کیا ماسک پہن کر نماز نہیں ہوتی؟

چند علما کی  رائے آنے کے بعد بعض مذہبی گروہوں اور تنظیموں نے اپنی مساجد میں اعلانات کے ذریعے صحت مند نمازیوں کو ماسک کے استعمال سے منع  کردیا ہے اور بعض مساجد میں اس حوالے سے پوسٹرز آویزاں کیے گئے ہیں۔

راولپنڈی کی ایک مسجد میں لوگ باجماعت نماز  ادا کر رہے ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

ملک میں کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے باعث لاہور میں واقع جامعہ نعیمیہ کے پرنسپل ڈاکٹر راغب نعیمی ماہ صیام کے شروع کے کچھ دنوں میں چہرے پر ماسک لگا کر نماز کی امامت فرماتے رہے، تاہم اب وہ نماز پڑھواتے ہوئے منہ اور ناک نہیں ڈھانپتے۔ 

نماز کے دوران ماسک کا استعمال ترک کرنے کی وجہ دریافت کرنے پر ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا: 'دراصل کچھ ساتھیوں نے نماز کے دوران چہرہ ڈھانپنے پر اعتراض کیا تھا، اسی لیے میں اب نماز پڑھتے یا پڑھواتے ہوئے ماسک نہیں لگاتا۔'

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے شروع میں بعض علما نے رائے دی تھی کہ عبادت کے دوران بغیر وجہ کے چہرے پر ماسک لگانا غلط فعل ہے، کیونکہ اس سے نماز یا کسی بھی دوسری عبادت میں کراہت داخل ہو جاتی ہے۔

اسلام آباد کے رہائشی کلیم اللہ شاہ بھی اب سے کچھ روز قبل تک نماز کے دوران ماسک کا استعمال کرتے تھے، تاہم اب انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 'مجھے جب معلوم ہوا کہ علما نماز میں ماسک کے استعمال کو غلط سمجھتے ہیں تو میں نے یہ عادت ترک کر دی۔ میں جب بیمار نہیں ہوں تو اپنی نماز کیوں خراب کروں؟'

نماز کے دوران ماسک کے استعمال سے متعلق علما کی  رائے آنے کے بعد بعض مذہبی گروہوں اور تنظیموں نے اپنی مساجد میں اعلانات کے ذریعے صحت مند نمازیوں کو ماسک کے استعمال سے منع کرنا شروع کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق بعض مساجد میں پوسٹرز آویزاں کیے گئے ہیں، جن پر نماز کی ادائیگی کے دوران ماسک کا استعمال نہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

تاہم اس سلسلے میں کسی گروہ یا جماعت کی جانب سے کسی قسم کی سختی برتنے کی اطلاعات موجود نہیں ہیں اور اب بھی نمازیوں کی بڑی تعداد ماسک کے ذریعے منہ اور ناک ڈھانپ کر عبادت بجا لاتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر راغب نعیمی نے بتایا: 'ہم نے اپنی مسجد میں ماسک پہننے پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہوئی بلکہ مسجد کے باہر لکھ رکھا ہے کہ ماسک لگا کر داخل ہوں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مقتدیوں میں سے کئی ایک ماسک لگا کر نماز ادا کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس متاثرہ شخص کے منہ اور ناک سے نکلتا ہے اور قریب موجود افراد کے اجسام میں منہ، ناک یا آنکھوں کے ذریعے داخل ہو سکتا ہے، اسی لیے عالمی ادارہ صحت اور ماہرین صحت سماجی دوری اور منہ اور ناک کو ماسک سے ڈھانپنے کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے موثر طریقے قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کووڈ۔19 کی علامات نہ رکھنے والوں کو بھی ماسک کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ہر کسی کو ماسک اس لیے استعمال کرنا چاہیے کیونکہ اگر کسی شخص میں کرونا وائرس کی علامات موجود نہ بھی ہوں تو عین ممکن ہے کہ ان کے جسم میں کرونا وائرس موجود ہو۔

ایسی صورت میں وہ شخص خود تو اپنے بہتر نظام مزاحمت (امیونٹی سسٹم) کی وجہ سے بیمار ہونے سے بچ جاتا ہے، لیکن سانس لینے، بولنے اور کھانسنے کے ذریعے دوسروں کو کرونا وائرس منتقل کرنے کی وجہ بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ماسک نہ صرف خود کو آپ کو دوسروں سے کرونا وائرس کی منتقلی سے بچاتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی آپ کے منہ اور ناک سے نکلنے والے ان یک خلیاتی جرثوموں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

کرونا وائرس سے بچنے کے لیے دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد سماجی رابطوں کے دوران چہروں کو ماسک سے ڈھانپتی ہے۔ 

عبادت میں ماسک کا استعمال کیوں غلط؟

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر راغب نعیمی نے وضاحت کی کہ نماز یا کسی بھی دوسری عبادت کی بجا آوری کے دوران انسانی چہرے سے کوئی چیز چپکی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے بعض علما نماز کی ادائیگی کے دوران چہرے پر ماسک کے استعمال کو غلط قرار دیتے ہیں۔

جامعہ نعیمیہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ 'ماسک لگانے سے نماز (یا عبادت) ہو تو جاتی ہے، لیکن وہ اصل کی طرح نہیں ہوتی۔ یوں سمجھ لیں کہ ماسک لگا کر پڑھی جانے والی نماز کے آپ کو پورے نمبر (اجر یا ثواب) نہیں ملیں گے، اس لیے بہتر ہے کہ پوری طرح صحت مند نمازی نماز کے دوران ماسک کے استعمال سے اجتناب کریں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 'جب مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے ہر دو نمازیوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ موجود رکھا جاتا ہے اور ترچھی (ڈائیگنل) صفیں قائم کی جاتی ہیں تو وائرس حاصل کرنے کا خطرہ نہیں رہتا، اس لیے باجماعت نماز میں بھی ماسک لگانا کوئی ضروری نہیں ہے۔'

دوسری جانب کراچی کے جامعہ بنوریہ کے مفتی الیاس کا کہنا تھا کہ غیر ضروری طور پر نماز کے دوران ماسک کا استعمال غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'نماز کے دوران منہ کو ڈھانپنا (نماز سے) خارجی عمل ہے اور اس سے گریز کرنا چاہیے۔'

مفتی الیاس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 'حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سردی کی صورت میں بھی نماز کے دوران چہرہ مبارک پوری طرح کھلا رکھتے تھے۔کوئی ایسی روایت نہیں ملتی کہ انہوں نے کبھی نماز ادا کرتے ہوئے اپنے چہرے کو ڈھانپا ہو۔'

تاہم انہوں نے کہا کہ زکام یا کھانسی یا کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ناک اور منہ کو ماسک سے ڈھانپا جا سکتا ہے۔

مفتی الیاس کا کہنا تھا: 'میں خود چونکہ صحت مند ہوں اس لیے میں نماز کے دوران ماسک استعمال نہیں کرتا۔ نماز شروع کرنے سے پہلے میں ماسک چہرے سے اتار کر جیب میں رکھ لیتا ہوں۔'

مخالف رائے

تاہم کچھ مذہبی حلقے اس حوالے سے مخالف رائے رکھتے ہیں۔

معروف مذہبی سکالر جاوید احمد غامدی کے ادارہ الموارد کے پاکستان میں سربراہ ساجد حمید نے علما کی آرا سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ قرآن و سنت میں نماز یا کسی بھی عبادت کے دوران چہرے کو ڈھانپنے کی ممانعت نہیں ملتی۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'کسی مجبوری کی صورت میں عبادت کے دوران چہرے کو ڈھانپنا جائز ہو جاتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'کسی عبادت کے مکروہ ہونے کا فیصلہ صرف اللہ تعالی کی ذات ہی کر سکتی ہے۔ انسانوں کے پاس ایسا کوئی علم یا مرتبہ موجود نہیں کہ کسی عبادت کی قبولیت یا مکروہ ہونے سے متعلق بتا سکیں۔'

اس معاملے پر اہل تشیع کے عالم علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ فقہ جعفریہ میں ماسک لگا کر نماز یا کوئی بھی دوسری عبادت ادا کرنے کی پوری اجازت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ان کے فقہ میں اس سلسلے میں قیاس کی اجازت نہیں ہے اور ماسک لگانے سے نماز کی ادائیگی میں فرق نہیں پڑے گا۔'

علامہ شبیر حسن میثمی کے مطابق: 'ماسک منہ، ناک اور گالوں کے کچھ حصوں کو چھپاتا ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ماسک لگانے سے پورا چہرہ ڈھک جاتا ہے۔ '

حکومت اکثر مذہبی مسائل میں فیصلہ دینی رہنماؤں پر چھوڑ دیتی ہے۔ اس معاملے میں بھی ابھی حکومت کی جانب سے کوئی ہدایات سامنے نہیں آئی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان