’نجی محفل میں گفتگو کا مقصد کسی کو دھمکی دینا نہیں تھا‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مبینہ طور قتل کی دھمکیاں دینے اور عدلیہ مخالف توہین آمیز گفتگو کرنے والے مولوی افتخارالدین نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔

مولوی افتخار الدین   مرزا (دائیں)   سپریم کورٹ  کے استقبالیہ  میں بیٹھے ہیں ( انڈپینڈنٹ اردو)

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مبینہ طور قتل کی دھمکیاں دینے اور عدلیہ مخالف توہین آمیز گفتگو کرنے والے مولوی افتخارالدین نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔

ایف آئی اے حکام  کے مطابق ججز کے خلاف متنازعہ ویڈیو کے مرکزی کردار مولوی افتخارالدین مرزا جمعے کو اپنے وکلا کے ہمراہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں پیش ہوئے۔

مولوی افتخار الدین نے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے بتایا کہ وائرل ہونے والی متنازعہ ویڈیو ایک نجی محفل کی گفتگو ہے جس کا مقصد نہ کسی کو ہراساں کرنا تھا اور نہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ محفل میں موجود کسی شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی اور اس کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ ’نجی محفل میں گفتگو کا مقصد کسی کو دھمکی دینا نہیں تھا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت کو بیان حلفی دے کر غیر مشروط معافی مانگ لیں گے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مبینہ طور قتل کی دھمکیاں دینے اور عدلیہ مخالف توہین آمیز ویڈیو پر مولوی افتخار الدین مرزا اور ڈی جی ایف آئی اے کو دو جولائی کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔

جبکہ مولوی افتخار الدین کی وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل غیر مشروط معافی مانگنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے بدھ (24 جون) کو اسلام آباد کے سیکرٹریٹ تھانے میں شکایت درج کروائی تھی کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں ایک شخص (مولوی افتخار الدین مرزا) نے ان کے شوہر کو قتل کی دھمکیاں دی ہیں لہٰذا پولیس نوٹس لے کر اس شخص کو گرفتار کرے، جس پر پولیس نے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت رپورٹ درج کرکے معاملہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو بھجوا دیا تھا۔

واقعے کے بعد چیف جسٹس گلزار احمد نے مولوی افتخار الدین مرزا کی مذکورہ ویڈیو پر ازخود نوٹس لے لیا تھا۔ جمعے کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مذکورہ ازخود نوٹس کی پہلی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ 'یہ سب کیا ہو رہا ہے؟' اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ 'جی بالکل میں نے دیکھا ہے اور جج کی اہلیہ نے تھانے میں درخواست دی ہے۔ اب پولیس نے معاملہ ایف آئی اے کو بھیج دیا ہے۔'

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'ایف آئی اے کچھ نہیں کر رہی۔ ایف آئی اے کے پاس ججز کے دیگر معاملات بھی ہیں۔' 10منٹ تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ 'ویڈیو میں ملک کے ادارے کو دھمکی دی گئی ہے۔ اس ادارے کے جج کا نام تضحیک آمیز انداز سے لیا گیا ہے، ریاستی مشینری نے ایکشن تاخیر سے کیوں لیا؟'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ 'ایسا کوئی میکنزم نہیں کہ ہر چیز کو مانیٹر کیا جا سکے۔ سوشل میڈیا اس قسم کے مواد سے بھرا پڑا ہے، تاہم اب ایف آئی اے نے الیکٹرانک کرائم کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔'

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر خود پیش ہو کر عدالت کی معاونت کریں۔ آج مولوی افتخار الدین کی جانب سے دو وکیل عدالت میں پیش ہوئے، جنہوں نے بینچ کو بتایا کہ مولانا صاحب خود عدالت پیش ہونے آئے ہیں، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے ان کو کمرہ عدالت میں نہیں آنے دیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 'پولیس ان کو کیوں پکڑ کر لے گئی؟ مولانا صاحب کو بلا لیں۔' پھر کچھ توقف کے ساتھ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ 'چلیں، ہم مولانا صاحب کو نوٹس جاری کر رہے ہیں۔'

اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے ڈی جی ایف آئی اے کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے سماعت دو جولائی تک ملتوی کر دی۔

مولوی افتخار الدین کے وکلا کیا کہتے ہیں؟

سماعت سے قبل دھمکی آمیز ویڈیو بیان جاری کرنے والے افتخار الدین مرزا جب سپریم کورٹ پہنچے تو ان کے اردگرد پولیس کی نفری موجود تھی۔ پہلے وہ سپریم کورٹ کے استقبالیہ میں بیٹھے رہے، اس کے بعد وہ بار روم چلے گئے اور وہاں وکلا کے ساتھ چائے پی، بعد ازاں عدالت کے کہنے پر ان کو جانے دیا گیا۔

مولوی افتخار کی خاتون وکیل سرکار عباس نے انڈپیندںٹ اردو کو بتایا کہ 'مولانا افتخار الدین غیر مشروط معافی مانگنے کے لیے آئے تھے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں کورٹ روم جانے کی اجازت نہیں دی۔'

جبکہ ان کے دوسرے وکیل نے کہا کہ 'چونکہ معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت نے تحقیقات کا کہا ہے اس لیے ہم شامل تفتیش ہونے جا رہے ہیں۔ ایف آئی اے نے بھی نوٹس کر دیا ہے تو اب ہم آج ایف آئی اے میں جا کر بیان دے کر آئیں گے۔'

اس دوران مولوی افتخار الدین نے میڈیا کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا، تاہم جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ آپ کسی کے خوف سے خاموش ہیں؟ تو مولوی افتخار ماسک نیچے کرکے ہنسے اور کوئی جواب دیے بغیر عدالت سے روانہ ہو گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان