سابق استانی کو ’کرونا کی قاتل‘ کیوں کہا جا رہا ہے؟

بھارت کی ریاست کیرالہ کو کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں رول ماڈل قرار دیا جا رہا ہے جس کی بڑی وجہ اس کی وزیر صحت کے کے شیلجا ہیں۔

کے کے شیلجا کو بہت سے خطابات سے نوازا جا رہا ہے  (تصویر: وکی پیڈیا)

بہت سے لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ باقاعدہ انتخابات جیت کر دنیا کی پہلی کمیونسٹ حکومتوں میں سے ایک روس یا چین میں نہیں بلکہ بھارت کی ریاست کیرالہ میں 1957 میں قائم ہوئی اور آج بھی اس ریاست میں کمیونسٹ پارٹی برسرِ اقتدار ہے۔

بھارت میں کرونا (کورونا) وائرس کا سب سے پہلا کیس کیرالہ ہی میں دیکھنے میں آیا، لیکن اس کے بعد ریاستی کمیونسٹ حکومت نے اس خطرناک عالمی وبا کی جنگ میں جو کردار ادا کیا ہے، اسے ساری دنیا میں سراہا جا رہا ہے، خاص طور پر ریاستی وزیرِ صحت کے کے شیلجا کو ’راک سٹار‘ کہا جا رہا ہے۔

کیرالہ وہ ریاست ہے جہاں تعلیم کی شرح سو فیصد ہے اور یہ بھارت کی پہلی ریاست ہے جس نے 2017 میں ہر گھر تک بجلی پہنچا کر پورے کیرالہ کو روشن کیا اور اُن پہاڑیوں میں بجلی کی سہولت عوام تک پہنچائی جہاں تک بجلی پہنچانی ناممکن تھی۔

یہاں پر ہندو مسلم فساد بھی نہ ہونے کے برابر ہے، بلکہ یہاں کے بہت سے ہندو بھی گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ یہاں چھوت چھات والے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی سرکاری مشینری سے کام لیا جا رہا ہے۔

دوسرے شعبوں کی طرح یہاں صحت کا شعبہ بھی توانا ہے۔ کرونا کی وبا نے جب پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا، تب کیرالہ کی اس ریاست میں بھی کرونا کے بادل منڈلائے لیکن یہاں کی حکومت اور خاص کر وہاں کی وزیرِ صحت کے کے شیلجا نے 20 جنوری کو ماہرین سے میٹنگز کرنا شروع کر دی تھیں کہ کیا یہ وائرس ہمارے پاس بھی پہنچ سکتا ہے۔ اسی دن سے ریاست کیرالہ کی وزارتِ صحت نے کرونا کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیرالہ وہ پہلی ریاست تھی جس نے سب سے پہلے لاک ڈاؤن کیا اور موثر طریقے سے مریضوں کی نشان دہی کر کے انہیں الگ تھلگ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چار مہینے بعد ساڑھے تین کروڑ کی آبادی والے کیرالہ میں کووڈ 19 کے صرف 601 کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور اب تک ریاست میں اس مرض کے ہاتھوں صرف تین لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

کیرالہ کی اس 63 سالہ (سابقہ سکول ٹیچر) جو اس وقت وزیر صحت ہیں، کی کارکردگی کو پچھلے کچھ ہفتوں میں عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور بعد میں لوگوں نے محبت سے ان کو القاب و خطابات سے بھی نوازا ہے جن میں ’راک سٹار‘ اور ’کرونا وائرس کی قاتل‘ کا خطاب بھی شامل ہیں۔

شیلجا نے ثابت کیا ہے کہ اتنی خطرناک وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے بھاری بجٹ اور مہنگی میڈیکل مشینری ہی کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ تیسری دنیا کی ایک غریب ریاست بھی بہترین حکمتِ عملی اور انتظامی سرگرمی سے اس بیماری کو روک سکتی ہے۔

 کیرالہ کی وزیرِ صحت نے 24 جنوری کو ایک میڈیکل ٹیم تشکیل دی اور ریاست کے 14 اضلاع میں میڈیکل آفیسرز کو بھرپور بریفنگ دے دی۔ اسی دوران کیرالہ نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ٹیسٹنگ، مریضوں کی نشان دہی، انہیں الگ تھلگ کرنے اور علاج (ٹیسٹ، ٹریس، آئسولیٹ اینڈ ٹریٹ) کا پروٹوکول اپنا لیا تھا۔

 24 جنوری کے بعد جب چین سے ایک طیارہ کیرالہ پہنچا تو تمام مسافروں کا ٹیسٹ کیا گیا، جن لوگوں میں بخار کے آثار ملے، انہیں الگ تھلگ کر دیا اور باقی مسافروں کو قرنطینہ میں بھیج دیا گیا۔ ریاست نے مقامی زبانوں میں معلوماتی کتابچے بھی تیار کروا لیے تھے جن میں کرونا وائرس کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی گئی تھی۔

اس کے بعد جب خلیجی ممالک سے کیرالہ کے لوگ واپس آنے لگے تو ان میں سے بہت سارے لوگ اپنے ساتھ  کرونا بھی ساتھ لائے تھے۔ مگر ریاست ان سے نمٹنے کے لیے بھی تیار تھی۔

ریاست نے ایک لاکھ 70 ہزار لوگوں کو قرنطنیہ میں رکھ کر ایک اور بڑا قدم اٹھایا اور اس دوران ان لوگوں کو خوراک اور دوسری ضروری اشیا مفت فراہم کیں۔ یہ تعداد اب سکڑ کر 21 ہزار رہ گئی ہے۔

شیلجا کہتی ہیں: ’ہم نے پڑوسی ریاستوں کے ڈیڑھ لاکھ مزدوروں کو رہائش فراہم کی اور ان کو کھانا کھلا رہے ہیں۔ جو لوگ یہاں لاک ڈاؤن میں پھنسے ہیں ہم ان کو دن میں تین مرتبہ کھانا کھلا رہے ہیں اور اب ان لوگوں کو ریل گاڑیوں کے ذریعے اپنی ریاستوں کو بھیجا جا رہا ہے۔‘

شیلجا نے ایک اور کام یہ کیا کہ مذہبی پیشواؤں کو بلا کر انہیں اعتماد میں لیا اور انہیں تفصیلی بریفنگ دی کہ کرونا کیا ہے اور اس کے خطرات کیا ہیں۔ اس کے بعد جب یہاں ہر مذہب کی عبادت گاہیں بند ہوئیں تو یہاں دوسری ریاستوں کی طرح شور و غوغا برپا نہیں ہوا۔

یہ اس لیے بھی ممکن ہو سکا کہ ریاست میں تعلیم کی شرح زیادہ ہے، اس لیے لوگوں نے حکومت کا فیصلہ تسلیم کر لیا۔

شیلجا کو وائرس سے نمٹنے کا پہلے ہی سے تجربہ تھا اور وہ کرونا وائرس سے پہلے ہی مشہور ہو گئی تھیں۔ 2019 میں ایک فلم بنی تھی جس کا نام ’وائرس‘ تھا، وہ شیلجا کی ہمت کو دیکھ کر ہی بنائی گئی تھی۔ تاہم یہ کرونا وائرس نہیں بلکہ نیپا وائرس تھا اور 2018 میں اس کی وجہ سے کیرالہ میں بہت سے لوگ بیمار ہوئے تھے۔

اس وقت بھی شیلجا نے اس کا بڑی ہمت اور جرات سے مقابلہ کیا تھا اور گاؤں گاؤں جا کر تیاریوں کا جائزہ لیا تھا۔ یہ فلم اسی بارے میں ہے۔  اس وبائی بیماری سے اُس وقت لوگ دیہات سے بھاگ رہے تھے مگر شیلجا نے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم وہاں لے جا کر پنچایت میں بیٹھ کر لوگوں کو حوصلہ اور ہمت دے کر اس بیماری سے نمٹنے کے لیے تیار کیا۔

 شیلجا سیاست میں آنے سے قبل سکول ٹیچر تھیں۔ وہ ایک سماجی کارکن کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور انہوں نے اپنی دادی کو اچھوتوں کے حق میں مہم چلاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اسی سے انہیں سیاست میں آنے کی ترغیب ملی۔

کیرالہ میں صحت کا نظام مثالی ہے جسے کیرالہ ماڈل کہا جاتا ہے۔ اس ماڈل کے تحت ہر ایک گاؤں میں صحت کا ایک بنیادی مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹر تعینات ہیں جو لوگوں کا مفت علاج کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ریاست میں چھوٹے بڑے ہسپتالوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ پبلک ہیلتھ کے ایک ماہر ایم پی کیر پیا کا کہنا ہے کہ بھارت کی کوئی ریاست کیرالہ کی طرح صحت پر خرچ نہیں کرتی، اس لیے ریاست کیرالہ میں اوسط عمر سب سے زیادہ اور بھارت کی کسی بھی ریاست کے مقابلے میں یہاں بچوں کی سب سے کم اموات ہوتی ہیں۔

مرکزی حکومت نے ابھی تک لاک ڈاؤن میں دو مرتبہ اضافہ کیا ہے جب لاک ڈاؤن ایک مرتبہ ختم ہو جائے گا تب خلیجی ممالک اور ہندوستان کے دوسری ریاستوں سے متاثر لوگوں کے آنے کا اندیشہ ہے اور یہ بڑا مسئلہ ہے۔

شیلجا کا کہنا ہے کہ ’یہ کیرالہ کے لیے ایک بڑا چلینج ہو گا لیکن ہم نے ابھی سے اس چلینج سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کر لی ہیں۔ ہم نے اس کے لیے ہسپتالوں میں 16500 مزید بستر مہیا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے ساتھ اے، بی، سی منصوبے بھی ہیں۔ 5000 وینٹی لیٹروں کی ضرورت اگر پڑی تو ہم انتظام کریں گے۔ کانٹیکٹس کو کس طرح ٹریس کیا جائے گا، اس کے لیے اسکول کے اساتذہ کو خصوصی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ بحیثیت قوم ہم اس کرونا وائرس شکست کے دہانے پر کھڑا کردیں گے، جس طرح ہم نے پہلے مصائب کو شکست دی ہے۔ اس وبا کو بھی ہم جہنم کا دروازہ دکھائیں گے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی صحت