حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہے: شہزاد اکبر

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ ججز کے معاملات سپریم جوڈیشل کونسل کو دیکھنے چاہیں۔ ’معزز جج صاحبان ہمارے آئینی حقوق کے پاسدار ہیں، ہمارے لیے محترم ہیں۔‘

 شبلی  فراز اور  شہزاد اکبر نے نیوز کانفرنس میں صحافیوں کو سوال کرنے نہیں دیا (پی آئی ڈی))

سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیے جانے پر حکومت  کا کہنا ہے کہ یہ ایک احسن فیصلہ ہے اور حکومت اس سے مطمئن ہے۔

عدالتی فیصلہ آنے کے بعد جمعہ کی شام  وزیر اطلاعات شبلی  فراز اور معاون خصوصی برائے احتساب  شہزاد اکبر نے نیوز کانفرنس کی اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق حکومتی مؤقف سے متعلق آگاہ کیا۔ البتہ پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات نہیں لیے گئے بلکہ آغاز میں ہی کہہ دیا گیا تھا کہ اس پریس کانفرنس میں سوال نہیں لیا جائے گا بلکہ صرف حکومتی موقف سے آگاہ کیا جائے گا۔

اس موقع پر معاون خصوصی برائے احتساب  شہزاد اکبر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا بہت اہم فیصلہ آیا ہے، حکومت اس فیصلے سے مطمئن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ججز کے معاملات سپریم جوڈیشل کونسل کو دیکھنے چاہیں۔ ’معزز  جج صاحبان ہمارے آئینی حقوق کے پاسدار ہیں، ہمارے لیے محترم ہیں۔‘

نامہ نگار مونا خان کے مطابق شہزاد اکبر نے کہا کہ آرٹیکل 9 کے تحت تین طریقوں سے کسی جج سے متعلق  سوال اٹھا یا جا سکتا ہے۔

’پہلا طریقہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص سپریم جوڈیشل کونسل کو معلومات دے سکتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے صدرمملکت  ریفرنس بھیج سکتے ہیں جبکہ تیسرے طریقے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل از خود نوٹس لے سکتی ہے۔‘

شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور ان کے بچوں کو نوٹسز بھیجے جائیں گے۔

’جج صاحب کی اہلیہ اور بچوں کے لندن میں تین فلیٹس  اور منی ٹریل کی تفصیل جمع کرانا ہو گی۔‘

اس سے قبل سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی ریفرنس کالعدم قرار دینے کی درخواست منظور کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں درخواستوں کی سماعت کرنے والے دس رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے شوکاز نوٹس بھی ختم کر دیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دینا کا فیصلہ 10 ججز کا مشترکہ ہے جبکہ ایک جج جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریفرنس کے خلاف قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دی ہے۔

فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا ’فورم ہمیشہ کے لیے کھلا ہے۔ سپریم کورٹ کا جج دیگر شہریوں کی طرح حقوق رکھتا ہے۔‘

اس سے قبل جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے آج کی سماعت کے اختتام پر کہا گیا تھا کہ اگر ججز کے مابین اتفاق رائے قائم ہوا تو فیصلہ سنایا جائے گا۔

فیصلہ آنے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر موجود قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم تو پہلے دن سے کہتے تھے کہ ریفرنس غیرآئینی ہے آج عدالت نے بھی کہہ دیا ہے۔‘

مختصر عدالتی فیصلے میں کیا ہے؟

سپریم کے فل بینچ کی جانب سے مختصر حکم اور اضافی نوٹ 11 صفحات پر مشتمل ہے جس میں سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جاری ریفرنس کالعدم قرار دیا گیا ہے اور انہیں جاری کیا گیا شو کاز نوٹس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

دس رکنی فل بینچ میں سے سات ججز نے آرڈر میں لکھا ہے کہ عدالتی آرڈر کے سات دن کے اندر اندر ان لینڈ ریونیو کے کمشنر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ اور ان کے بچوں کو نوٹس جاری کریں گے جن میں ان سے جائیداد خریدنے کے لیے پیسے کی وضاحت مانگی جائے گی۔ آج سے پہلے 2001 کے آرڈیننس کے تحت اہلیہ اور بچوں کے حوالے سے کوئی بھی کارروائی بھی کالعدم قرار دی گئی ہے۔

یہ تحقیقات نوٹس جاری ہونے کے 60 دن کے اندر اندر کرنا ہو گی اور اس کے بعد 15 دن کے اندر اندر کمشنر کو آرڈر جاری کرنا ہو گا۔

کمشنر کی جانب سے آرڈر کرنے کے سات دن کے اندر اندر چیئرمین ایف بی آر کو سپریم جوڈیشل کونسل کو رپورٹ جمع کرانا ہو گی اور ساتھ ساتھ تحقیقات کا تمام ریکارڈ بھی جمع کرانا ہو گا۔

ایف بی آر کی جانب سے رپورٹ کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ازخود اختیارات استعمال کرتے ہوئے آگے کی کارروائی کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکم نامے میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ ایف بی آر میں ہونے والی تحقیقات کا سپریم جوڈیشل کونسل سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔

جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے حکم نامے کے پیرا نمبر ایک (ریفرنس کا خاتمہ) سے اتفاق کرتے ہوئے حکم نامے کے دیگر مندرجات سے اختلاف کیا ہے جب کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے داخل کرائی گئی درخواست سے بھی اختلاف کیا ہے۔

تینیوں ججز نے اضافی حکم نامے میں لکھا ہے کہ عدلیہ کی آزادی آئینی اقدار کا اہم حصہ ہے اور اس آئین کے تحت ہر شخص خواہ وہ جج ہو یا کوئی بھی فرد ہو یا ادارہ ہو وہ سب قانون کے سامنے برابر ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل ایک آئینی فورم جس کے دروازے ہر کسی کے لیے کھلے ہیں اور ایک جج کو بھی ایک عام پاکستانی کی طرح آئینی تحفظ مہیا ہیں اور اس کا حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے تحت برتاؤ کیا جائے۔ ان بنیادی اقدار کی حفاظت ضروری ہے تاکہ آئین کی برتری قائم رہ سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان