شناختی کارڈ کے بغیر پناہ گزین سرکاری ہسپتال کیسے جائیں

جن تارکین وطن کے پاس قومی شناختی کارڈ نہیں ان کے بچے نویں جماعت سے آگے نہیں پڑھ سکتے، انھیں ووٹ کا حق نہیں، وہ سرکاری نوکری تو دور نجی ادارے میں بھی نوکری نہیں کرسکتے انھیں سرکاری ہسپتالوں میں مخصوص علاج بھی مہیا نہیں کیا جاتا۔

(امر گرڑو)

کراچی کی بندرگاہ سے بذریعہ حب، بلوچستان اور بذریعہ سپر ہائی وے دیگر صوبوں کی طرف سامان کی ترسیل کے استعمال ہونے والے کراچی کے ماڑی پور روڈ سے پریشر ہارن بجاتی ہیوی ٹریفک گزر رہی ہے۔

روڈ کے دائیں ہاتھ پر لیاری کی چھوٹی چھوٹی بستیاں ہیں جن کے درمیاں مین روڈ پر ایک بڑی عمارت ہے جو کسی دور میں فٹبال گراؤنڈ ہوا کرتا تھا اب رینجزز کے زیر استعمال ہے۔

 جب کہ بائیں جانب قائداعظم کی جائے پیدائش کے نام سے منسوب وزیر مینشن ریلوے سٹیشن ہے جو ویران ہے۔ پُرانی تنگ گیج کی پٹریوں پر کوئلے کے ڈھیر  لگے ہوئے ہیں۔ اور کچھ آگے رنگ برنگی لنڈے کے   کپڑے بیچنے والوں کے سٹال لگے ہیں۔

اس سے آگے گوبر کے ڈھیر کے درمیان بھینسوں کا باڑا ہے جبکہ دوسری طرف لکڑیوں کا ایک بڑا سا ٹال ہے۔

سمندر کی طرف پلستر کے بغیر سیمنٹ کے چوکوں سے بنی عمارتیں ہیں جن کی نچلی منزل کے دروازوں پر ٹاٹ اور بوری کے پردے بندھے ہیں۔

اس سے کچھ اندر ایک گلی میں دونوں جانب دکانیں ہیں۔ یہ کراچی کی مچھر کالونی کی مرکزی بازار ہے۔ مچھر کالونی کے لیے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مچھیروں کے باعث اسے یہ نام دیا گیا جب کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں مچھروں کی بہتات کے باعث اس نام سے پُکاری جانے لگی۔

مرکزی بازار کے دونوں جانب کی دکانوں کے درمیان دھوپ سے بچنے کے لیے پردے بندھے ہیں۔ دیواروں پر سیاسی پارٹیوں کے نعرے، حکیموں اور سنیاسی باباؤں کے اشتہار لگے ہیں۔ بازار کا راستہ کچا ہے اور جگہ جگہ عمارتی ملبے سے نکلے سیمنٹ کے بڑے بڑے ٹکڑے رکھے ہیں۔ خریداروں میں اکثریت کمسن بچوں کی ہے۔

اکثر دکانوں کے نام بنگالی زبان میں لکھے ہوئے ہیں جب کہ تقریباً ہر کوئی بنگالی میں خرید و فروخت کررہا ہے۔

محمدی چوک سے متصل بنگالی محلے کی ایک گلی کے ایک مکان میں دوسری منزل پر واقع دو کمروں کے آگے چھوٹے سے صحن میں بیٹھی بائیس سالہ حلیمہ اپنی کہانی بتارہی تھیں۔

چار مہینے پہلے انہیں پیٹ میں درد ہوا، گلی میں ایک دکان میں قائم کلینک میں بیٹھے ڈاکٹر کو دکھایا۔ جنھوں نے کچھ ٹیسٹ کروائے تو ان میں کالے یرقان کی تشخیص کی گئی۔

'کالے یرقان کا نجی علاج بہت مہنگا ہے، جبکہ سرکاری ہسپتالوں سے یہ علاج مفت کیا جاتا ہے۔ تو میں سول ہسپتال گئی مگر مجھے وہاں بتایا گیا کہ جن بیماریوں کا علاج لمبے عرصے تک چلتا ہے اس کے لیے قومی شناختی کارڈ کا ہونا ضروری ہے، مگر میرے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے، حتیٰ کہ میری والدہ اور والد کے پاس بھی شناختی کارڈ نہیں۔' 

سندھ میں بنگالیوں کی سیاسی تنظیم پاک مسلم الائنس کے رہنما اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) سندھ کے نائب صدر خواجہ سلمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا : ' کراچی میں مچھر کالونی بنگالیوں کی ایک بڑی آبادی سمجھی جاتی ہے ، جہاں ایک لاکھ بنگالی آباد ہیں۔ اس کے علاوہ کورنگی  میں بھی ایک لاکھ بنگالی بستے ہیں۔

ڈیڑھ لاکھ سے زائد آبادی والی مچھر کالونی 'غیر قانونی کچی آبادی' ہونے کے باعث سرکاری ریکارڈ میں سرے سے موجود ہیں نہیں ہے۔ یہاں کے اکثر مکینوں نے سمندر میں عمارتی ملبہ ڈال کر اپنی زمین بنائی اور پھر اس زمین پر گھر بنایا۔  

ہر سال 20 جون کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی جانب سے  پناہ گزینوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ پاکستان میں اس وقت کتنے پناہ گزین مقیم ہیں، مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ سرکاری طور پر پاکستان میں مقیم پناہ گزینوں کے متعلق کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

سال2000 میں پاکستان میں مقیم پناہ گزینوں کے کوائف جمع کرنے کے لیے  نیشنل ایلین رجسٹریشن اتھارٹی (نارا) نامی ادارہ بنایا گیا  تاکہ مختلف قومیتوں کے پاکستان میں مقیم تارکین وطن اپنے نام رجسٹر کراکے ورک پرمٹ، ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرسکیں اور وہ سرکاری ریکارڈ میں شامل  ہوسکیں۔ کیوں کہ پاکستانی  قانون  میں  تارکین وطن قومی شناختی کارڈ اور قومی پاسپورٹ نہیں بنواسکتے۔

سال 2000 سے 2014 تک چودہ سالوں میں صرف ایک لاکھ تارکین وطن نے اپنے نام و کوائف نارا میں درج کرائے۔ جب کہ ایک آزاد اندازے کے مطابق صرف کراچی میں 25لاکھ سے زائد غیرقانونی تارکین وطن مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ جن میں بنگالی، بہاری، برمی، افغان اور افریکی ممالک کے لوگ شامل ہیں۔  2014  میں وفاقی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے تحت  نارا کو نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں ضم کردیا اور ہدایت کی گئی کہ نادرا غیرقانونی تارکین وطن کی چھان بین کرکے ان کے کوائف کمپیوٹرائز کری گی۔

انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے رابطہ کرنے پر نادرا کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نادرا کسی بھی قسم کی کوئی بھی معلومات  کسی کو مہیا نہیں کرسکتی۔

پاکستان میں موجود پناہ گزینوں کی زیادہ تر اعداد و شمار عالمی اداروں نے اکھٹے کیے ہیں۔  یورپی یونین کے تعاون سے انٹرنیشنل  آرگنائزیشن فار مائگریشن (آئی ایم او) کے  'پاکستان مائگریشن سنیپ شاٹ' رپورٹ کے مطابق  2017 تک پاکستان میں 34 لاکھ تارکین وطن موجود تھے ان کا 45 فیصد صرف افغان شہری تھے۔

 خواجہ سلمان کے مطابق جن تارکین وطن کے پاس قومی شناختی کارڈ نہیں ان کے بچے نویں جماعت سے آگے نہیں پڑھ سکتے، انھیں ووٹ کا حق نہیں، وہ سرکاری نوکری تو دور نجی ادارے میں بھی نوکری نہیں کرسکتے انھیں سرکاری ہسپتالوں میں مخصوص علاج بھی مہیا نہیں کیا جاتا۔

ماضی میں بنگالی بولنے والوں نے بڑی تعداد میں قومی شناختی کارڈ بنالیے تھے مگر بعد میں وفاقی حکومت نے بڑی تعداد میں  شناختی کارڈ رد کرنے کے ساتھ کارڈ کے حصول کا طریقہ کار بھی مشکل بنادیا۔

خواجہ سلمان نے دعویٰ کیا کہ : 'کراچی میں رہنے والے پندرہ سے اٹھارہ لاکھ بنگالیوں میں سے نو سے دس لاکھ بنگالی پاکستانی شہریت حاصل کرچکے ہیں اور ان کے کمپیوٹرائیزڈ قومی شناختی کارڈ بھی بن چکے ہیں۔

ان کے ناموں کا اندراج ووٹر لسٹ میں ہوچکا ہے۔ نواز لیگ بنگالیوں کو شہریت دینے کی حق میں تھی، مگر ان کی حکومت نہ رہی۔ گزشتہ سال وزیراعظم عمران خان بھی بنگالیوں کو شہریت دینے کا اعلان کرچکے ہیں، اب امید ہے کہ باقی بنگالیوں کو بھی بہت جلد شہریت مل جائے گی۔'

 ان کے مطابق : ' صرف کراچی شہر میں پندرہ سے اٹھارہ لاکھ بنگالی آباد ہیں۔ جن میں کچھ آبادی بہاریوں کی بھی ہے جبکہ موسی کالونی، تیسر ٹائون، نیو کراچی، گودرا، ابراہیم حیدری، سو کوارٹرز سمیت بنگالیوں کی 120 چھوٹی بڑی آبادیاں موجود ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 پاک مسلم الائنس نے اپنی ووٹ کی طاقت کو آزمانے کے لیے گزشتہ عام انتخابات میں سندھ کی صوبائی اسمبلی کے گیارہ اور قومی اسمبلی کے سات نششتوں پر اپنے امیدوار میدان میں اتارے، جن میں کوئی کامیاب تو نہیں ہوسکا مگر ان امیدواروں نے سوا لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کرکے قومی سطح کی سیاسی پارٹیوں کی توجہ حاصل کرلی۔

بقول خواجہ سلمان 'پاک مسلم الائنس کے ٹکٹ پر جیتنے والے امیدواروں میں سے اس وقت کراچی کے بلدیاتی اداروں میں اس کے 16 یونین کونسلر اور کورنگی کریک کے ایک یونین کونسل میں ایک نائب ناظم ہیں۔'

 کراچی میں مقیم تارکین وطن میں بنگالی بولنے والوں کی اکثریت ہے مگر ساتھ میں برمیوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو خود کو اب برمی نہیں بنگالی کہلاتے ہیں۔  برما(موجودہ میانمار) کے صوبے اراکان سے کمیونسٹ انقلاب کے بعد مسلمان برمی بڑی تعداد میں پاکستان آ ئے جن کی اکثریت بنگالیوں کے علاقوں میں مقیم ہے۔

 روہنگیا سولیڈرٹی آرگنائزیشن پاکستان اور برمیز مسلم ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے سربراہ نورحسین ارکانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا 'ماضی میں بنگالیوں کو شناختی کارڈ بناکر دیے جاتے تھے مگر برمیوں کو کارڈ دینے سے انکار کردیا جاتا تھا تو اس لیے برمی خود کو بنگالی کہلاتے تھے۔ آج کراچی میں ڈیڑھ لاکھ برمی ہیں مگر ان میں کوئی بھی خود کو برمی نہیں کہلاتا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان