ایک منٹ میں تین گھر بنانے کا جادوئی منصوبہ

عمران خان کی حکومت نے 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا ہے مگر کیا انہوں نے سوچا کہ زمینی حقائق بھی کوئی چیز ہوتے ہیں؟

اکتوبر 2017 میں اقوام متحدہ کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا تھا، جس کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت دس کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہیں اور یہ کہ ان میں سے دو کروڑ صرف پاکستان میں ہیں۔(اے ایف پی)

خان صاحب کی طرف سے 50 لاکھ گھر بنانے کا اعلان پہلی مرتبہ 2017 کے اواخر میں اس وقت سامنے آیا تھا جب میاں صاحب کی نااہلی کے بعد عنان اقتدار شاہد خاقان عباسی کو سونپی جا چکی تھی اور تحریک انصاف کے کارکنوں کا جوش و خروش عروج پر تھا، جسے بعد میں باقاعدہ انتخابی منشور کا حصہ بنایا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ہی دنوں (اکتوبر 2017 میں) اقوام متحدہ کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا تھا، جس کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت دس کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہیں اور یہ کہ ان میں سے دو کروڑ صرف پاکستان میں ہیں۔ سو زیادہ قرین قیاس بات یہی ہے کہ انہیں یہ خیال اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والے اس بیان کے بعد سوجھا ہو گا۔

ہمارا گمان کہتا ہے کہ خان صاحب کسی جلسے کے لیے گئے ہوں گے تو کسی نے ان کا دھیان اس بیان کی جانب مبذول کروایا ہو گا اور جب خان صاحب تقریر کے لیے اٹھے ہوں گے تو ان صاحب نے ان کے کان میں یہ بات انڈیل دی ہو گی (پرچی اس لیے لکھ کر نہیں دی گئی ہوگی کہ انہیں میاں نواز شریف کی پرچیوں سے بہت چڑ تھی) کہ آج ہی اس کا اعلان کر دیں، مبادا کوئی سیاسی حریف اس کا پہلے اعلان نہ کردے۔ انہوں نے بھی بغیر سوچے سمجھے (جو شروع ہی سے ان کا طرۂ امتیاز ہے) اس کا اعلان کر دیا تا کہ مجمعے کو مزید گرمایا جا سکے۔

یہ اعلان کرتے وقت نہ تو انہوں نے زمینی حقائق کو مد نظر رکھا اور نہ ہی کسی سے مشورہ کیا۔ ہمیں حیرانی تو اس بات کی ہے کہ اسد عمر اور عمر ایوب جیسے لوگوں نے بھی، جن کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ وہ معاشی اعداد و شمار پر سند کا درجہ رکھتے ہیں، انہیں کوئی مناسب مشورہ نہیں دیا۔

جب کوئی سیاسی رہنما انتخابی مہم کے دوران کوئی وعدہ کرتا ہے تواس کا سیدھا سیدھا مطلب یہی ہوتا ہے (یا زیادہ آسان لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ ان کے مخاطب یہی سمجھتے ہیں) کہ اگرعوام نے اسے منتخب کیا تو وہ اپنی آئینی مدت کے اندر اندر اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچاکر عوام سے کیا ہوا وعدہ نبھائے گا۔ خان صاحب نے اپنی تقریروں میں اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ٹائم فریم نہیں دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم حکومت بننے کے صرف تین ماہ بعد چھ نومبر 2018 کو تحریک انصاف کے رہنماؤں فردوس شمیم نقوی اور محمود الرشید نے ہاؤسنگ ٹاسک فورس کے چیئرمین ضیغم رضوی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ہم ہر سال دس لاکھ گھر بنائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں اس وقت کم سے کم ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی ہے لیکن ہمارا ہدف پانچ سال میں 50 لاکھ گھر بنانا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض دعویٰ نہیں تھا بلکہ خان صاحب کی حکومت اس معاملے میں سنجیدہ تھی۔

ہمارا ذاتی خیال ہے کہ عمران خان صاحب اس معاملے میں اب بھی سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران جتنے بھی دعوے اور وعدے کیے تھے وہ ان سب پر یوٹرن لے چکے ہیں، لیکن یہ وہ واحد دعویٰ یا وعدہ ہے، جس پر وہ ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں اور اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے معروضی حقائق کیا ہیں، آئیے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ان 50 لاکھ گھروں پر فی گھر صرف 20 لاکھ روپے لاگت آئے گی۔ اگر ہم انہیں آپس میں ضرب دے دیں تو صور ت کچھ یوں بنتی ہے۔
2,000,000*5,000,000=10,000,000,000,000

اب ان اعداد کو لفظوں میں کیسے لکھا جائے، ہمارا حساب جواب دے چکا ہے۔ غالباً یہ رقم سو کھرب روپے بنتی ہے۔ اسد عمر صاحب نے دعوی ٰ کیا تھا کہ ہم اس سلسلے میں پبلک سیکٹر کو شریک کریں گے۔ ہمارے ایک دوست، جو معیشت میں تھوڑی بہت درک رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے تمام بینک اپنے سارے منصوبے ترک کر کے اپنا تمام تر سرمایہ اس منصوبے میں جھونک دیں تو بھی حکومت کو صرف 13 کھرب سالانہ دستیاب ہو سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کی سکت بینکوں میں بھی نہیں۔

ادھر وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ حکومت کے پاس اب صرف تین سال ہیں۔ اگر بینک اس پر رضامند بھی ہو جائیں تو کل رقم 39 کھرب روپے بنتی ہے۔

چلیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ہمارے اس منصوبے کو یورپ، امریکہ اور اسرائیل کی پوری پشت پناہی حاصل ہے کیوں کہ ان کی تمام تر معاشی بقا اسی میں ہے کہ خان صاحب اپنی ریاست مدینہ کا یہ مجوزہ منصوبہ ہرصورت میں مکمل کریں اور انہوں نے نہ صرف اس کے لیے تمام تر سرمایہ فراہم کر دیا ہے بلکہ مشینری اور افرادی قوت بھی فراہم کر دی ہے۔ اب صرف اینٹیں اور بجری ڈھو کر بسم اللہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس صورت میں انہیں کتنی تیزی دکھانا ہو گی، اس کا حساب بھی لگے ہاتھوں کیے چلتے ہیں۔

فرض کریں (افسوس صد افسوس ہمیں ہر جگہ فرض ہی کرنا پڑ رہا ہے) خان صاحب کی حکومت 18 اگست 2020 کو اپنے دو سال مکمل ہونے پر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام شروع کر دیتی ہے۔ حکومت کے پاس کل تین برس یعنی 1095 دن ہیں۔

اس حساب کتاب سے اسے صرف 4566 مکان روز بنانے ہوں گے۔ اگر تقسیم کا عمل مزید جاری رکھا جائے تو ہر گھنٹے میں 190 اور ہر منٹ میں تین سے زائد مکان بنانے ناگزیر ہوں گے، تا کہ وہ عوام سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کر سکیں۔

اب اس بات کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں عموماً ایک گھر میں درجن سے زائد افراد رہتے ہیں۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ہمارے سب سے بڑے شہر کراچی، جس کی آبادی اندازاً اڑھائی کروڑ ہے، وہاں ہر گھر میں اوسطاً دس افراد رہائش پذیر ہیں۔ اگر اڑھائی کروڑ کی آبادی کو دس پر تقسیم کریں تو جواب 25 لاکھ آتا ہے۔ یعنی پورے کراچی میں اس وقت صرف 25 لاکھ مکان ہیں۔ تین سال میں کراچی جتنے دو شہر بسانا کسی معجزے سے کم نہیں۔

بہرحال خان صاحب کی مجوزہ ’ریاست مدینہ‘ سے کچھ بعید نہیں کہ وہ یہ معجزہ کر ہی دکھائے۔ ویسے بھی خان صاحب کے نہ صرف ادارے پختہ ہیں بلکہ ان کی نظر بھی ہر وقت خدا پر رہتی ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے۔

ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

سو انہیں ہمارے ان اعداد و شمار سے گھبرانا نہیں چاہیےاور اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ معجزوں کے سامنے اس طرح کے زمینی حقائق کوئی معنی نہیں رکھتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ