'وہ زیادہ بچے پیدا کر رہے ہیں کیونکہ وہ زیادہ کھا رہے ہیں'

چڑیا گھر کے سربراہ نور الاسلام کا کہنا ہے کہ 'ہجوم کی عدم موجودگی کی وجہ سے جانور اب زیادہ کھا رہے ہیں۔ ماضی میں بہت زیادہ کھانا ضائع ہوتا تھا یا باقی رہ جاتا تھا۔ اب شاید ہی کھانا ضائع ہوتا ہو۔ وہ زیادہ بچے پیدا کر رہے ہیں کیونکہ وہ زیادہ کھا رہے ہیں۔'

بنگلہ دیش کے سب سے بڑے چڑیا گھر کی انتظامیہ  کے مطابق حالیہ مہینوں میں کرونا وبا کی وجہ سےچڑیا گھر بند کرنے کے بعد جانوروں کی پیدائش میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

200 ایکڑ پر پھیلا ڈھاکہ چڑیا گھر 140 انواع کے 2778 جانوروں کا گھر ہے جن میں کم از کم آٹھ بنگال ٹائیگر شامل ہیں۔

بنگلہ دیش میں پایا جانے والا یہ جاندار معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔

یہ چڑیا گھر شہر کے نواحی علاقے میرپور میں 1974 میں قائم کیا گیا تھا۔

چڑیا گھر بنگلہ دیشی دارالحکومت کا ایک گنجان آباد مقام ہے ، جہاں ہر روز تقریبا 15 ہزار سے 25 ہزار سیاح آتے ہیں۔

لیکن کووڈ 19 سے شدید متاثر ہونے والے ملک بنگلہ دیش میں حکام نے 20 مارچ سے ہی یہ چڑیا گھر بند کر رکھا ہے جس کی وجہ تنگ جگہوں میں سماجی دوری کے اصول کے نفاذ میں ممکنہ ناکامی تھی۔

چڑیا گھر کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چڑیا گھر کی بندش ان جانوروں کے لیے ایک مثبت اقدام ثابت ہوا ہے۔

جانوروں کے کھانے کی عادت 'ہجوم سے پاک ماحول' میں بہتر ہوئی ہے اور انہوں نے اب ایک ریکارڈ تعداد میں افزائش نسل کی ہے۔

ڈھاکہ چڑیا گھر کے کیوریٹر نور الاسلام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'پچھلے چار مہینے میں افزائش کی تعداد ماضی کے مقابلے میں بڑا اضافہ تھی۔'

وہ پیدائش کے تقابلی اعدادوشمار نہیں دے سکے لیکن انہوں نے کہا کہ اس سال یہ تعداد پہلے سے بہت زیادہ ہے۔

نور الاسلام کا کہنا ہے کہ 'ہجوم کی عدم موجودگی کی وجہ سے جانور اب زیادہ کھا رہے ہیں۔ ماضی میں بہت زیادہ کھانا ضائع ہوتا تھا یا باقی رہ جاتا تھا۔ اب شاید ہی کھانا ضائع ہوتا ہو۔ وہ زیادہ بچے پیدا کر رہے ہیں کیونکہ وہ زیادہ کھا رہے ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نور الاسلام کا کہنا ہے کہ پچھلے چار مہینوں میں مور ، ایموس ، ہرن ، گدھا اور ایک زرافے سمیت پچاس جانور پیدا ہوئے ہیں۔ افریقہ سے لائے جانے والے شترمرغ نے بھی انڈے دیے ہیں ، جن کو انکیوبیٹرز میں رکھا جارہا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ کرونا کے دنوں سے پہلے رش کی وجہ سے جانور زیادہ تر پنجروں کے دور دراز کونوں میں رہتے تھے اور بعض اوقات افسردہ بھی ہوتے تھے جس کی وجہ سے ان کی کھانے کی عادات پر اثر پڑتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ 'اب وہ پنجرے کے ہر کونے میں آزادانہ طور پر چلتے ہیں۔ اب وہ خوش ہیں۔'

ڈھاکہ کا یہ سرکاری چڑیا گھر فروری میں اس وقت بھی خبروں کی زینت بنا تھا جب اس کی جانب سے ہاتھیوں کی سواری کے لیے وقت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ مطالبہ جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم افراد کی مہم کے بعد کیا گیا تھا۔

چڑیا گھر میں 10 سے 30 سال کی عمر کے پانچ ایشیائی ہاتھی بھی موجود ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا