مخصوص نشستوں پر موجود بے اختیار خواتین سیاستدان؟

تاریخ شاہد ہے کہ آج سے 43 سال پہلے جب بیگم نسیم ولی خان سیاست کے میدان کارزار میں اترتی ہیں تو یہی قبائلی معاشرہ انہیں سر آنکھوں پر بٹھا کر پشاور اور مردان جیسے شہروں سے قومی اسمبلی کی دو نشستیں ان کی جھولی میں ڈال دیتی ہے۔

(ٹوئٹر)

دنیا بھر کی اقوام میں اپنی روایات کو پسند کرنے اور اس پر فخر کرنے کا رواج زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعض تعلیم یافتہ اقوام نے روایات سے منہ موڑ کر مادی اور معاشی ترقی کو اپنا ہدف بنا لیا۔

انہوں نے صدیوں کا فاصلہ سالوں میں طے کرکے اپنی اپنی منزل حاصل کر لی۔ مگر کچھ ہم جیسے روایات کے اسیر لکیر کے فقیر بن کر دائرے میں گھومتے رہے۔ وہ کئی دہائیوں میں یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے کہ خواتین کو سیاست اور معیشت میں کردار ادا کرنا چاہیے یا نہیں۔ حالانکہ اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ معاشرے کی نصف  آبادی کو عضو معطل بناکر جدید دور میں ترقی کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس کے باوجود  خواتین کی رہنمائی اور سرپرستی کے لیے نہ

ریاست مخلصانہ کردار ادا کر رہی ہے نہ وہ سیاسی پارٹیاں، جو خواتین کے ووٹ اور سپورٹ کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کرتی ہے۔ لے دے کے یہ ذمہ داری غیر سرکاری تنظیموں کے ذمے ڈال دی گئی ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی بساط اور مفاد کے مطابق ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر الگ الگ کام شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے خواتین کی مشترکہ مفادات کا حصول ممکن نہیں ہو رہا ہے۔ لیکن آج ہم باقی شعبوں کی بجائے صرف سیاست میں خواتین کی موجودگی ان کے کردار اور اہمیت پر بات کرتے ہیں۔

 تاریخ شاہد ہے کہ آج سے 43 سال پہلے یعنی انیس سو ستتر میں جب پاکستانی معاشرہ بالعموم اور پشتون معاشرہ بالخصوص زیادہ قبائلی اور دیہاتی روایات کا حامل تھا، جب بیگم نسیم ولی خان سیاست کے میدان کارزار میں اترتی ہیں تو یہی قبائلی اور دیہاتی معاشرہ انہیں سر آنکھوں پر بٹھا کر پشاور اور مردان جیسے شہروں سے قومی اسمبلی کی دو نشستیں ان کی جھولی میں ڈال دیتی ہے۔مگر آج صورتحال یہ ہے کہ سیاسی خاندانوں نے اپنی خواتین کو اسمبلی پہنچانے کے لیے مخصوص نشستوں کا چور دروازہ کھول دیا ہے  جس کی وجہ سے دنیا کو دکھانے اور مفادات کے حصول کے لیے اسمبلی میں تو خواتین موجود ہوتی ہیں مگر وہ سیاست کا لازمی حصہ نہیں ہوتیں۔

نہ ان کا کوئی معلوم حلقہ انتخاب ہوتا ہے نہ ان پر ووٹروں کی ناراضگی کا بوجھ ہوتا ہے نہ حلقے کی غمی خوشی میں شرکت کا دباوٗ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے خاندان کے بڑوں کی جانب سے بلکہ پارٹی کے منتخب ممبران کی جانب سے بھی یہی احساس دلایا جاتا ہے کہ آپ کو تو سیٹ مفت میں ملی ہے اس لیے آپ ترقیاتی فنڈز سمیت باقی اختیارات مانگنے سے گریز کریں۔

اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ پختونخوا اسمبلی میں چھبیس خواتین ممبران موجود ہیں جو پوری اسمبلی کا تقریبا ایک چوتھائی بنتا ہے اور صوبے میں اس پارٹی(تحریک انصاف) کی حکومت ہے جس کے ووٹروں کی اکثریت خواتین اور نوجوانوں پر مشتمل ہیں مگر بار بار یاد دہانیوں اور وعدوں کے باوجود  بائیس رکنی کابینہ میں کسی ایک خاتون کو بھی حق نمائندگی نصیب نہیں ہو سکی۔

جس کی وجہ سے اگر ایک طرف صوبے کی نصف آبادی اپنی حق نمائندگی سے محروم ہے تو دوسری طرف  فیصلہ سازی اور اختیارات کے استعمال میں ان کی عدم شرکت سے ان منتخب خواتین میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ان خواتین کو اپنی اپنی پارٹی کے سینئر رہنما اور خاندان کے مرد شوپیس اور ربڑ سٹیمپ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

ضلعی سطح پر تو ان ایم پی ایز اور ایم این ایز صاحبان کی بجائے اکثر اجلاسوں میں ان خواتین کے شوہر بھائی یا والد صاحبان شرکت کرکے فیصلے کرتے ہیں۔ اور خواہ قانونی طور پر اس کی حیثیت کچھ بھی ہو مقامی اور روایتی طور پر  انہی فیصلوں پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے۔ اور سب کو یہ تسلیم بھی کرنے ہوتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیاست میں خواتین کی عددی اور نمائشی موجودگی کے باوجود ان کی عملی عدم شرکت کی ایک اور مثال یہ ہے کہ صوبے میں 26 ممبران اسمبلی موجود ہیں جن کا تعلق مختلف لبرل سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے ہیں اور اس کے باوجود کہ ریڈیو ٹی وی انٹرویو دینا اور اخبار میں بیان چھپنا ہر سیاست دان کی ضرورت اور ان کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر منتخب خواتین خواہش اور ضرورت کے باوجود ریڈیو اور ٹی وی پر آنے سے کتراتی ہیں کیونکہ مقامی روایات اس چیز کو ناپسند کرتی ہیں یا پھر ان کے خاندان والوں کی طرف سے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

اندازہ کیا جائے کہ ایک خاتون صوبے بھر کے لیے قانون سازی کا اختیار لیے اسمبلی میں براجمان ہے لیکن وہ ایک پبلک فورم پر اپنے خیالات کے اظہار کے لیے بھی دوسروں سے اجازت کی محتاج ہے۔ اب آپ خود اندازہ کیجئے کہ اگر صوبے کی سب سے اعلی سیاسی و جمہوری فورم پر موجود فرسٹ کلاس خاندانوں کی خواتین کا یہ حال ہے تو مڈل کلاس لوئر مڈل کلاس اور پھر غریب خاندانوں میں خواتین کی حیثیت کیا ہوگی؟

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر سیاست میں خواتین کی حقیقی شرکت کو یقینی بنانا ہے تو خانہ پری اور سیاسی لیڈروں کو نوازنے کے لیے مخصوص نشستوں پر ان کی سلیکشن کی بجائے عام انتخابات میں ان کو امیدوار بنا کر اسمبلیوں میں لایا جائے تاکہ وہ گراس روٹ لیول پر نہ صرف سیاست سیکھ سکیں بلکہ انہیں عوام کی خدمت اور اہمیت کا احساس بھی ہو اور موقع بھی ملے۔

مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران کے مرد رشتہ داروں اور پارٹی رہنماؤں کو بھی یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان خواتین کی مراعات اور اختیارات کا استعمال انہی خواتین کا حق ہے ان اختیارات اور مراعات سے اگر آپ مستفید ہورہے ہیں تو آپ ان خواتین کے ساتھ بھلائی کی بجائے ان کی حق تلفی کر رہے ہیں جو قابل گرفت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ