بلوچستان کی وہ ڈاکٹر نہ رہیں ’جنہیں دنیا نے مسیحا کے روپ میں دیکھا‘

صوبہ بلوچستان ایک ایسی ڈاکٹر سے محروم ہو گیا ہے جنہیں دنیا نے واقعی ایک مسیحا کے روپ میں دیکھا تھا۔

باز محمد کاکڑ فاؤنڈیشن نے ڈاکٹر شہلا کو  ایوارڈ سے بھی نوازا تھا (سوشل میڈیا)

یوں تو دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا آنے کے بعد سے فرنٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے آئے روز ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ارکان کی اموات ہو رہی ہیں اور پاکستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے کئی ڈاکٹر اور طبی عملے کے ارکان جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ہر ہسپتال، ہر ڈاکٹر اور طبی عملے کے ہر رکن کی اپنی کہانی اور کردار ہے مگر صوبہ بلوچستان ایک ایسی ڈاکٹر سے محروم ہو گیا ہے جنہیں دنیا نے واقعی ایک مسیحا کے روپ میں دیکھا تھا۔

یہ آٹھ اگست 2016 کی بات ہے جب بلوچستان کے سول سنڈیمن ہسپتال میں ایک بڑا سانحہ رونما ہوا تھا۔

ان دنوں ٹیلی ویژن سکرین، سوشل میڈیا الغرض ذرائع ابلاغ کے ہر میڈیا پر ایک تصویر گردش کرتی رہی جس میں ایک ڈاکٹر شہلا بم دھماکے میں زخمی وکیل کو موقع پر اس طرح سے طبی امداد فراہم  کرتی نظر آئیں گویا وہ زمانہ قدیم کے ایک میدان جنگ میں سپاہیوں کی مدد کر رہی ہوں۔

گذشتہ روز ڈاکٹر شہلا کرونا وائرس نہیں بلکہ دل کے دورے کے باعث ہلاک ہوگئیں۔ ان کی اس طرح اچانک موت نے ان کے چاہنے والوں کو کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔

ان کی ساتھی ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ان کی زندگی کے کچھ لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ اس قدر مریضوں سے انس رکھتی تھیں کہ اکثر ان کے ساتھی ڈاکٹروں کے ساتھ جھگڑے کسی اور چیز پر نہیں بلکہ مریض کے حوالے سے ہوتے تھے۔

ڈاکٹر عائشہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اگر میں کہوں کہ ڈاکٹر شہلا سمیع کاکڑ کا نعم البدل ملنا ناممکن ہے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ میں نےمریض کی صحت یابی کے لیے اتنی محنت کرنے والی ڈاکٹر نہیں دیکھی۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ اکثر ایسی خواتین مریض آتی تھیں جن کے پاس علاج کے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے جن کو ڈاکٹر شہلا نہ صرف مفت ادویات دیتیں بلکہ بعض اوقات انہیں خون بھی خرید کر دیتی تھیں۔‘

یاد رہے کہ ڈاکٹر شہلا کی ایک بہن بھی ڈاکٹر ہیں اور ان کے والد پاکستان فوج میں کرنل کے عہدے پر رہ چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سال 2016 میں کوئٹہ میں وکلا پر ہونے والا حملہ ملک بھر میں شدت پسندی کے واقعات کا بڑا واقعہ تھا جس میں 70 سے زائد وکلا ہلاک ہوئے تھے۔

ڈاکٹر عائشہ اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ جب یہ واقعہ ہوا تو نہ صرف ہر ایک کو اپنی جان کی فکر لگ گئی بلکہ لوگ ہسپتال سے نکلنے لگے لیکن واحد ڈاکٹر شہلا  تھیں جنہوں نے زخمیوں کی جان بچانے کو ترجیح دی۔

’وکلا کے واقعہ کے علاوہ ڈاکٹر شہلا نے ہزارہ برادری کے ایک رہنما حسین یوسفی پر حملے کے دوران بھی ایسی ہی پھرتی اور جوش کا مظاہرہ کر کے زخمیوں کو طبی امداد دی جو شاید کوئی اور نہ کرسکے۔‘

ڈاکٹر شہلا کی دیگر خوبیوں کے علاوہ اپنے کام میں مہارت کے حوالے سے ڈاکٹر عائشہ نے بتایا کہ وہ بلوچستان کی واحد میڈیکل ایجوکیشنسٹ بھی تھیں اور گائنی میں بھی ان کی کارکردگی سب سے بہتر تھی۔

وکلا رہنما اور سینیئر وکیل باز محمد کاکڑ جو وکلا پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے تھے کے نام پر بننے والے باز محمد کاکڑ فاؤنڈیشن نے ڈاکٹر شہلا کو  ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔

ڈاکٹر عائشہ نے بتایا کہ  ڈاکٹر شہلا نے وقت کی پابندی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور وہ اصولوں کی پکی تھیں اور چاہتی تھیں کہ ان کے جونیئر بھی ویسا ہی کریں۔

گوکہ بلوچستان میں اور بھی خواتین ڈاکٹر ز موجود ہیں لیکن ڈاکٹرعائشہ سمجھتی ہیں کہ ڈاکٹر شہلا کی موت سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ شاید کبھی پر نہ ہو سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین