دس سال بعد کھلنے والی مسجد، ’خوف کی علامت‘ سمجھی جاتی رہی

گذشتہ سال پشاور ہائی کورٹ میں ایک شہری کی جانب سے درخواست دائر کی گئی کہ دس سے سال سے بند مسجد قبا جو عام لوگوں میں ’طمانچے ملا مسجد ‘ کے نام سے مشہور ہے کو نمازیوں کے لیے کھولا جائے۔

یہ مسجد تقریباً ایک کنال رقبے پر واقع ہے اور علاقے کی ایک بڑی مسجد سمجھی جاتی ہے (تصویر: ولی خان شنواری)

پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں دس سال سے بند ’طمانچے ملا‘ کے نام سے مشہور مسجد کو نمازیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے جہاں آج دس سال بعد پہلی نماز جمعہ ادا کی گئی۔

پاکستان کے قبائلی اضلاع میں جب شدت پسندی عروج پر تھی تو اس مسجد کے مولانا محمد نبی جو ’طمانچے ملا‘(پستول والا مولانا) کے نام سے مشہور تھے اور شدت پسندی کے لیے اس مسجد کو استعمال کرتے تھے تاہم بعد میں انتظامیہ نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔

گذشتہ سال پشاور ہائی کورٹ میں ایک شہری کی جانب سے درخواست دائر کی گئی کہ دس سے سال سے بند مسجد قبا جو عام لوگوں میں ’طمانچے ملا مسجد ‘ کے نام سے مشہور ہے کو نمازیوں کے لیے کھولا جائے۔

درخواست گزار کے وکیل طارق افغان نے انڈپینڈںٹ اردو کو بتایا کہ یہ مسجد ’خوف‘ کی علامت تھی اور ’طمانچے ملا‘ جو کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے سرگرم کارکن تھے اسی مسجد میں شدت پسندی کے منصوبے بناتے تھے۔

طارق افغان نے بتایا کہ ’اس مسجد کے خطیب تھیالوجی کے سرکاری استاد تھے اور 2009 تک حکومت سے تنخواہ بھی لیتے رہے جبکہ دوسری جانب وہ شدت پسند کارروائیوں میں بھی ’ملوث‘ تھے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کیس گذشتہ ایک سال سے چلا آ رہا تھا لیکن ضلع خیبر کی انتظامیہ عدالت میں اپنا جواب دائر نہیں کرتی تھی تاہم جمعرات کے روز اس کیس کی سماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ دیتے ہوا کہا کہ علاقے کے بزرگوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے جو مسجد کو کھولنے کا فیصلہ کریں۔

مسجد کو عدالتی فیصلہ آنے کے بعد  خیبر سیاسی اتحاد نامی تنظیم کی جانب سے کھول دیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ مسجد تقریباً ایک کنال رقبے پر واقع ہے اور علاقے کی ایک بڑی مسجد سمجھی جاتی ہے۔ مسجد کے احاطے میں مختلف پودے اور درخت بھی لگائے گئے ہیں۔

مسجد کھولتے وقت علاقے کے بہت سے لوگ اس موقع پر موجود تھے اور مسجد کا تالا توڑ رہے تھے جبکہ علاقے کے مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندگان سمیت مشران بھی موجود تھے۔

خیبر سیاسی اتحاد کے سربراہ مفتی محمد اعجاز شنواری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ  ’ایک عجیب کیفیت تھی جب دس سال بعد آج اسی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ  پہلے یہ بد امنی اور خوف کی نشانی لیکن اللہ کے فضل سے اب امن بحال ہوا ہے اور اس کا کھولنا عوام کے لیے خوشی کی بات ہے۔

مفتی اعجاز کے مطابق اس کا کھولنا ایک عوامی مطالبہ تھا کیونکہ اس  مسجد کے قریب بازار بھی ہے اور وہاں کے لوگوں کو نماز کی ادائیگی میں مشکلات تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’نمازیوں نے مسجد میں نوافل ادا کیے اور اللہ سے بخشش مانگی کیونکہ دس سال تک اللہ کا یہ گھر بند پڑا تھا لیکن اب اس کو علاقہ مکینوں کی محنت سے کھول دیا گیا اور بلا کسی خو ف اس میں نماز ادا کی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان