بجٹ ٹریکنگ ایپ:’بلوچستان میں معلومات حاصل کرنا مشکل‘

غیر سرکاری تنظیم کو دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں موبائل ایپ کے حوالے سے معلومات کی فراہمی میں مشکلات نے اس کی افادیت پر سوال کھڑے کردیے ہیں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے ایپ کو لانچ کرنے کی تقریب آن لائن منعقد کی گئی تھی (

 سی پی ڈی آئی )

بلوچستان جیسا پسماندہ صوبہ جہاں بعض لوگوں کو اب تک اس بات کا علم نہیں کہ تعلیم و صحت ان کا بنیادی حق ہے، ہسپتال میں ملنے والی ادویات کے پیسے دینے پڑتے ہیں یا مفت ملتی ہیں، یا ان کے بچوں کو سرکاری سکول سے فائدہ ہے تو ان کو اس بات کا کیسے پتہ ہو گا کہ ہر سال ایک بجٹ آتا ہے، اس کے پیسے کن منصوبوں میں لگتے ہیں، وہ منصوبہ کس حد تک شفاف ہے اور ان منصوبوں پر کتنی رقم خرچ ہوئی ان سب باتوں کو سمجھنا ان کے لیے ناممکن ہے۔

ایسے لوگوں کے ان مسائل کے حل کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم  نے بیڑہ اٹھایا تو خود بھی مسائل کا شکار ہوگئی۔ 

تنظیم نے صوبے کے بجٹ میں شامل تین منصوبوں صحت، تعلیم  اور پانی کو ایک موبائل اپلیکیشن میں سمونے کی کوشش کی تاکہ ایک عام  شہری کو معلوم ہوسکے کہ بجٹ کے پیسے کہاں خرچ ہوتا ہے۔

سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلمپمنٹ انیشیٹو کی پراجیکٹ منیجر مونس کائنات زہرا اس ایپ  ڈی ایل جی بجٹ ٹریکر کو جدید دور میں لوگوں کو بجٹ کے حوالے سے معلومات تک رسائی کا آسان ذریعہ قرار دیتی ہیں تاکہ وہ اپنے ٹیکس کے پیسوں کے استعمال کے بارے میں جان سکیں۔

مونس کائنات کہتی ہیں کہ اس ایپ میں پاکستان بھر کے 15 اضلاع میں صحت، تعلیم  اور پانی کے منصوبوں کے بارے میں ڈیٹا جمع کیا گیا ہے۔

تنظیم کے مطابق موبائل ایپ کو گوگل پلے سٹور سے مفت ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے اور اس میں بلوچستان کے پانچ اضلاع کے منصوبوں کے بارے میں  معلومات درج ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم کو دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں موبائل ایپ کے حوالے سے معلومات کی فراہمی میں مشکلات نے اس کی افادیت پر سوال کھڑے کردیے ہیں۔

مونس کائنات کہتی ہیں کہ ’جہاں ہمیں دیگر دو صوبوں سندھ اور خیبر پختونخوا میں بجٹ کے حوالے سے معلومات ان کی ویب سائٹ پر ہی آسانی سے مل گئیں وہیں بلوچستان میں صورتحال مختلف ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو خیبر پختونخوا میں معلومات چاہیں تو وہ آسانی سے مل جاتی ہیں کیونکہ وہاں کی سرکاری سائٹس میں تفصیل موجود ہے لیکن بلوچستان میں یہ صورتحال یکسر مختلف ہے۔

مونس کے بقول ایک تو بلوچستان میں معلومات سرکاری ویب سائٹس پر موجود نہیں بلکہ اگر کوئی حاصل کرنا چاہے تو بھی اسے نہیں مل سکتی ہیں۔

تنظیم کے مطابق بلوچستان میں ایک تو تمام سرکاری ویب سائٹس پرانی ہیں اور وہ اپ ڈیٹ بھی نہیں ہوتیں جبکہ محکمہ خزانہ کی سائٹ پر تو بجٹ کے حوالے سے کچھ بھی درج نہیں ہے۔

مونس کائنات نے بتایا کہ ’جب ہم نے بلوچستان میں معلومات تک رسائی کی کوشش متعلقہ اداروں کی جانب بہانے دیکھنے کو ملے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنی تنظیم کے توسط سے 30 سے 40 درخواستیں جمع کرائیں اور صوبائی محتسب سے بھی رابطہ کیا لیکن کامیابی پھر بھی نہ ہوئی۔

تنظیم کے مطابق موبائل ایپ بنانے کے دوران بلوچستان حکومت نے ’ہمیں تین شعبوں صحت، تعلیم  اور پانی کے منصوبوں کے اخراجات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔‘

تنظیم کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں انڈرائیڈ موبائل استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 97 فیصد ہے اور 60 فیصد لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے۔

مونس کائنات کہتی ہیں کہ چونکہ انڈرائیڈ موبائل آج کل عام ہیں اور ہم نے اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے موبائل ایپ بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ لوگوں کو اپنے بنیادی مسائل کے حل کی معلومات مل سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موبائل ایپ کو لانچ کرنے میں سی پی ڈی آئی کے ساتھ یورپی یونین اور فریڈک نومین فاؤنڈیشن  فار فریڈم نے مالی تعاون کیا ہے۔

اس ایپ کی آن لائن لانچنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کی منفرد ایپ ہے جو بجٹ کے حوالے سے بنائی گئی ہے۔

مختار احمد علی نے مزید کہا کہ اس ایپ کے ذریعے نہ صرف مختص شدہ بجٹ کی معلومات بلکہ نظر ثانی شدہ تخمینوں اور اخراجات کی معلومات بھی میسر ہے۔

بلوچستان میں معلومات تک رسائی کا قانون کیوں کمزور ہے؟

بلوچستان میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ کی جدوجہد کرنے والے سماجی کارکن اور ماہر آر ٹی آئی بہرام بلوچ سمجھتے ہیں بلوچستان میں فریڈم آف انفارمیشن کا قانون تو موجود ہے لیکن بہت کمزور حالت میں ہے۔

بہرام بلوچ کے بقول، یہاں باقی صوبوں کے نسبت صورتحال اس وجہ سے مختلف ہے کہ یہاں کوئی ادارہ آپ کو معلومات دینے کا پابندی نہیں ہے۔

بہرام کے مطابق، آرٹی آئی کے قانون کے مطابق باقی صوبوں میں عام شہری کی درخواست پر متعلقہ ادارہ دو ہفتے میں جبکہ بلوچستان میں 60 دنوں میں جواب دینے کا پابند ہے۔

بہرام بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو  کو بتایا کہ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوجاتی ہے کہ بلوچستان کے قانون کے تحت اگر شہری کی درخواست میں غلطی پائی گئی تو اسے سزا ملے گی جبکہ دیگر صوبوں میں جواب نہ دینے والے کو سزا ملتی ہے۔

دوسری جانب  محکمہ سائنس اینڈ انفارمیشن کے مطابق حکومت کی طرف سے سائبر لاز کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے بعض چیزوں تک عام  لوگوں کی رسائی ممکن نہیں ہے۔

محکمہ سائنس اینڈ انفارمیشن  بلوچستان کے ایک اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جس حد تک ’ہمیں اجازت ہے وہ معلومات ہم ویب سائٹس پر شائع کردیتے ہیں۔‘

’محکمہ تعلیم کے حوالے سے ہم نے الگ آن لائن ویب سائٹ بنائی ہے جس میں تمام معلومات موجود ہیں۔‘

ان کے مطابق اگر دیگر صوبوں کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کوئی معلومات عام دستیاب ہیں تو یہ ان لوگوں نے خود کیے ہوں گے۔ ’ہماری حکومت نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔‘

’بلوچستان میں صورتحال دیگر صوبوں کی نسبت ذرا مختلف ہے اور بعض  معلومات عام شہریوں کو نہیں دی جاسکتیں۔ تاہم  پہلے جو شکایت تھی کہ بلوچستان کی سرکاری ویب سائٹس اپ ڈیٹ نہیں ہوتیں ایسا اب نہیں بلکہ ویب سائٹ باقاعدہ اپ ڈیٹ ہورہی ہیں۔‘ 

گوکہ موبائل ایپ کے بارے میں لوگوں کی معلومات تو کم ہیں لیکن غیر سرکاری تنظیم  پرعزم ہے کہ وہ اپنے پارٹنر اداروں کے ساتھ مل کر اسے ہر ایک  شہری تک پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں  گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی