اسسٹنٹ کمشنر روندو، گلگلت بلتستان کا کہنا ہے کہ پشاور سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی گاڑی جو تین دن قبل گلگت بلتستان کے ضلع سکردو سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہو گئی تھی، بالآخر بحفاظت مل گئی ہے۔
منگل کو اسسٹنٹ کمشنر روندو، گلگت بلتستان کے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے مربوط کوششوں کے باعث گاڑی کا سراغ لگایا جا چکا ہے اور سیاحوں کی گاڑی کو بابوسر ٹاپ کے مقام پر شناخت کر لیا گیا ہے۔
’اہل خانہ کی جانب سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر روندو اور اسسٹنٹ کمشنر روندو سے براہِ راست رابطہ کیا گیا ہے اور تصدیق کی گئی ہے کہ گاڑی اور اس میں موجود افراد محفوظ ہیں۔‘
ضلعی انتظامیہ تمام سیاحوں سے گزارش کرتی ہے کہ سفر کے دوران اپنی لوکیشن اور منصوبہ بندی سے متعلق معلومات قریبی چیک پوسٹ یا ٹورسٹ پولیس سے شیئر کرتے رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
پولیس کے مطابق گاڑی میں ماں، باپ، بیٹے اور بہو سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سوار تھے اور گاڑی کی نقل و حرکت کو سڑکوں، بازاروں اور مختلف چیک پوسٹوں پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کے ذریعے چیک کیا گیا تھا۔
گلگت بلتستان کے ضلع ارندو کے اسسٹنٹ کمشنر دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ گاڑی کی گمشدگی کی اطلاع ملتے ہی تلاش شروع کی گئی تھی۔
بیان کے مطابق گاڑی کی نقل و حرکت سکردو جگلوٹ روڈ پر سسی چیک پوسٹ پر دو بج کر 16 منٹ پر دیکھی گئی، جگلوٹ انتظامیہ نے گاڑی کی جگلوٹ کراس کرنے کی تصدیق بھی کی تھی۔
سکردو سے نکل کر گاڑی کہاں سے گزری؟
سفید رنگ کی کرولا گاڑی 29 جون کو سکردو سے نکلی تھی اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق سکردو جگلوٹ روڈ پر 11 بج کر 30 منٹ پر سی سی ٹی وی میں ضلع روندو میں کچورا چیک پوسٹ کراس کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے بعد 12 بج کر 38 منٹ پر کچورا سے آگے سکردو جگلوٹ روڈ پر دمبوداس فاریسٹ چیک پوسٹ سے گزر کر گاڑی تقریباً ڈھائی بجے سسی فاریسٹ چیک پوسٹ سے گزری۔
سکردو سے جگلوٹ تقریباً 164 کلومیٹر کی مسافت پر ہے، جہاں اوپر سڑک اور نیچے دریائے سندھ بہتا ہے۔
سکردو سے جگلوٹ جاتے ہوئے تقریباً دو گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد سسی اور پھر دمبوداس کا علاقہ آتا ہے، جو گلگت بلتستان کے ضلع روندو کا علاقہ ہے یعنی سکردو سے جگلوٹ پہنچے سے پہلے ضلع روندو کو کراس کرنا پڑتا ہے اور وہاں سے چلاس کی جانب سڑک نکلتی ہے۔
گلگت بلتستان سمیت مختلف سیاحتی مقامات میں لاپتہ سیاحوں کو تلاش کرنے میں معاونت فراہم کرنے والے ‘ٹیم ون مددگار پاکستان ‘ کے رکن چودھری عمر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جگلوٹ پہنچ کر سیاحوں کی گاڑی کا رخ چلاس کی جانب ہو گیا اور سی سی ٹی وی کے مطابق وہ چار بج کر آٹھ منٹ پر تلیچھی چیک پوسٹ سے گزری۔
عمر نے بتایا کہ تلیچی چیک پوسٹ سے آگے شنگریلا ہوٹل کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق گاڑی رائی کوٹ پل چار بج کر 38 منٹ پر عبور کر گئی۔
جگلوٹ سے چلاس تک قراقرم ہائی وے پر سفر تقریباً 87 کلومیٹر ہے جو گوگل میپ کے مطابق تقریباً دو گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔
جگلوٹ پولیس سٹیشن کے اہلکار ذبیح اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جگلوٹ سے چلاس جانے کے لیے یہی ایک راستہ ہے اور اب مزید تلاش جاری ہے، ہو سکتا ہے کہ کے موبائل کی چارجنگ ختم ہو اور ان کے ساتھ رابطہ نہ ہو پا رہا ہو۔
سیاحوں کی گاڑی اگر چار بجے کے قریب چلاس روڈ پر رائی کوٹ پل سے گزری تو گاڑی آگے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں چلاس پہنچ جاتی ہے اور اتوار کی شام تقریباً چھ بجے کے قریب چلاس میں ہونی چاہیے۔
گلگت بلتستان ٹورسٹ پولیس کنٹرول روم کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو فون پر بتایا کہ پولیس تلاش میں مصروف ہے لیکن ابھی گاڑی ہمیں نہیں ملی مگر اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ گاڑی چلاس پہنچی ہے۔
انہوں نے بتایا: ’پولیس چیکنگ کر رہی ہے اور آخری لوکیشن جو ٹریس ہوئی تو گاڑی 29 جون کو پانچ بج کر 47 منٹ پر چلاس پہنچی، گاڑی میں گینی پیٹرول پمپ سے پیٹرول بھی ڈلوایا گیا۔‘
اہلکار نے بتایا کہ اب چلاس سے آگے بابو سر ٹاپ کا راستہ ہے اور ایک راستہ بشام کی جانب نکلتا ہے اور ابھی ان دونوں روٹس کو چیک کیا جا رہا ہے۔