PDMA کے مطابق ٹڈی دل سے پشاور اور نوشہرہ محفوظ

صوبے کے 15 اضلاع میں ٹڈی دل کا حملہ ہوچکا ہے تاہم پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بلوچستان اور سندھ جتنا شدید نہیں۔

صوبے کے 35 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔(اے ایف پی فائل)

بلوچستان اور سندھ میں سینکڑوں کسانوں کی فصلوں کو نقصان پہنچانے کے بعد ٹڈی دل اب خیبر پختونخوا کے 15 اضلاع میں آگیا ہے جس سے نمٹنے کے لیے صوبے کے 35 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ تاہم قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ٹڈی دل کا حملہ بلوچستان اور سندھ جتنا شدید نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، پراونشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)، پودوں کے تحفظ کا ادارہ (ڈی پی پی)، محکمہ زراعت اور فوج مل کر ٹڈی دل کے حملوں کا مستعدی کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔

تاہم ماہرین زراعت کے مطابق ٹڈی دل اب بھی ہر قسم کی فصلوں کو تباہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل پرویز خان نے اس موضوع پر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ٹڈی دل کا زور پشاور، نوشہرہ اور گردونواح کے علاقوں میں ٹوٹ گیا ہے لہذا اس وقت توجہ ان علاقوں پر مرکوز ہے جہاں ان کی موجودگی زیادہ تعداد میں ہے۔

انہوں نے کہا: ’ان علاقوں میں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع شامل ہیں۔ یہیں سے ٹڈی دل صوبے میں داخل ہوئے تھے اور زیادہ نقصان بھی جنوبی اضلاع کو ہی پہنچا ہے۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا زیادہ متاثر نہیں ہوا ہے۔‘

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ ان کا ادارہ محکمہ زراعت کے ساتھ مل کر اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور اب تک 54 ہزار سے زائد ایکڑ اراضی پر سپرے مکمل ہو چکا ہے۔

ان کے بقول: ’ساتھ ہی ساتھ  آفات کے لیے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے کے تعاون سے ایک ایسی جی پی ایس ڈیوائس بھی ہمارے پاس آچکی ہے جس سے ٹڈی دل کی نشاندہی کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے جیسے ہی ہمیں ٹڈی دل کی اطلاع ملے گی ہم فوراً ٹیمیں اس علاقے میں بھیجیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ڈی ایم اے نے نوشہرہ اور پشاور کے علاقوں کو ٹڈی دل سے محفوظ قرار دیا ہے اور کسانوں اور زمینداروں سے ٹڈی دل کے موجود ہونے کی صورت میں ہیلپ لائن 1700 پر کال کرنے کا کہا ہے۔ تاہم کسانوں کی کہانی ان کی زبانی سننے سے حقائق اس سے قدرے مختلف معلوم ہوتے ہیں۔

نوشہرہ کے ایک کسان میاں جان کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل نے ان کی فصلوں کو تباہ کر دیا ہے اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت سپرے کرکے  اپنی فصل بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گنے کی فصل خراب ہورہی ہے جس کے لیے انہوں نے نہ صرف اپنے  علاقے کے زراعت کے دفتر کال کی بلکہ پشاور کے بڑے دفتر سے بھی کئی دفعہ مدد کی درخواست کی تاہم ہر بار انہیں مایوسی ہی ہوئی۔

میاں جان کا مزید کہنا ہے کہ انہیں سپرے کی ایک بوتل آٹھ سو میں مل رہی ہے جس سے چار کنال زمین کے لیے دوا تیار ہو جاتی ہے۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ سپرے سے ٹڈی کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔

انہوں نے بتایا:’پوری اراضی پر سپرے کرکے جوں ہی ہم سکون کا سانس لے لیتے ہیں، تو اگلے دن اس سے زیادہ ٹڈیوں نے فصل پر حملہ کیا ہوتا ہے اور ہم دوبارہ سر پکڑ کر رہ جاتے ہیں۔ ‘

خیبر پختونخوا کے ماہرین زراعت کے مطابق، ٹڈی دل مون سون والے علاقوں یعنی جہاں نمی زیادہ ہوتی ہے، وہاں زیادہ خوشحال رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ مون سون کے موسم تک اگر ٹڈی دل کا خاتمہ نہ ہوسکا تو اس سے نوشہرہ، چارسدہ، مردان، صوابی اور دوسرے تمام اضلاع مکمل طور پر اس کی لپیٹ میں آنے کا خدشہ ہے۔

موجودہ وقت میں جن اضلاع میں ٹڈی دل حملہ آور ہو چکے ہیں ان میں ڈیرہ اسمعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، لکی مروت، بنوں، کرک، کوہاٹ، کرم، ہنگو، نوشہرہ، اورکزئی، پشاور، خیبر اورر باجوڑ شامل ہیں۔

ان علاقوں میں ان دنوں جو فصلیں، پھل اور سبزیاں کاشت کی جا رہی ہیں ان میں مکئی، گنا، کپاس، مختلف سبزیاں اور ناشپاتی، آلوچوں، آڑو، کینوں، لیچی  اور آم کے باغات شامل ہیں۔

ٹڈی ایک ایسا کیڑا ہے جو ہر طرح کے پھل پودوں اور پتوں کو کھا کر انہیں بالکل صاف کر دیتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ٹڈی دل کا بہت بڑا اور پہلا حملہ 1963 میں بھی ہوا تھا۔ اس زمانے میں اس صوبے کے لوگ بھی ٹڈی کو پکایا کرتے تھےکیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ ٹڈی حلال  کیڑا ہے۔ جس کو عرب ممالک کے علاوہ سندھ اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں بھی کافی شوق سے کھایا جاتا ہے۔

آخری بار 1993 میں خیبر پختونخوا کی فصلوں پر ٹڈی دل نے حملہ کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان