارڈنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے رشتے داروں یا بچوں کی گفتگو کو بھی محفوظ کر لیا جنہوں نے اپنے نام، پتے، پیغامات، سرچز اور دلائل ظاہر کیے اور گفتگو کی جبکہ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ سب ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لے بونیئک نے کہا: 'اس میں'سرطان، مردہ رشتہ داروں، مذہب، جنسیت، پورنوگرامی، سیاست، سکول، تعلقات یا منشیات سے متعلق ذاتی معلومات شامل تھیں۔'

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 'ڈویلپمنٹ ڈیٹا' کے ایک اور منصوبے پر کام کرنے والے کارکنوں کو بھی ان ریکارڈنگز تک رسائی حاصل تھی۔ ریکارڈنگ کو صارف کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے ٹیگنگ کے الفاظ کا استعمال بھی اس منصوبے کا حصہ تھا۔ اس میں فون کے کانٹیکٹس، مقام یا موسیقی شامل تھے۔

خط میں کہا گیا: 'دوسرے الفاظ میں وہ عملہ جو اس منصوبے پر متعین کیا گیا تھا اُسے صارفین کی ذاتی معلومات تک رسائی تھی جسےاُس نے سِری کی کمانڈز کے ساتھ جوڑنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی صارف کی پلےلسٹ، روابط کی تفصیل، نوٹس، کیلنڈرز، تصاویر اور نقشے وغیرہ کو بڑے ڈیٹا سیٹوں میں اکٹھا کیا گیا، جنہیں ایپل دوسرے منصوبے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔'

اگست 2019 میں اس خبر پر ردعمل کے طور پر ایپل نے اپنے تین ملازمین کو صرف ایک ہفتے کےنوٹس پر نکالتے کہا کہ وہ اپنے آڈیو پروگرام پر نظرثانی کر رہی ہے۔

لے بونیئک نے کہا: 'اس بات کی تصدیق کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا جس سے تصدیق کی جا سکے کہ کیا ایپل نے واقعی ایسا کیا ہے۔' انہوں نے کہا کہ ذرائع نے انہیں بتایا ہے کہ اپیل نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

اپنے مدمقابل کمپنیوں جیسا کہ گوگل کے مقابلے میں ایپل پرائیویسی کی بات کرتی ہے لیکن مارکیٹنگ کے لیے خاص طور پر سیاسی بنیادوں پر اس قسم کے اصول اپنانے پر اُس پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔

لے بونیئک نے خط میں لکھا: 'میں سمجھتا ہوں کہ ایپل کے بیانات کا مقصد محض صارفین اور سرکاری حکام کو یقین دلانا ہے کہ جب تک قانون کے تحت معلومات حاصل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے انہیں اپنے صارفین کی رضامندی کی فکر ہوتی ہے۔'

جب اس بارے میں تبصرے کے لیے کہا گیا تو اپیل نے ہماری رہنمائی اگست 2019 کی نیوز روم پوسٹ اور اسکی سِری ڈکٹیشن اینڈ پرائیویسی سپورٹ پیج کی طرف کر دی۔

بیان کے لیے کمپنی سے رابطہ کیا گیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی