معروف دانشور ڈاکٹر طاہر اسلام کی گمشدگی پر علمی حلقوں میں تشویش

اسلام آباد کے دانشوروں اور علمی حلقوں نے فکرِ اسلامی کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری کی گمشدگی پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

ڈاکٹر طاہر اسلام گذشتہ 11 د ن سے لاپتہ ہیں (تصویر: فیس بک)

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبۂ فکرِ اسلامی، تاریخ و ثقافت کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری گذشتہ ہفتے جمعے کی شام گھر سے مارکیٹ کے لیے نکلے اور اب تک نہیں لوٹے۔

ان کے اہلِ خانہ اور وکیل کے مطابق انہیں ریاستی اداروں نے بغیر اطلاع دیے اٹھا لیا ہے۔

ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری اسلام آباد کی معروف علمی شخصیت ہیں اور دینی علوم و فکر کے ساتھ ساتھ اردو ادب و شعر سے بھی گہرا شغف رکھتے ہیں اور شہر میں منعقد ہونے والی ادبی محلفوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں۔

طاہر اسلام کے وکیل حیدر شاہ ایڈووکیٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ریاستی اداروں نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طاہر اسلام کے بھائی طیب اسلام کو بھی گذشتہ ماہ پنجاب کی انسدادِ دہشت گردی کے ادارے نے اٹھا لیا تھا اور 11 روز تحویل میں رکھنے کے بعد بغیر فردِ جرم عائد کیے رہا کر دیا۔  

حیدر شاہ نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ تھانے سے رجوع کیا تھا مگر دس دن گزرنے کے بعد تھانے نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

ڈاکٹر طاہر اسلام کے بھائی طیب اسلام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے بڑے بھائی جمعہ پانچ جون کی شام ساڑھے سات بجے کے قریب اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹین فور میں واقع اپنے گھر سے قریبی مارکیٹ تک گئے تھے لیکن جب رات گئے تک واپس نہیں آئے اور ان کا فون بھی بند ملا تو ان کی اہلیہ نے اپنے رشتے داروں کو خبردار کرنا شروع کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو نے طیب اسلام سے ان کی حراست کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ادارے کے ارکان کئی روز تک ان سے پوچھ گچھ کرتے رہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کا اصل مقصد کیا تھا۔

طیب اسلام نے مزید کہا کہ دورانِ حراست ان سے بڑے بھائی طاہر اسلام کے بارے میں پوچھا جاتا رہا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے رہائی کے بعد بھائی کو خبردار کر دیا تھا۔

اسلام آباد کے ادیبوں نے طاہر اسلام کی حراست کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ معروف شاعر اور نقاد اختر عثمان نے کہا کہ طاہر اسلام ان کے گھر کے قریب ہی رہتے ہیں اور ان سے تقریباً روزانہ ملاقات ہوتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 'طاہر اسلام بےحد وسیع المشرب عالم ہیں اور فرقہ واریت، تعصب اور انتہاپسندی انہیں چھو کر بھی نہیں گزری۔ ان جیسے انسان کو یوں دن دہاڑے اٹھا لیا جانا افسوس کا مقام ہے۔'

نقاد اور دانشور صلاح الدین درویش نے کہا کہ ’ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری عام مذہبی شخصیات سے بالکل مختلف ہیں اور میں نے ذاتی حیثیت میں انہیں آج تک کبھی کسی بھی نوعیت کی مذہبی تنظیم سے وابستہ نہیں دیکھا۔ وہ معتبر عالم اور انسان دوست شخصیت کے حامل ہیں اور بین المسالک ہم آہنگی اور صلح کُل کے اس قدر حامی ہیں کہ انہیں سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا اپنے ہی ہم مسلک احباب سے رہتا ہے۔‘

ڈاکٹر درویش نے کہا کہ ’اسلام آباد کے تمام اہل قلم طاہر اسلام کے ادب سے لگاؤ اور وابستگی کے گواہ ہیں۔' انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر طاہر اسلام نے کوئی قانون توڑا ہے تو ان کے خلاف ملکی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں قانونی دفاع کا پورا پورا موقع بھی فراہم کیا جائے، لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو انہیں فوری طور پر رہا کر دیا جائے تاکہ ان کے گھر والوں اور اسلام آباد کے علمی اور ادبی حلقوں کی تشویش و پریشانی ختم ہو سکے۔‘

 سوشل میڈیا پر بھی ڈاکٹر طاہر اسلام کی رہائی کے سلسلے میں مہم چلائی جا رہی ہے اور ’طاہر_اسلام_کو_رہا_کرو‘ کے عنوان سے ایک ٹرینڈ بھی شروع کیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان