نواز شریف برنگِ غالب

جیل میں کچھ ہی دن گزرے تھے کہ حاکم شہر کو فساد کا خوف لاحق ہوا اور اس نے چاہا کہ میں کسی اور قریے چلا جاؤں۔ پر میں اپنی ہٹ پر اڑے رہا۔ ازاں بعد جب ’حبس بجا‘ کے باعث میری صحت بگڑی توکار زارِسیاست میں غدر مچ گیا۔

(پکسابے)

میں غریب و شریف چالیس برس سے سیاست کرنے اور قوم کواصلاح دینے پر متعلق ہوا ہوں۔ خواہ اس کو ’خدمت‘ سمجھو، خواہی، سیاست‘ جانو، اس فتنہ و آشوب میں کسی مصلحت میں، میں نے دخل نہیں دیا۔ صرف ‘قوم‘ کی خدمت بجا لاتا رہا
صلے اور تمنا کی ستائش کے بغیر۔
عمران نامی ایک شخص کہ ساتھ نام کے خان لکھتا ہے، عرفیت اس کی نیازی ہے اور جس پر میرے بہت سے احسانات ہیں، حاکم شہر ہوا تو اس نے میرے احسانوں کا بدلہ یوں چکایا کہ بہت سے لوگوں کومیری مخبری پر مامور کر دیا۔ چونکہ میری طرف بادشاہی دفتر میں سے یا مخبروں کے بیان سے ’بہت سی باتیں‘ پائی گئیں، لہٰذا طلبی ہوئی، جہاں بڑے بڑے جاگیر دار مثل آصف زرداری بلائے ہوئے یا پکڑے ہوئے آئے، میری (یعنی ایک صنعت گر کی) کیا حقیقت تھی؟ غرض میری بھی روبکاری ہوئی۔
 نیب میں، جہاں میری پیشی تھی، کئی سارجن میری جان پہچان کے تھے کہ بیشتر کو میں نے ہی ملازم رکھوایا تھا لیکن سب نےمجھ کو دیکھتے ہی ’شہباز‘ کی طرح آنکھیں دور فضا میں گاڑھ لیں۔
ازاں بعد ان میں سے ایک نے کہ شکل جس کی ممولے سے ملتی جلتی تھی اور جو ریاست بھوپال کی نواب ممولہ بیگم کی طرح امورِ سلطنت میں خاصارسوخ رکھتا تھا، مجھ سے صاحب سلامت کے بعد پوچھا کہ تم اب بھی سمجھتے ہو کہ تم حکمران ہو؟
میں نے کہا: ’آدھا۔‘
اس نے کہا: ’بٹ صاحب! آدھا حکمران کیسا؟‘
میں نے کہا: ’عوام اب بھی مجھے چاہتے ہیں۔ لیکن خلائی مخلوق نہیں چاہتی۔‘
خلائی مخلوق کے نام پر اس نےماتھے پر بل ڈالے اورحضور جج میں میری شکایت کی۔ جج نے سنتے ہی ایک فرنگی طرز کا مرصع قلم، جو مور کے پنکھ کا نہیں تھا، کاغذ پر گھسیٹااور میرے جیل جانے کا پروانہ جاری کر دیا۔
 جیل میں بہت تنہائی تھی اور پابندی اس پر مستزاد، سوار ہونا اور کہیں جانا تو بہت بڑی بات ہے، مجھے تو ٹھنڈی مشین تک نہیں دی گئی جو میرا استحقاق تھی۔
 رہا یہ کہ کوئی میرے پاس آوے، شہر میں تھا ہی کون جو آتا جاتا؟ بیشترحباب مثل سعد رفیق، پکڑے گئے، باقی مثل شہباز شریف جو بارگاہِ مخلوقِ خلائی میں رسوخ رکھتے تھے یوں آنکھیں پھیر لیں جوں حاکم شہر نے انصاف سے۔ بے وفائی کسی بھی ہو دل برا کرتی ہے لیکن شہباز کہ میرا برادرِ خورد ہے اس کی بے وفائی نے مجھ نحیف پر وہ ستم ڈھائے کہ یہ بات اپنے عقیدے میں شامل ہو گئی ہے کہ سگ باش برادرِ ’کلاں‘ مباش۔
خیر ایک دخترنیک اختر تھی، مریم نام کی، جسے ظالموں نے میرے ساتھ ہی بند کر رکھا تھا۔ میرے چاہنے والوں کے گھر کے گھر بے چراغ پڑے تھے۔
جیل میں کچھ ہی دن گزرے تھے کہ حاکم شہر کو فساد کا خوف لاحق ہوا اور اس نے چاہا کہ میں کسی اور قریے چلا جاؤں۔ پر میں اپنی ہٹ پر اڑے رہا۔ ازاں بعد جب ’حبس بجا‘ کے باعث میری صحت بگڑی توکار زارِسیاست میں غدر مچ گیا۔
غدر کے ان دنوں میں، سب نے بہت چاہا کہ میں جیل سے نکل جاؤں تاکہ دوبارہ پکڑا جاؤں لیکن میں نہ جیل سے نکلا، نہ پکڑا گیا، نہ میری دوبارہ روبکاری ہوئی۔ جیل کی جس فرنگی طرز کی بارک میں مجھے رکھا گیا تھا وہیں بدستور بیٹھا رہا۔
میرے دو لڑکے کہ ولایت میں تھے انھوں نے وہیں سے برقی پیغامات بھیجنے شروع کر دیے کہ اور نہیں تو کم سے کم خاندانی حکیم کے ہاں تو چلے چلوں ولیک میں تب تک نہ مانا جب تک کہ میری دختر نیک اخترنے مجھے آمادہ نہ کر لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کی آمادگی میں میرا پروانۂ رہائی جاری ہوا اور وہ مجھے میرے خاندانی معالج کے پاس لے گئی، جس کا مطب رائے ونڈ کے اسی محلے میں تھا جہاں میراگھر ہے۔ معالج نےمیری ’دکھتی نبض‘ ٹٹولی اور ادویہ تجویز کیں۔ ساتھ ہی آرام کا مشورہ دیا اور تاکید کی کہ آرام کے لیے جیل کی ہوا مناسب نہیں سو گھر پر آرام کریں۔ ناچارکچھ دن مجھےگھر پر ہی رہنا پڑا۔
ایک دن میں اپنے گھر میں گاؤ تکیے لگائے بیٹھا تھاکہ ناگاہ آٹھ سات دروغے پیغام لے کر آئے کہ آپ کا علاج قریۂ فرنگ ہی میں ممکن ہے اور یہ کہ حاکم وقت کی بھی خواہش ہے کہ آپ بغرض علاج وہاں تشریف لے جائیں۔ پہلے تو میں نہ مانا ولے جب انھوں نے اصرار کیا تو ان کا حکم مانتے ہی بنی۔
اب یہاں قریۂ افرنگ میں، جہاں میرے دونوں لڑکے بھی موجود ہیں، میں دنیا داری کے لباس میں فقیری کر رہاہوں، لیکن فقیر آزاد ہوں، نہ شیّاد، نہ کیّاد۔
ستر برس کی عمر ہے، بے مبالغہ کہتا ہوں کہ وفا میں شاہد خاقان عباسی، جفا میں شہباز شریف اور انا میں چودھری نثارکی مثال لانا امرِ محال ہے۔ یہ تین لوگ تین فن میں سرِ دفتر اور پیشوا ہیں۔ وفا میں کمال یہ ہے کہ بندہ شاہد خاقان عباسی کو چھو جائے، جفا کی انتہا یہ ہے کہ آدمی شہباز شریف بن جائے، انا کی نمود یہ ہے کہ چودھری نثارکی ہم طرحی نصیب ہو۔
بھئی ’بٹ بچے‘ بھی غضب ہوتے ہیں، جس پر مرتے ہیں، اس کو مار رکھتے ہیں۔ میں بھی بٹ بچہ ہوں۔ عمر بھر میں ایک بڑی ستم پیشہ ڈومنی کہ نام جس کا ‘دولت‘ بی بی ہے، کو میں نے بھی مار رکھا ہےاور اسی کے سہارے عالم رنگ و بو کی سیر کر رہا ہوں۔
ابتدائے شباب میں ایک مرشد کامل کہ اسم شریف ان کا ضیاء الحق تھا اور جن کی شہادت عوام الناس کے نزدیک متنازع ہے، اور جن کے مزار پر یوں خاک اڑتی ہے جوں میرے دلِ خانہ خراب میں۔ ان نے مجھ کو یہ نصیحت کی تھی کہ ہم کو زہد و ورع منظور نہیں، ہم مانع فسق و فجور نہیں، پیو، کھاؤ، مزے اُڑاؤ، مگر یاد رہے کہ کبھی پکڑے نہ جاؤ، میں اس نصیحت پر عمل پیرا نہ ہو سکا۔ سو اب اس کا بھگتان بھگت رہا ہوں۔
مانا کہ میرے بہت سے ہم دم و غم گسار پکڑے گئے لیکن کسی کے پکڑے جانے کا وہ غم کرے جو آپ نہ پکڑا جائے، کیسی اشک افشانی؟ کہاں کی مرثیہ خوانی؟
میں جب بہشت کا تصور کرتا ہوں اورسوچتا ہوں کہ اگر مغفرت ہو گئی اور ایک قصر ملا تو میں کہ جس کی ساری عمر قصر شاہی میں گزری، بہشت کے ایک قصر عام میں کیسے گزارہ کرے گا۔ اس تصور سے جی گھبراتا ہے اور کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سو جیے جاتا ہوں۔
منحصر ہو جس کی ’جینے‘ پر امید
’پُر‘ امیدی اس کی دیکھا چاہیے
اس پر امیدی کا باعث بھی ہے۔ وہ یہ کہ خان سے کیا عجب ہے کہ کسی دن میری بابت بھی یو ٹرن لے اور مجھ کو خانۂ خدا کے طواف کی رخصت دے کہ یہ گنہ گار وہاں جاوے اور اگر زیست ہے تو وہاں جا کر اپنے ستر برس کے گناہ کہ جن میں سوائے کرپشن کے سب شامل ہیں، بخشوا کر پھر آوے اور سیدھا قصرِ شہنشاہی سدھارے۔
بندۂ نحیف
نواز شریف

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ