کرونا وائرس کے خطرناک اثرات جو بعد میں سامنے آ سکتے ہیں

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کووڈ 19 کے بعض مریض 'دماغی تبدیلی کی ایک مخصوص حالت' سے گزرے ہیں۔ جس میں دوران بیماری'خود فراموشی اورسوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محرومی شامل ہے۔'

کرونا وائرس کو سمجھنے کے لیے تحقیق کار دن رات کوشاں ہیں (اے ایف پی)

کووڈ 19 کی وبا پھیلے چھ ماہ گزر ہو گئے ہیں اور اب تک چار لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہمارے پاس کرونا کی جو تصویر ہے وہ دھندلی اور غیر واضح ہے۔ اس دوران ہزاروں دستاویزات اور رپورٹیں علمی حلقوں سے پہنچی ہیں۔ تحقیق کار وائرس کو سمجھنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں جو سائنس نامی جریدے کے مطابق 'اس طرح فعال ہے کہ انسانیت نے اس سے پہلے کبھی ایسا وائرس نہیں دیکھا۔'

حکومتیں اپنے ملکوں میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہی ہیں۔ صورت حال کی سنگینی کم کرنے کےلیے ایسے دور رس اقدامات کیے جا رہی ہے جن سے روزمرہ زندگی کےمعاملات میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اس مہلک بیماری کے بارے میں ہماری سمجھ بوجھ میں آہستگی کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔

ابتدا میں جو کچھ سانس کی ایسی بیماری کی طرح ظاہر ہوا جس کے بارے میں پیش گوئی کی جا سکتی جیسا کہ سارس یا ایویئن فلو، اب سارس کووڈ۔ 2 کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ وہ پھیپھڑوں، آنکھوں، ناک، دل، خون کی نالیوں، جگر، گردوں اور انتڑیوں کو متاثر کرتا ہے۔ عملی طور پر انسانی جسم کا ہر عضو اس سے متاثرہوتا ہے۔

کووڈ 19 پر جو تحقیق ہوئی ہے اس سے ان لوگوں میں بڑی تعداد میں علامات اورطویل عرصے تک قائم والے اثرات کا پتہ چلا ہے جو سخت بیمار ہوئے۔ ان اثرات میں پھیھڑوں کی بافتوں پر زخم، گردوں کا کام چھوڑ دینا، دل کے پٹھوں کی سوزش، دھڑکن میں بےقاعدگی، جگر کا نقصان، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محرومی، نفسیاتی مسائل اور دوسرا بہت کچھ شامل ہے۔

مریضوں کی  صحت پر طویل عرصے کے لیے مرتب ہونے والے اثرات کا مکمل جائزہ ابھی سامنے آنا باقی ہے لیکن بڑھتےہوئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حتیٰ کہ وہ افراد جوکم شدت کے کووڈ19 کے مرض میں مبتلا ہوئے انہیں وائرس کے جسم سے نکل جانے کے طویل عرصے کے بعد بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اٹلی کے شہر پاویا میں واقع کلینیکل سائنٹفک انسٹیٹیوٹ کے شعبہ امراض قلب کے سربراہ پروفیسر روبیرتوپیڈریتی نے گُڈ ہیلتھ نامی جریدے کو بتایا: 'جو کچھ ہم ہسپتالوں میں دیکھ رہے ہیں وہ بڑے مسئلے  کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس وقت ہماری توجہ اُن مریضوں کے علاج پر جن کی حالت خراب ہے کہ کووڈ19 کےمرض سےصحت یاب ہو جائیں لیکن ہمیں وائرس کے مستقبل میں صحت پر پڑنے والے اثرات پربھی نظر رکھنی چاہیے۔'

پھیپھڑے

مارچ میں چین سے آنے والی ایک رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو مریض کووڈ19 نمونیے سے صحت یاب ہو گئے اُن میں سے70 فیصد کے پھیپھڑوں کو کسی نہ کسی شکل میں نقصان پہنچا جسے سی ٹی سکین میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ نقصان پھیپھڑوں کی تھیلیوں جو آکسیجن جذب کرتی میں، میں خون کی نالیاں بننے میں رکاوٹ لے پھیپھڑوں کے ٹشوز میں زخم تک ہے۔ یہ سب ووہان میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین کی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

پھیھپڑوں کی بافتوں کے زخم اور ان میں آنے والی سختی کو پلمونری فائیبروسس کہا جاتا ہے جو مریضوں میں سانس کی بڑی تکلیف کا سبب بن سکتی ہے۔ اس وقت ایسا علاج دستیاب نہیں جس کی مدد سے اس مرض کو روکا جا سکے۔

ووہان میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق محققین نے کووڈ19 کے ان 81 مریضوں کے سی ٹی سکین کا تجزیہ کیا ہے جسے سے ان میں فائیبروسس کے آثار ملے ہیں حالانکہ ان میں مرض کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔ گذشتہ اپریل میں سائنس دانوں نے'لانسٹ انفیکشیئس ڈیزیز'نامی جریدے میں بتایا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ پھیپھڑوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو'ختم' کیا جا سکتا ہے۔

جی ایس کے/ برٹش لَنگ فاؤنڈیشن میں سانس لینے کے عمل میں تحقیقی شعبے کے سربراہ اور یونیورسٹی آف لیسیسٹر کی پروفیسر لوئیز وین نےکہا یہ جاننے کے لیے تحقیق کی جا رہی ہے کووڈ19 کے اُن مریض اس قسم کے فائیبروسس میں کس طرح مبتلا ہوں گے جن میں سخت علامات ظاہر ہوئیں اور انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا۔

لوئیز وین نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: 'فائیبروسس ٹھیک ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ہی حالت میں رہ سکتا ہے اور وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی نہیں آتی۔ بعض لوگوں میں اس کا کوئی اثرہو سکتا ہے لیکن اسے آسانی سے نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ ہو سکتا کہ مریضوں کے پھیپھڑے مکمل طور پر بحال نہ ہوں لیکن اس کے زیادہ تباہ کن اثرات نہیں ہوں گے۔

'لیکن فائیبروسس بڑھ بھی سکتا ہے۔ یہ وہ فائیبروسس ہے کہ جو واقعی اتنا خطرناک ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہمیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم فائیبروسس کو ختم نہیں کر سکتے لیکن ایسی ادویات دستیاب ہیں جو اس کے بڑھنے کی رفتار کو سست کرسکتی ہیں۔'

مزید برآں برطانوی حکومت کے ہنگامی حالت سے متعلق سائنٹفک ایڈوائزی گروپ (سیج) کی جانب  حال میں جاری کی گئی ایک رپورٹ سے برطانوی ماہرین میں تشویش نمایاں ہوئی ہے کہ کرونا (کورونا) وائرس مریضوں میں'کئی ماہ تک شدید تھکاوٹ اور سانس لینے میں مشکل' کا سبب بن سکتا ہے۔

ایڈوائزری گروپ کا  اجلاس سات مئی کو ہوا تھا جس میں 50 لوگوں نے شرکت کی تھی جن میں سر پیٹرک ولانس اور پروفیسر کرس وِٹی بھی شامل تھے۔ اجلاس کی کارروائی کے تحریری نکات میں کہا گیا: 'ایڈوائزری گروپ کو صحت پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔ (جیسا کہ کئی ماہ تک انتہائی تھکاوٹ اور سانس لینے میں مشکل) اور ان اثرات پر نظر رکھنے کے لیے مریضوں کے گروپوں پر تحقیق اہمیت کی حامل ہے۔'

برطانیہ کے لاک ڈاؤن میں جانے سے بھی پہلے ملک کے انتہائی نگہداشت کے شعبے (ایف آئی سی ایم) جو ڈاکٹروں کو انتہائی نگہداشت کی تربیت دینے والا پیشہ ورانہ ادارہ ہے، نے کہا تھا کہ کووڈ19 کے وہ مریض جو شدید بیمار ہوئے ان کے پھیپھڑوں کو ایسا نقصان پہنچ سکتا ہے جسےٹھیک ہونے میں 15 سال تک لگ سکتے ہیں۔

ایف آئی سی ایم نے واضح کیا ہے کہ انتہائی نگہداشت میں داخل ہونے والے کئی مریض صحت کے جس مسئلے کا شکار ہوئے اُسے ایکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سِنڈروم (اے آر ڈی ایس) کہا جاتا ہے۔ یہ پورے پھیھڑوں میں بہت سخت سوزش کا سبب بنتی ہے جس کے نتیجے میں رطوبتیں خون کی نالیوں سے نکل کر پھیپھڑوں کی تھیلیوں میں چلی جاتی ہیں۔ اس صورت حال میں طبی مدد کے بغیر سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔

سینے کے امراض کی ادویات اور تپ دق (ٹی بی) سے متعلق ہالینڈ کے ڈاکٹروں کی تنظیم نے بھی اسی قسم کی تشویش پر مبنی پیٖغام دیا ہے۔ ڈاکٹروں نے خبردارکیا ہے کہ نیدرلینڈز میں کووڈ 19 کے سینکڑوں صحت یاب ہونے والے ہزاروں مریضوں کے پھیپھڑوں کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دل اور خون کی شریانیں

امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کےجریدے جے اے ایم اے کارڈیالوجی نے گذشتہ مارچ میں ایک تحقیق شائع کی ہے جس میں ووہان میں ہسپتال داخل ہونے والے پہلے 416 مریضوں میں سے تقریباً 20 فیصد کے دل کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ شہر میں ہونے والی ایک اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انتہائی نگہداشت میں رکھے گئے 36 مریضوں میں سے44 فیصد Arrhythmia (دل کی دھڑکن میں بےقاعدگی) کا شکار ہو گئے تھے۔

خیال ہے کہ یہ مسائل'سائیٹوکائن سٹورم' کا نتیجہ ہے۔ یہ شدید قسم کی سوزش جسم کے مدافعتی نظام کےضرورت زیادہ فعال ہونے کا نتیجہ ہے جو کرونا (کورونا) وائرس کے بعض مریضوں میں دیکھی گئی۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے  کہ اس کیفیت سے دل کے پٹھے سوزش (مائیوکارڈائیٹس) میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس سے دل کا برقی نظام متاثر ہوتا ہے اور اس طرح دل کی دھڑکن میں بےقاعدگی آ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دل کی پورے جسم کو خون کو مؤثر انداز میں پمپ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی جس کا نتیجہ سانس لینے میں مشکل کی صورت میں نکلتا ہے۔

دل اور خون کی نالیوں کی پیچیدگیاں کووڈ 19 میں نئی بات نہیں ہیں۔ وائرس کے نتیجے میں ہونے والی بہت سی اقسام کی انفیکشن دل کے پٹھوں کی سوزش کا سبب بن سکتی ہیں۔ تاہم زیادہ تر لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ بعض کےدل کے پٹھے کو مستقل نقصان پہنچتا ہے۔

میڈیسن اور ریڈیالوجی کےایسوسی ایٹ پروفیسراور یونیورسٹی آف پینسلوینیا میں  دا پیرل مین سنٹر فار ایڈوانسڈ میڈیسن کے کارڈیئک ایم آر آئی کے ڈائریکٹر یُوچی ہان نے کہا ہے کہ دل اور خون کی نالیوں کے مریضوں کو کرونا (کورونا) وائرس کی انفکیشن کے نتیجے میں زیادہ نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے افراد جنہیں دل کے مسائل نہیں ہے وہ بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ڈاکٹر ہان نے اخبار ڈیلی میل کو بتایا:'دل میں جو سوزش پیدا ہوتی ہے وہ دل یا خون کی نالیوں کے مرض میں مبتلا افراد تک محدود نہیں ہے بلکہ کوئی بھی اس میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ لوگ جن کے لیے خطرے کے عوامل موجود نہیں ہیں اُن میں کچھ سخت قسم کی بیماری میں مبتلا ہو جاتےہیں جب کہ دوسرے نہیں ہوتے۔'

تھومبوسس ریسرچ  نامی جریدے میں اپریل میں شائع ہونےوالی ایک  تحقیق کےمطابق کووڈ 19 سے پیدا ہونے والی خرابی خود خون تک جاتی دکھائی دیتی ہے۔ ہالینڈ میں انتہائی نگہداشت میں موجود کووڈ 19 کے 184 مریضوں میں 38 فیصد میں خون میں غیرمعمولی پر لوتھڑے پیدا ہوئے اورتقریباً ایک تہائی کےخون میں پہلے سے ہی لوتھڑے موجود تھے۔

گردے

اگرچہ پھیپھڑے وائرس کا ابتدائی ہدف دکھائی دیتے ہیں لیکن ایسے شواہد موجود ہیں کہ سارس کوو۔2 بھی بعض مریضوں میں گردوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

ووہان میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ہسپتال  داخل ہونے والے 85 مریضوں میں سے 27 فیصد کے گردوں نے کام چھوڑ دیا تھا۔ ایک علیحدگی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ چین کے صوبوں ہوبئی اور سیچوان میں میں ہسپتال میں داخل تقریباً دو سومریضوں میں سے 59 فیصد کے پیشاب میں پروٹین شامل ہو گئی تھی۔ 44 فیصد مریضوں کے پیشاب میں خون تھا۔ دونوں باتیں گردے کو نقصان پہنچنے کی نشانیاں ہیں۔ اسی تحقیق میں لکھا ہے کہ جن مریضوں کے گردے میں شدید نوعیت کے زخم (اے کے آئی) بن گئے تھے کووڈ 19 کے اُن مریضوں کے مقابلے میں اُن کی موت کے امکانات پانچ گنا زیادہ تھے جن کےگردوں میں زخم  نہیں بنے تھے۔

نیویارک یونیورسٹی کے لینگون میڈیکل سینٹر کی جینیفرفرنٹیرا نے اپریل میں سائنس نامی جریدے کو بتایا: 'اگر یہ لوگ پھیپھڑوں کے کام چھوڑنے سے نہیں مر رہے تو گردے فیل  ہونے سے مر رہے ہیں۔'

دماغ

کووڈ 19 کے 214 مریضوں پرکی گئی ایک تحقیق کے مطابق ایک تہائی مریضوں کو اعصابی علامتوں کے تجربے سے گزرنا پڑا جن میں چکر آنا، سردرد اور سونگھنے، چکھنے کی صلاحیت کا ختم ہونا شامل ہے۔

اس مرحلے پر یہ واضح  نہیں ہےکہ ان علامات کا سبب کیا ہے۔ وائرس کےجسم کے اعصابی نظام کو متاثر کے بارے میں نظریات موجود ہیں۔ کسی قسم کی بُو یا ذائقہ محسوس نہ ہونا جس کے بارے میں بعض مریضوں نے بتایا ہے اس طرف اشارہ ہے کہ وائرس جسم کے اعصابی خلیوں کو متاثرکرتا  ہے۔ مریضوں میں مدافعی نظام کو سوزش کا سبب بننے والاردعمل اور آکسیجن سے محرومی ریکارڈ کی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت سےمحرومی کو انتہائی نگہداشت میں رہنے سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ اس حالت کو انتہائی نگہداشت میں رہنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہذیانی کیفیت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حالت جو نظروں کے دھوکے اور خراب دماغی کیفیت کا سبب بنتی ہے زیادہ تر ہسپتال میں داخل بڑی عمر کے لوگ اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ تر ایسی علامتیں ختم ہو جاتی ہیں اور بعض نہیں ہوتیں۔ سائنس دانوں کی تجویز ہے کہ تبدیل ہونے والے عوامل جیسا کہ عمر، ایک ساتھ موجود طبی مسائل اور بیماری کی شدت کووڈ 19 کےمریضوں کے سونگھنے چکھنے کی صلاحیت کی بحالی کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی میں اعصابی سائنس دان پروفیسر ایڈبُلمور نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا ہے کہ اب کافی شواہد موجود ہے کہ سارس کووڈ۔2 وائرس کو'اعصابی بیماری'کا سبب قرار دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا ممکن ہے نفسیاتی اثرات 10 برس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کووڈ 19 کے بعض مریض 'دماغی تبدیلی کی ایک مخصوص حالت' سے گزرے ہیں۔  جس میں دوران بیماری'خود فراموشی اورسوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محرومی شامل ہے۔'انہوں نے کہا: 'ہم لازمی طور اعصابی نظام کی خرابی کی وجوہات کے بارے میں نہیں جانتے۔ ممکن ہے وائرس دماغ کو متاثر کرتا ہو۔ یہ وائرس کے خلاف مدافعتی نظام کا ردعمل ہو سکتا جو دماغ کو نقصان پہنچاتا ہو یا یہ خون کی دماغ کو فراہمی کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اس موقعے پر یہ تمام وجوہات ممکن دکھائی دیتی ہیں۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت