مرزا شہزاد اکبر کی تقرری بغیر کسی اشتہار کے ہوئی

جسٹس فائز عیسی نے اے آر یو کی قانونی حیثیت، اس کے سربراہ مرزا شہزاد اکبر کی تعیناتی، ان کی اور ان کے اہل خانہ کی شہریتوں اور اثاثوں سے متعلق سوالات اٹھائے۔ ان کے جوابات جانیے انڈپینڈنٹ اردو کی اس رپورٹ میں۔

(ٹوئٹر)

صدارتی کرپشن ریفرنس کا سامنا کرنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے وزیر اعظم آفس میں قائم ایسٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو) اور اس کے انچارج مرزا شہزاد اکبر سے متعلق پندرہ سوالات اٹھائے ہیں۔

جسٹس فائز عیسی اور ان کے اہل خانہ پر بیرون ملک غیر قانونی اثاثہ بنانے اور انہیں اپنے انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام ہے۔ جس متعلق ان کے خلاف کرپشن ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع کیے گئے ایک جواب میں جسٹس فائز عیسی نے اے آر یو کی قانونی حیثیت، اس کے سربراہ مرزا شہزاد اکبر کی تعیناتی اور ان کی اور ان کے اہل خانہ کی شہریتوں اور اثاثوں سے متعلق سوالات اٹھائے۔

جسٹس فائز عیسی نے اے آر یو کی جانب سے سپریم کے ججوں کے خلاف تحقیقات کرنے کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے۔

یاد رہے کہ اے آر یو کی ہی تحقیقات کے نتیجہ میں اکٹھی ہونے والی معلومات کی بنیاد پر جسٹس فائز عیسی کے خلاف کرپشن کا ریفرنس قائم کیا گیا ہے۔

اے آر یو کی تحقیقات سے قومی احتساب بیورو (نیب) بھی مستفید ہو رہا ہے۔ اور کئی سیاستدانوں کے مبینہ طور پر بیرون ملک موجود اثاثوں سے متعلق ریفرنس نیب عدالتوں میں جمع کرائے جا چکے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اے آر یو اور اس کے سربراہ شہزاد اکبر سے متعلق معلومات اکٹھی کیں اور جسٹس فائز عیسی کے اٹھائے گئے کچھ سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی۔

ایست ریکوری یونٹ (اے آر یو)

جسٹس فائز عیسی نے اے آر یو سے متعلق جو سوالات اٹھائے ان میں مندرجہ ذیل سوالات شامل ہیں:

شہزاد اکبر کو کس نے ملازمت پر رکھا؟

کیا ایسٹ ریکوری یونٹ کے چیئرمین کے عہدے کا اشتہار دیا گیا ؟

کیا اثاثہ ریکوری کے چیئرمین کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں؟

کیا شہزاد اکبر کا انتخاب فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوا؟

ان سوالات کے جوابات اے آر یو کے قیام کی کہانی سے بخوبی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جو مندرجہ ذیل ہے۔

اگست 2018 میں جاری ہونے والے کابینہ ڈویژن کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے مرزا شہزاد اکبر کو اپنا معاون خصوصی برائے احتساب مقرر کیا۔

وفاقی کابینہ نے ستمبر 2018 میں ہونے والے دو مختلف اجلاسوں میں کابینہ ڈویژن کے تحت ایسٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو) کے قیام کا فیصلہ کیا۔ اور 19 ستمبر کو اس سلسلہ میں ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعہ اس یونٹ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق اے آر یو کا پہلے سال کا بجٹ چھ کروڑ ستر لاکھ روپے سے زیادہ مختص کیا گیا۔ 

کابینہ کے فیصلے کے دو ماہ بعد (6 نومبر 2018 کو) اے آر یو کے قیام، اراکین اور ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر) سے متعلق ایک دوسرا نوٹیفیکیشن منظر عام پر آیا۔ جس کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کو یونٹ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ اس میں نیب، سٹیٹ بنک آف پاکستان، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اور ایف بی آر کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا۔

اے آر یو کو انٹی منی لانڈرنگ، بین الاقوامی فوجداری قوانین اور دوسرے ماہرین کو بھی شامل کرنے کا اختیار دیا گیا۔

یوں واضح ہوا کہ شہزاد اکبر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کی حیثیت سے  اے آر یو کے سربراہ ٹھہرے۔ اور انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعہ یہ عہدہ تقویض کیا گیا۔

اس سلسلے میں کوئی اشتہار نہیں دیا گیا اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اس سلسلہ میں کسی امتحان کا اہتمام کیا اور نہ کسی دوسرے امیدوار کو اس عہدے کے لیے پرکھا گیا۔

چھ نومبر کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں ہی اے آر یو کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی اور آرز) بھی موجود ہیں۔ تاہم اے آر یو کے سربراہ کی ملازمت کی شرائط و ضوابط کا اس نوٹیفیکیشن میں ذکر نہیں ہے۔

سابق چئیرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اے آر یو کو بہت زیادہ طاقت ور بنا دیا گیا ہے۔ جو حکومتی رولز آف بزنس کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتنے اختیارات وفاقی حکومت کے کسی دوسرے ادارہ کے پاس موجود نہیں ہیں۔

شہزاد اکبر کون ہیں؟

جسٹس فائز عیسی نے مزید پوچھا:

کیا شہزاد اکبر پاکستانی ہیں؟

غیر ملکی ہیں یا دوہری شہریت رکھتے ہیں؟ 

شہزاد اکبر نے اپنے اور اپنے خاندان کے بارے میں کچھ ظاہر کیوں نہیں کیا؟

انہوں نے اپنی جائیداد، اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا؟ 

شہزاد اکبر نے اپنی بیوی اور بچوں کے نام کیوں ظاہر نہیں کیے؟

ان کی بیوی اور بچےکس ملک کی شہریت رکھتے ہیں؟ کیا شہزاد اکبر کی بیوی اور بچوں کی جائیدادیں پاکستان میں ہیں یا بیرون ملک؟

ان سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے شہزاد اکبر کو جاننے والے کچھ لوگوں سے رابطہ کیا۔جس کے نتیجہ میں مندرجہ ذیل معلومات حاصل ہوئیں۔ تاہم واضح رہے کہ بہت نجی معلومات کو اس تحریر میں شامل نہیں کیا جا رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہزاد اکبر کے ایک دوست نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: شہزاد اکبر بالکل پاکستانی ہیں۔ میں ان کا پاسپورٹ دیکھ چکا ہوں۔ اور وہ پاکستانی شہری ہیں۔

ان کا تعلق پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل گوجر خان (ضلع راولپنڈی) سے ہے۔

معاون خصوصی برائے احتساب کے ایک دوسرے دوست نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ شہزاد کا تعلق گوجر خان کے ایک مڈل کلاس معزز گھرانے سے ہے۔ جہاں ان کی کچھ جائداد بھی موجود ہے۔

شہزاد اکبر لاہور لا سکول کے علاوہ جاتی امرا میں قائم شریف ایجوکیشنل کمپلیکس میں بھی زیر تعلیم رہے ہیں۔ جبکہ انہوں نے برطانیہ کی مشہور یونیورسٹی لنکن ان سے بار ووکیشنل کورس (بار ایٹ لا ) کی تعلیم مکمل کی۔ جس کے بعد وہ لاہور میں وکالت کرتے رہے ہیں۔ وہ کچھ عرصہ قومی احتساب بیورو سے بھی منسلک رہے۔

2010 میں ان کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی واقع ہوئی۔ جب ان کی ملاقات 2009 میں شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ کے نتیجہ میں چھوٹے بھائی اور چچا کو کھو دینے والے کریم خان سے ملے۔ شہزاد اکبر کریم خان کی کہانی سے اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ وہ ڈرون حملوں کے متاثرین کے حقوق کی جنگ کے لیے فاونڈیشن فار فنڈمینٹل رائٹس کے نام سے ایک ادارہ قائم کرتے ہیں۔

ان کے ایک دوست کا خیال ہے کہ یہی وہ دن تھے جب شہزاد اکبر کا تعارف عمران خان سے ہوا۔

یاد رہے کہ عمران خان بھی پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی مخالفین میں شامل رہے ہیں۔ 

لاہور لا کالج میں شہزاد اکبر کے ایک جونئیر طالب علم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: شہزاد قابل انسان ہیں۔ اپنا کام بخوبی جانتے ہیں۔ اس کی سمجھ رکھتے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں وہ کیا کہہ رہے ہوتے ہیں۔

شہزاد اکبر کی اہلیہ غیر ملکی ہیں۔ اور ان کی دو صاحبزادیاں ہیں۔ ان کی شادی لندن میں قیام کے دوران ہوئی تھی۔

جب اس سلسلے میں شہزاد اکبر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایک وکیل کی حیثیت سے مخصوص ضابطہ اخلاق کے پابند ہیں اور ہر عدالتی عہدے کا بے احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے اٹھائے گئے سوالوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور ان کا جواب صرف عدالت میں دیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان