اویغور مسلمانوں کا معاملہ: چینی عہدیداروں پر پابندیاں عائد

ان چینی عہدیداروں میں سنکیانگ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ چین کوانگو بھی شامل ہیں جو ان اقلیتوں کے خلاف بیجنگ کی سخت گیر پالیسیوں کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے امریکہ میں ان چینی افراد کے ساتھ کسی قسم کا لین دین کرنے کو بھی جرم قرار دیا ہے (اے ایف پی)

امریکہ نے چین کے صوبے سنکیانگ میں رہنے والے اویغور اور ترکی النسل مسلمانوں کے حقوق کی 'سنگین' خلاف ورزیاں کرنے پر کئی چینی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔

ان پابندیوں کا اعلان امریکہ کی جانب سے جمعرات کو کیا گیا ہے، جن کے تحت چینی عہدیداروں پر امریکی ویزا حاصل کرنے پر پابندی ہوگی جبکہ امریکہ میں موجود تمام اثاثے بھی منجمد کرلیے جائیں گے۔

ان چینی عہدیداروں میں سنکیانگ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ چین کوانگو بھی شامل ہیں جو ان اقلیتوں کے خلاف بیجنگ کی سخت گیر پالیسیوں کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔

 امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ 'امریکہ نے ان سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے خلاف اقدام اٹھایا ہے جن میں مغربی علاقوں میں جبری مزدوری، بڑی تعداد میں لوگوں کو قید رکھنا اور زبردستی آبادی کو کنٹرول کرنے جیسی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔'

اپنے بیان میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'امریکہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے اویغور، قزاق اور سنکیانگ میں موجود دوسرے اقلیتی گروہوں کے خلاف ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہے گا۔'

پابندیوں کے شکار دوسرے دو عہدیداروں میں سنکیانگ پبلک سکیورٹی بیورو کے ڈائریکٹر وانگ منگ شان اور اس علاقے کے سابق کمیونسٹ رہنما زو ہے لون شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے امریکہ میں ان افراد کے ساتھ کسی قسم کا لین دین کرنے کو بھی جرم قرار دیا ہے جبکہ ایک اور عہدیدار ہو لیوجن پر بھی معاشی نوعیت کی پابندی عائد کی گئی ہے لیکن ان پر ویزا حاصل کرنے کی پابندی نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محمکہ خزانہ نے سکیورٹی بیورو پر بھی بطور ادارہ پابندی عائد کی ہے جس کی وجہ اویغور اور باقی اقلیتوں کی سخت نگرانی کو قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اویغور حقوق کے لیے سرگرم اویغور ہیومن رائٹس گروپ پروجیکٹ نے ان پابندیوں کی تعریف کرتے ہوئے دوسرے ممالک پر بھی ایسے اقدامات لینے پر زور دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمر کنات کا کہنا تھا: 'آخر کار ان اقدامات کے نتائج آنا شروع ہو گئے، جن کے لیے اویغور افراد کو بہت انتظار کرنا پڑا ہے۔'

کنزرویٹو ہیریٹج فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والی ماہر انسانی حقوق اولیویا اینوس کا کہنا ہے کہ چین کی سنکیانگ میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے حوالے سے کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا لیکن انہوں نے امید ظاہر کی چین پر ان پابندیوں کے اثرات مرتب ہوں گے۔

اس حوالے سے کی جانے والی تازہ ترین کوششوں میں 78 ارکان کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کو لکھا جانے والا وہ خط بھی شامل ہے جس میں ان کی انتظامیہ پر زور دیا گیا تھا کہ وہ چین کی پالیسیوں کو نسل کشی قرار دیں۔

واشنگٹن میں اس بارے میں بڑے پیمانے پر پائی جانے والی تشویش کے باوجود سابق امریکی مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے اپنی کتاب میں لکھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے اس موضوع پر رویہ سے حیران تھے۔'

بولٹن نے اپنی کتاب میں لکھا کہ 'تجارتی معاہدے کے حوالے سے ہونے والی ملاقات کے دوران جب چینی صدر نے اویغور افراد کے حوالے سے اپنی حکمت عملی سے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ درست عمل ہے۔'

یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اس حوالے سے پہلے بھی چین پر سخت تنقید کر چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا