چین میں امریکی پیپسی بند، چکن پر بھی پابندی

چین میں کرونا وبا کی حالیہ نئی لہر کے بعد امریکہ سے مرغی اور پیپسی کی درآمدات عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

پیپسی کو  اپنی فیکٹری بند کرنے کی ہدایت اس وقت کی گئی جب مذکورہ فیکٹری میں کام کرنے والے متعدد ملازمین میں کرونا وائرس تشخیص ہوا(اے ایف پی)

چین میں گذشتہ دنوں چند نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کرونا وبا کی نئی لہر کو روکنے کے لیے مزید پابندیاں نافذ کرنا شروع کردی گئی ہیں۔

چین میں نہ صرف کھانے پینے کی مارکیٹیں بند کردی گئی ہیں بلکہ امریکہ سے مرغی کی درآمد کو بھی روک دیا گیا ہے نیز امریکی مشروب کمپنی پیپسی کی درآمدات بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی حکام نے بیجنگ میں حال ہی میں 20 لاکھ افراد کے ٹیسٹ کیے، جن میں سے 22 افراد میں کرونا کی تشخیص ہوئی۔

جن افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ان سب نے کسی نہ کسی طرح دارالحکومت کے ہول سیل مارکیٹ میں کچھ لین دین کیا تھا۔

چین کے محکمہ کسٹم جنرل ایڈمنسٹریشن نے تصدیق کی کہ بیجنگ میں نئے کیسز کی تصدیق کے بعد حکومت نے عارضی طور پر امریکہ سے درآمد ہونے والی چکن پر پابندی عائد کردی۔

چینی حکام نے امریکی چکن کمپنی ٹائسن فوڈز پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی اور ساتھ ہی حکام کو ہدایت کی گئی کہ اب تک مذکورہ کمپنی سے آنے والے گوشت کو تلف کر دیا جائے۔

امریکہ میں مذکورہ کمپنی کی فیکٹری کے متعدد ملازمین میں کرونا تشخیص کے بعد چینی حکومت نے اس کمپنی کی امپورٹ پر پابندی عائد کی۔

چینی حکام نے بیجنگ میں موجود امریکی مشروب کمپنی پیپسی کو چپس کی فیکٹری بھی عارضی طور پر بند کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پیپسی کو فیکٹری بند کرنے کی ہدایت اس وقت کی گئی جب مذکورہ فیکٹری میں کام کرنے والے متعدد ملازمین میں کرونا وائرس تشخیص ہوا۔

یاد رہے کہ بیجنگ میں تشخیص شدہ زیادہ تر نئے کیسز فریش ہول سیل مارکیٹ میں آنے جانے، وہاں سے خریداری کرنے والے یا وہاں کام کرنے والے افراد میں رپورٹ کیے گئے۔

تازہ اشیا کی مارکیٹوں میں نئے کیسز کی لہر کے بعد چینی حکومت نے پورے چین کی مارکیٹوں میں چکن، سبزی اور پھلوں سمیت دیگر چیزوں کی جانچ کرنے کا بھی آغاز کردیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا