انقلاب کے آزار سے ہشیار رہو!

تمام شواہد بتاتے ہیں کہ ہمیں انقلاب کی نہیں ارتقا کی ضرورت ہے۔ مگر ارتقا صبر مانگتا ہے۔

(اے ایف پی)

انقلاب کیا ہے؟ ناپختہ ذہنوں کا استحصال اورپاپولزم کے حسین لبادے میں لپٹی ایک سنگین واردات۔ عصر حاضر اس واردات کے آزار سے سسک رہا ہے اور آواز دے رہا ہے کہ مزید تباہی سے بچنا ہے تو انقلاب کے آزار سے ہشیار رہو۔

معاشرے میں تبدیلی کے دو راستے ہیں۔ ایک فطری راستہ ہے جو مسلسل محنت سے ارتقا کی صورت ظہور کرتا ہے اور خیر کا باعث بنتا ہے۔ دوسرا غیر فطری راستہ ہے جوانقلاب کی شکل میں سامنے آتا ہے اور معاشروں کو تباہی بھر دیتا ہے۔ پہلا راستہ عقل کو مخاطب کرتا ہے دوسرا راستہ دل کو چھو لیتا ہے۔ ایک جذباتی سماج کو جو تھوڑا نیم خواندہ بھی ہو، دوسرے راستے پر ہانکنا آسان ہوتا ہے۔ گاہے محسوس ہوتا ہے، مسافتیں تمام ہونے والی ہیں لیکن پھر سامنے ایک گہری کھائی ہوتی ہے اور معلوم پڑتا ہے: ایک مرگِ ناگہانی اور ہے۔

یہ تحریر آپ خود کالم نگار کی زبانی یہاں سن سکتے ہیں۔

 

یہ اشتراکیت ہو، قومیت ہو یا اسلام، مسائل کا حل جب جب ارتقا کی بجائے انقلاب میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، المیوں نے جنم لیا۔ انقلاب کی داعی قوتیں مسائل کے دیرپا حل کی بجائے چٹکی بجاتے مسائل حل کرنے کا فارمولا پیش کرتی ہیں۔ حبیب جالب کے الفاط مستعار لوں تو ’کھیت وڈیروں سے لے لو، مل لٹیروں سے لے لو۔‘ بس مسائل حل ہو گئے۔ اسلامی انقلاب والے کہتے ہیں بس حکومت ہمیں دے دو پھر دو دنوں میں مسائل حل ہو جائیں گے۔ انقلاب کے بس کی بات ہی نہیں کہ وہ مسائل کا سنجیدہ تجزیہ کر سکے۔ وہ صرف استحصال کر سکتا ہے۔ ہٹلر کی قوم پرستی اور لینن اور سٹالن کی اشتراکیت ہی کا نہیں، اسلامی انقلاب کا معاملہ بھی دیکھ لیجیے۔ ریاستی سطح پر انقلابی ماڈل ایران ہے اور غیر ریاستی سطح پر داعش۔ کیا مزید کچھ کہنے کی ضرورت ہے؟

سٹیٹس کو بہت ہی نامبارک لفظ ہے اور انقلاب کے پلو سے ستارے لپٹے ہیں لیکن آخری تجزیے میں انقلاب کا آزار سٹیٹس کو کی بیزاری سے شدید تر ہے۔ یہ محض ایک رائے نہیں ہے۔ عرب سپرنگ سے لے کر وطن عزیز میں متعدد بار ہونے والی رومانوی مہم جوئی تک، متعدد حقیقتوں کی صورت یہ ہمارے سامنے پڑی آواز دے رہی ہے کہ یہ ناخن گرہ کشا نہیں ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ معمول کے مطابق رواں دواں زندگی میں جب کوئی غیر معمولی اہتمام کیا جاتا ہے تو وہ حادثے کو جنم دیتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان ہی کو دیکھ لیجیے۔ غیر معمولی اہتمام سے ضیاء الحق صاحب کے دور میں یہاں اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کا جو نتیجہ نکلا، ہمارے سامنے ہے۔ پھر اسی غیر معمولی اہتمام سے پرویز مشرف صاحب نے روشن خیال جدت پسندی برپا کرنے کی کوشش کی۔ غیر معمولی اہتمام سے یہاں نجی جہاد کی آبیاری کی گئی اور لڑکپن اور جوانی کی دہلیز پر منڈلاتے بچوں کی پلکوں میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے خواب سجائے گئے۔

اس کا نتیجہ بھی ہم نے پور پور لہو کروا کر دیکھ لیا۔ پھر تبدیلی کے عنوان سے ایک غیر معمولی اہتمام سامنے آیا اور اعلان عام ہوا کہ سیاست کے روایتی کرداروں کی نفی کر کے ایک صاف اور شفاف طرز حکومت متعارف کرایا جائے۔ اس کا نتیجہ بھی آپ کے سامنے رکھا ہے۔ اب احتساب کے عنوان سے ایک غیر معمولی اہتمام ہے اور بگولوں کی خاک کی طرح اس کے نتائج بھی گلی گلی اڑتے پھر رہے ہیں۔

سیاست ہو، سماج ہو یا مذہب، کٹر رویہ جہاں بھی سامنے آئے گا، حادثات کو جنم دے گا۔ میں اچھا ہوں باقی سب کرپٹ ہیں۔ صرف میں اچھا مسلمان ہوں باقی سب مشکوک ہیں۔ صرف میں ملک ٹھیک کر سکتا ہوں باقی سب چور ہیں۔ صرف میں اور میرا گروہ ملک سے مخلص ہیں باقی سب غدار ہیں۔ صرف میں ہی ملک یا امت کی ڈوبتی نیا کو پار لگا سکتا ہوں، باقی تو دھرتی پر بوجھ ہیں۔ یہ رویہ جب جہاں اور جس لبادے میں سامنے آ ئے، سمجھ لینا چاہیے ایک نیا المیہ پنپ رہا ہے۔

ہمیں انقلاب اور قائدین انقلاب کی نہیں، ارتقا اور قائدین ارتقا کی ضرورت ہے۔ سماج کی تعمیر ارتقا ہی سے ممکن ہے۔ انقلاب تو محض ایک رد عمل ہوتا ہے جو دبے اور کچلے ہوئے جذبات کو آسودگی فراہم کرتا ہے۔ یہ کورونا کی طرح پھیلتا ہے لیکن اس کی عمر جذبات کی بھاپ ختم ہونے تک ہے۔ پھر یہ ایک نیا جبر اور استحصال بھی جنم دیتا ہے۔ حقیقی تبدیلی جہد مسلسل سے آتی ہے۔ اسی کا نام ارتقا ہے۔

انسان مزاجاً جلد باز واقع ہوا ہے۔ چنانچہ انقلاب کا لفظ سنتے ہی اکثریت کا دل کھچتا سا چلا جاتا ہے۔ اسے باور کرایا جاتا ہے کہ بس یہ چند ہی لوگ ہیں جو خرابی کی اصل وجہ ہے۔ انہیں منظر سے ہٹا دیا جائے اور ان کی جگہ ایک بہتر گروہ لے لے تو آپ کی زندگی راتوں میں راتوں رات انقلاب آ جائے گا۔ جدید طرز سیاست میں آپ اسے پاپولزم کہہ سکتے ہیں۔

 جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے انقلاب کے لبادے کا نام پاپولزم ہے۔ معاشرے کی فالٹ لائنز کو نفرت کا عنوان بنا دیا جاتا ہے، سماج کی پولرائزیشن کو پرچم بنا لیا جاتا ہے، فکری استحصال کی بنیاد پر ایک ایسا ماحول بنا دیا جاتا ہے کہ لوگ معقول بات سننے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ جذبات کے سونامی پر سوار ہو کر وہ سوچ لیتے ہیں کہ بس ان کا رہنما کسی طور پر اقتدار میں آ جائے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔

یہ ’ہیرو پوجا‘ ہے۔ اس کی تاریخ بھی قدیم ہے۔ ظالم ہے تو کیا ہوا، جنگجو تو ہے۔ کھاتا ہے تو کیا ہوا، لگاتا بھی تو ہے۔ کچھ بھی نہیں کرتا تو کیا ہو، ہینڈ سم تو ہے۔ ۔ ۔ یہ سب اسی شخصیت پرستی کے مظاہر ہیں جو وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔

پاپولزم اور ہیرو ازم لوگوں کو باور کراتا ہے کہ ولن کے جانے اور ہیرو کے آنے کی دیر ہے پھر جون کے بعد دسمبر آیا کرے گا، پت جھڑ میں پھول کھلا کریں گے، ریگزاروں میں کوئل بولے گی، ہتھیلی پر سرسوں جمے گی اور سہہ پہر تک ملک کی قسمت تبدیل ہو چکی ہو گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ عرب سپرنگ میں بھی ایسا نہیں ہو سکا اور پاکستان سپرنگ میں بھی ابھی تک نہ پھول کھل پائے نہ کوئل بول سکی۔

جان لینا چاہیے، ہمیں انقلاب کی نہیں، ارتقا کی ضرورت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر