کرونا کے علاج میں اہم پیشرفت: جان بچانے والی دوا دریافت

برطانوی ماہرینِ صحت نے کہا ہے کہ کرونا کے علاج کے لیے اب تک سب سے اہم دوا دریافت ہو گئی ہے جس سے ایک تہائی مریضوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی اس دوا کا نام ڈیکسامیتھاسون ہے اور پاکستان میں درجنوں کمپنیاں اسے بنا رہی ہیں (اے ایف پی)

ماہرین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے مریضوں کی جان بچانے کے لیے اب تک سب سے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ایک عام دوا کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ اس مرض کے علاج میں موثر ہے۔

اس دوا کا نام ڈیکسامیتھاسون ہے اور پاکستان میں درجنوں کمپنیاں اسے بنا رہی ہیں، اور اس کی قیمت تین سو روپے کے قریب ہے۔

اس دوا کو جوڑوں کے درد، الرجی اور دمہ کے لیے ایک عرصے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے جانب سے کیے جانے والے ایک طبی ٹرائل میں کو وڈ 19 کے مرض میں مبتلا 2100 مریضوں کو جب یہ دوا دی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کی وجہ سے وینٹی لیٹر استعمال کرنے والے مریضوں میں موت کی شرح 30 فیصد کم ہو گئی، جب کہ وہ مریض جنہیں صرف آکسیجن دی جا رہی تھی، ان میں موت کی شرح 20 فیصد تک گر گئی۔ تاہم کرونا کے ایسے مریض جنہیں سانس کی تکلیف نہیں ہے، ان میں اس دوا کا کوئی خاص فائدہ نہیں پایا گیا۔ 

آکسفورڈ کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر پہلے سے معلوم ہوتا کہ یہ دوا اتنی موثر ہے تو صرف برطانیہ میں پانچ ہزار زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکاک نے ان نتائج کے بارے میں ٹویٹ کی: دنیا کی یہ پہلی مثال سائنس کی طاقت کا مظاہرہ ہے۔ میں بےحد خوش ہوں کہ ہم کو وڈ 19 کے علاج کی پہلا کامیاب ٹرائل کا اعلان کر سکتے ہیں۔ 

یہ معلومات ’ریکوری‘ نامی ایک ٹرائل سے حاصل ہوئی ہیں جسے مارچ میں برطانیہ میں شروع کیا گیا تھا اور اس میں 175 ہسپتالوں میں داخل ساڑھے 11 ہزار سے زیادہ مریضوں نے حصہ لیا تھا۔ اس کی تفصیلات یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ 

مرکزی تحقیق کار مارٹن لینڈرے نے برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو بتایا: ’یہ کئی لحاظ سے اہم پیش رفت ہے۔ چھ ماہ قبل یہ وبا شروع ہونے سے قبل ایک ایسے علاج کی تلاش جاری تھی جو موت کا خطرہ کم کر سکے اور اب تک ایسی کوئی دوا نہیں ملی تھی۔ اب مل گئی ہے۔

’یہ نتائج واضح ہیں اور یہ دوا آج شام سے مریضوں کو دی جا سکتی ہے۔ یہ بہت اہم قدم ہے۔ ‘

انہوں نے مزید کہا کہ’یہ دوا زیادہ مہنگی بھی نہیں ہے، نہ ہی کوئی ایسی دوا ہے جس کی فراہمی میں یا تیاری میں وقت لگے۔ یہ دنیا بھر میں پہلے سے دستیاب ہے، اس لیے یہ بات انتہائی اہم ہے۔‘،

برطانوی محکمۂ صحت این ایچ ایس نے پہلے ہی ہسپتالوں کو یہ دوا استعمال کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔

این ایچ ایس کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر سٹیون پاوس نے کہا: ’یہ کو وڈ کے مریضوں کا علاج دریافت کرنے میں بہت اہم پیش رفت ہے، نہ صرف برطانیہ میں بلکہ دنیا بھر میں۔‘

ڈیکسامیتھاسون کام کیسے کرتی ہے؟

کرونا وائرس کے بارے میں معلوم ہے کہ انسانی جسم کا مدافعتی نظام وائرس کے خطرے کو بھانپ کر ضرورت سے زیادہ فعال ہو کر خود جسم کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا بڑا اثر پھیپھڑوں پر ہوتا ہے اور شدید بیمار مریض سانس نہیں لے پاتے۔ اس عمل کو ’سائٹو کائن سٹورم‘ کہتے ہیں۔

بظاہر اکثر مریض وائرس کی وجہ سے نہیں مرتے، بلکہ وائرس کے خلاف جسم کے شدید ری ایکشن سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ڈیکسامیتھاسون سٹیروئڈ ہے اور اسے پہلی بار 1957 میں تیار کیا گیا تھا اور یہ علاج کے لیے 1961 میں منظور ہوئی۔ یہ ایک ایسی دوا ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کی جانب سے خارج کردہ مضر مادوں کو کنٹرول میں کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ سوزش کو بھی کم کرتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جو کو وڈ کے شدید مریضوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔ 

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ڈیکسامیتھاسون کوئی نئی دوا نہیں ہے بلکہ پچھلے 59 برس سے کروڑوں لوگوں کو دی جا چکی ہے اس لیے اس کے مضر اثرات کے بارے میں پہلے سے معلومات موجود ہیں۔ 

اس تحقیق کی تفصیل ریکوری ٹرائل کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، اور تحقیق ابھی تک کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس تحقیق کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کے نتائج فوری طور پر ویب سائٹ پر شائع کر رہے ہیں، جب کہ جریدے میں شائع ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی صحت