جب روشنی اور ہنسی نے انسان کو پرچا لیا

اور ہنسی اپنے اصل میں ایک نشے کی مانند ہے اور غم تمہاری عام کیفیت کا نام ہے۔ جب تمہیں بہت خوشی اپنے اندر پھوٹتی ہوئی محسوس ہو تو یاد کرو کہ اس سے پہلے تمہیں کس ہنسی نے کتنا عرصہ خوش رکھا تھا۔

(پکسابے)

اور جب تم ہنسی کی حقیقت جان لو گے اور جب اندھیرے کی روشنی تم پر جا کھلے گی افسوس تب یہ علم تم کسی کے حوالے نہیں کر سکو گے۔

موت اندھیرا نہیں ہے۔ اندھیرا زندگی ہے۔ موت روشنی ہے۔ روشنی جو اندھیرے سے پھوٹتی ہے مگر جسے تم فاتح قرار دیتے ہو۔ موت روشنی ہے کہ بعد اس کے تمہارے لیے ہر چیز کو ثبات ہے، اندھیرا زندگی ہے کہ تمہارا اگلا پاؤں جانتے بوجھتے ہوئے تم کس گڑھے میں اتار دو، تم نہیں جانتے۔ اور تم روشنی کو پسند کرتے ہو؟ روشنی جو تمہیں ہنسی کے رنگ دکھا کے پرچا لیتی ہے؟

مصیبت کا وقت تم پر پہلی بار نہیں آیا۔ موت کا خوف پرانے زمانوں سے تمہارے دماغوں میں تھا۔ اب تم اسے قریب محسوس کرنے لگے ہو۔

یہ سب کچھ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ کوئی خوشی مستقل نہیں ہوتی، کوئی غم عارضی نہیں ہوتا۔ وقت غم کی شدت کم کر دیتا ہے لیکن خوشی وقت گزرنے کے بعد خود بخود غم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر تم یہ جان لو تو ہر قہقہہ چار آنسوؤں کے ساتھ لو اور ہر آنسو کو گلے سے لگا کے رکھو۔ خوشی اپنا جانا مقرر کر کے آتی ہے اور تکلیف کو ثبات ہے۔

ہنسی وہ چیز ہے جو صرف انسان نے اپنے ساتھ رکھ لی۔ جس وقت ہنسی کتے کے پاس لے جائی گئی تو اس نے کہا کہ میرا گزارا جوش سے ہو جائے گا، مجھے اپنی دم ہر کیفیت کے اظہار کو بہت کافی ہے۔ میں ایسی عارضی چیز اپنے آنے والوں کے لیے نہیں چھوڑنا چاہتا۔ پھر ہنسی گھوڑے کے پاس گئی۔ گھوڑے نے بھی اس کے بعد آنے والے غموں کے پہاڑ کو دیکھ کر اس سے پناہ مانگی اور گویا ہوا کہ میں نے عافیت پائی باآواز بلند ہنہنانے میں، مجھے اس جذبے سے معاف رکھا جائے۔ ہنسی دربدر کی ٹھوکریں کھاتی ہوئی بیل کے پاس گئی، بیل جن نظروں سے تمہیں دیکھتا ہے وہ پانی بھری آنکھیں اس نے ہنسی کو دکھائیں اور اس سے پوچھا کہ میرے چہرے پر تمہاری کوئی جگہ تمہیں دکھائی بھی دیتی ہے؟

مور کو بھی اصلیت ہنسی کی معلوم تھی۔ جب اس کا رخ کیا تو مور نے دور سے ہی پر پھیلائے اور پی کہاں کی آواز نکالی اور تب ہنسی کو سمجھ آ گئی کہ ان پروں کے ساتھ کوئی قہقہہ کبھی جڑ نہیں سکتا، الٹے پیروں اس نے پھر اگلے گھر کا رخ کیا۔

یہاں دو ٹانگوں والا رہتا تھا۔ سب پاس پڑوس میں مشہور تھا کہ یہ ہر اڑتی بلا کا نشانہ باندھتا ہے۔ جو نہیں بھی آنی ہوتی یہ اسے بھی اپنے گھر میں لا گراتا ہے۔ تب ہنسی نے اسے مخاطب کیا اور کہا۔ دیکھ میں تیرے چہرے کو گلنار کر دوں گی، میں تیری آنکھوں میں سو رنگ بھر دوں گی، میں تیرے گالوں میں گڑھے بن کے تیرے چہرے پہ چھایا کروں گی، میں تیرے دانتوں کی برابری ساری دنیا پہ آشکار کروں گی، میں تیری پیشانی سانولی سے دھانی کر دوں گی اور تیرے ہونٹوں میں تازگی کا رس لے آؤں گی، میں تجھے ایک پل میں آسمان پہ لے جاؤں گی، میں تیرے سارے غم مٹی میں ملا دوں گی، میں تجھے دنیا سے اوپر ایک الگ مقام پہ لا بٹھاؤں گی اور تو ہر وقت چاہے گا کہ میں تجھے حاصل رہوں۔

تو ایک بار مجھے اپنے ساتھ رکھ لے۔

تم نہیں جانتے کہ اس وقت گھوڑے نے کہا تھا دو ٹانگوں والے سے کہ تیرا چہرا گلنار ہو گا لیکن وہ نرا دو پل کا سودا ہو گا، جان لے کہ اس گلنار چہرے کو ہمیشہ کے لیے راکھ میں تبدیل ہو جانا ہے۔ تب کتے نے دو ٹانگوں والے کو آواز لگائی اور کہا کہ یہ تیری آنکھوں میں سو رنگ بھرے گی لیکن سب رنگ خود اپنے ساتھ لے کر جائے گی، اور جب یہ جائے گی تو جان لے کہ تیرا اپنا کوئی رنگ باقی نہیں رہے گا۔

تب دو ٹانگوں والا کہ جو رنگوں کا عاشق تھا اس نے بیل سے صلاح لینے کی ٹھانی۔ بیل نے دور سے اس کے آنے کا مقصد جان لیا۔ جھکے سر کے ساتھ اپنی جگالی کرتا رہا، دم سے مکھی اڑائی اور اوپر دیکھے بغیر بس اتنا کہا کہ تیرا جبڑا اس ہنسی کے ہاتھوں درد کا شکار ہو جائے گا، جب انجام درد ہے تو پھر دو گھڑی رہنے والے نشے سے پرہیز کر۔ تب مور نے اپنے رنگوں سے دو ٹانگوں والے کو پرچا لیا۔ ہنسی مور کو بولنے سے منع کر چکی تھی۔

مور خاموشی سے پر تھرتھراتا رہا اور ہنسی شوقین آنکھوں سے دو ٹانگوں والے کو دیکھتی رہی۔ ہنسی نے اسے خیال دیا کہ میں تیرے ساتھ ہوں گی تو یہ رنگ تیرے ہوں گے اور دو ٹانگوں والا اس سودے کا سزاوار ٹھہرا۔ جان لو، ہنسی وہ چیز ہے جو صرف انسان نے اپنے ساتھ رکھ لی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اور ہنسی اپنے اصل میں ایک نشے کی مانند ہے اور غم تمہاری عام کیفیت کا نام ہے۔ جب تمہیں بہت خوشی اپنے اندر پھوٹتی ہوئی محسوس ہو تو یاد کرو کہ اس سے پہلے تمہیں کس ہنسی نے کتنا عرصہ خوش رکھا تھا۔ تمہارا دہانہ ہنسنے کے لیے کشادہ ہوتا ہے اور پھر اپنی پرانی جگہ واپس آ جاتا ہے تو اس میں تمہارے لیے سمجھ کی گنجائش ہے کہ تم فیصلہ کرو کہ تمہاری اصل کیا ہے۔

تم سمجھتے ہو کہ روشنی اندھیرے پہ غلبہ پاتی ہے جب کہ اندھیرا روشنی پہ فتح پانے والا ہے۔ تم ایک چنگاری سے اندھیرے کو روشن کر سکتے ہو لیکن اس چنگاری کے لیے تم پتھر کے محتاج ہو۔ روشنی کو تم جب چاہو اندھیرے میں تبدیل کر لو۔ تمہارا سایہ خود سب سے بڑی جیت ہے روشنی کے خلاف اور چمکتے سورج کے سامنے اس سے بڑی کیا مثال ہو سکتی ہے۔ جب تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کو جوڑتے ہو اور اوک بنا لیتے ہو تو پاتھوں کے درمیان جو چیز تم پاؤ گے وہ اندھیرا ہو گا۔

اندھیرا تمہاری دسترس میں ہے، اندھیرا تمہارے ساتھ ہے، اندھیرا تمہاری شروعات تھی، اندھیرا تمہارا آخر ہے، اندھیرا تمہارا حاصل ہے، اندھیرا تمہارا غم خوار ہے، اندھیرا روشنی سے زیادہ تمہارا ہمدرد ہے، اندھیرا تمہارے عیب چھپا لیتا ہے، اندھیرا مہربان ہے اور تم اندھیرے سے دور بھاگتے ہو؟ اندھیرا خود اپنی ذات میں روشنی بھی ہے۔ اندھیرا تم ہو اور تمہارے اندر بھی دور دور تک سوائے اندھیرے کے نہیں کوئی اور چیز موجود رہ جانے والی۔ تم اندھیرے سے پیار کرو کہ روشنی نے تمہیں ہنسی کے رنگ دکھائے تھے۔ روشنی نے تمہیں وہ احساس بخشا تھا کہ جس کے دوام کی خاطر تم ہر مصیبت اٹھانے کو تیار رہتے ہو۔ دائم غم ہے، دائم اندھیرا ہے۔

اور جب تم ہنسی کی حقیقت جان لو گے اور جب اندھیرے کی روشنی تم پر جا کھلے گی افسوس تب یہ علم تم کسی کے حوالے نہیں کر سکو گے۔ موت اندھیرا نہیں ہے۔ اندھیرا زندگی ہے۔ موت روشنی ہے۔ روشنی جو اندھیرے سے پھوٹتی ہے مگر جسے تم فاتح قرار دیتے ہو۔ موت روشنی ہے کہ بعد اس کے تمہارے لیے ہر چیز کو ثبات ہے، اندھیرا زندگی ہے کہ تمہارا اگلا پاؤں جانتے بوجھتے ہوئے تم کس گڑھے میں اتار دو، تم نہیں جانتے۔ اور تم روشنی کو پسند کرتے ہو؟ روشنی جو تمہیں ہنسی کے رنگ دکھا کے پرچا لیتی ہے؟

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ