پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے: 'امریکی الزام پر مایوسی ہوئی'

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں کی ہیں۔

امریکی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشنز کیے ہیں۔ (تصویر: اےایف پی)

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق جاری کی گئی سالانہ رپورٹ پر  اپنے ردعمل میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ رپورٹ میں پاکستان کے دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو متنازعہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے حوالے سے ہر الزام کو مسترد کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے جمعرات کو ہونے والی ہفتہ وار بریفنگ میں امریکی رپورٹ سے متعلق سوالات پر تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا کہ 'ایک طرف تو امریکی رپورٹ میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے کمی کا اعتراف کیا گیا اور تسلیم کیا گیا کہ القاعدہ کو خطے میں ناکامی کا سامنا ہوا ہے لیکن دوسری جانب القاعدہ کی ناکامی کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو نظرانداز کردیا گیا۔'

عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان اور داعش جیسے غیرملکی سرپرستی والے گروپوں سے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا کیا ہے اور پاکستان کسی بھی گروہ یا ادارے کو کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے نہیں دےگا۔'

'پاکستان ایک خودمختار ریاست کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ 'امریکی رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی ہوئی لیکن یہ اس حوالے سے خاموش ہے کہ یہ بیرونی سرپرستی والے دہشت گرد گروپ کہاں سے آپریٹ کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں متعدد کالعدم گروپوں کی قیادت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جسے امریکی رپورٹ میں کہیں تسلیم نہیں کیا گیا۔'

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عمل درآمد جاری رکھا ہوا ہے جس کو رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار نے خطے میں امن کے لیے تاریخی موقع فراہم کیا لیکن امریکی رپورٹ افغان عمل امن کے حوالے سے پاکستان کی خدمات کا مکمل طور احاطہ کرنے میں ناکام ہے۔'29 فروری کے امن معاہدے کے اختتام پر امریکہ طالبان مذاکرات کے لیے پاکستان کی مثبت شراکت اور کردار کو سراہاگیا تھا۔ امید ہے کہ مستقبل میں امریکہ کی رپورٹس دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار اور کاوشوں کو تسلیم کریں گی۔'

امریکی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟

دو روز قبل امریکی محکمہ خارجہ نے کنٹری رپورٹ برائے انسداد دہشت گردی 2019 جاری کی تھی، جس کے پہلے پیراگراف میں ہی امریکا نے ایک بار پھر پاکستان پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا سنگین الزام عائد کیا تھا۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 'پاکستان بدستور علاقائی دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کو ہدف بنانے کی اجازت دی گئی جبکہ پاکستان کی سرزمین سے لشکر طیبہ اور جیش محمد بھارت کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔'

رپورٹ کے مطابق: 'پاکستان نے بھارت کے خلاف سرگرم عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی سے اجتناب کیا جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر بھی فیصلہ کن عملدرآمد نہیں کیا گیا۔'

رپورٹ یہ بھی کہا گیا کہ 'پاکستان میں چند مدرسے تاحال انتہا پسندی پر مبنی تعلیم دے رہے ہیں اور حکومتی اقدامات کے باوجود بیشتر مدرسے رجسٹریشن کے عمل سے نہیں گزرے۔ ان مدرسوں نے اپنی مالی معاونت کے ذرائع بتائے اور نہ ہی غیرملکی طلبہ کی آمد کو محدود کیا۔'

امریکی رپورٹ یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروپ بلوچستان اور سندھ میں حملے کرتے ہیں۔ 'پاکستان مسلسل دہشت گردی کی زد میں رہا تاہم دہشت گرد حملوں میں 2018 کی نسبت کمی آئی ہے اور پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشنز بھی کیے ہیں۔'

سفارتی امور کے ماہرین اس رپورٹ کو کیسے دیکھتے ہیں؟

عالمی امور پر نظر رکھنے والے ڈاکٹر نذیر حسین نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے رپورٹ تفصیلی طور پر دیکھی ہے اور وہ سمجھتے ہیں بھارت چین کی وجہ سے مشکل میں ہے، اس لیے بھارت امریکہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالے، لیکن اگر امریکہ پاکستان کو دیوار سے لگانا چاہ رہا ہے تو اس کا نقصان امریکہ کو ہی ہو گا پاکستان کو نہیں، کیونکہ پاکستان چین کو نہیں چھوڑ سکتا اور چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ 'یہی وجہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ بھارت کے حق میں آئی ہے جس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی تحریک کو دہشت گردی کہا گیا ہے اور کشمیر وادی کو بھارت کا حصہ لکھا گیا ہے۔ یہ بھارت کا بیانیہ رہا ہے جو امریکہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'پاکستان امریکہ کے لیے اتنا ڈو مور کر چکا ہے کہ اب مزید کوئی گنجائش باقی بچی ہی نہیں۔ اب مزید ڈو مور کیا تو طالبان پاکستان کے خلاف ہو جائیں گے اور پاکستان کے لیے سب سے پہلے اپنی سالمیت ہے۔'

دوسری جانب سابق ایڈیشنل سیکرٹری دفتر خارجہ جمال شاہ نے بتایا کہ اس طرح کی رپورٹس ہمیشہ دباؤ ڈالنے کے لیے جاری کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'گذشتہ ادوار میں بھی جو امریکی رپورٹس آئی ہیں ان میں اور اس رپورٹ میں خاص فرق نہیں کیونکہ امریکہ کے دور رس ہدف ہیں اس لیے وہ پاکستان پر دباؤ قائم رکھنا چاہتا ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان