اردو کا وہ رسالہ جو لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوا

جس وقت اردو لکھنے والے، ترقی پسندی، نیم ترقی پسندی، روایت پسندی، تجریدیت، علامتی اظہار اور 'میں کیوں لکھتا ہوں' قسم کے جھولے کھا رہے تھے اس وقت زبان کے باغ سے دانہ دنکا چگنے والے پرندے پھر پھر کرتے اڑتے جا رہے تھے۔

(سرورق: سب رنگ کہانیاں)

ہمارے ساتھ ایک بہت بڑا ہاتھ ہوا اور ہمیں پتہ نہیں چل سکا، کسی کو علم ہونے بھی لگا تو اس نے سر جھٹک کے دوسری بات سوچنی شروع کر دی اور کسی کو اپنے خیالات کی بھنک بھی نہ پڑنے دی۔

ہماری کہانیاں سیاست میں تبدیل ہو گئیں اور سیاست کہانی بن گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا ہو یا ٹی وی، لوگ سیاسی کالم اور ٹاک شو پہ زیادہ رش لگاتے ہیں، 'ادبی' چیزیں بے چاری ایک کونے میں بیٹھی دہی کھاتی رہتی ہیں۔

لوگ سچی کہانیوں کو پڑھنا اور دیکھنا چاہتے تھے، وہ اپنے ماحول، اپنی زبان، اپنے اردگرد کے بارے میں جاننا چاہتے تھے، لکھنے والوں نے اپنی کہانیوں سے منہ موڑا تو وہ بھی کالموں اور اخباروں کی طرف اڑ گئے۔

اب اخبار ہو یا کالم ہو یا ٹاک شو ہو، اس میں وہی لکھنے والا اور بولنے والا کامیاب ہے جو معاملے کی ابتدا کہانی کے جیسے کرے، عام بات چیت کی زبان میں اپنے دل کی بات دوسروں تک پہنچائے۔ حقائق بھلے ہوں یا نہ ہوں، زبان سادہ سی ہو اور پڑھنے والے کو آخر تک باندھے رکھے اور ساتھ ساتھ کسی بزرگ کے فلسفیانہ اقوال کا تڑکا بھی لگ جائے تو سبحان اللہ۔

جس وقت اردو لکھنے والے، ترقی پسندی، نیم ترقی پسندی، روایت پسندی، تجریدیت، علامتی اظہار اور 'میں کیوں لکھتا ہوں' قسم کے جھولے کھا رہے تھے اس وقت زبان کے باغ سے دانہ دنکا چگنے والے پرندے پھر پھر کرتے اڑتے جا رہے تھے۔ ان کا بسیرا غیر محسوس طریقے سے اخباروں یا بہت ہو گیا تو اردو ڈائجسٹوں کے جنگل میں ہوتا جا رہا تھا۔

سب رنگ کا ایسے میں ایک کمال تھا، شکیل عادل زادہ زبان کی اہمیت، ادب کی تحریکوں، ادیبوں کے چونچلوں اور املا کے مسائل جانتے ہوئے بھی اس بات کا علم رکھتے تھے کہ اعلی ترجمہ کیا ہوتا ہے، کہانی کہاں ختم ہوتی ہے اور نرا فلسفہ کہاں شروع ہوتا ہے، عنوان کی اہمیت کیا ہے، کہانی کے اصل مصنف کا بیک گراؤنڈ دینے میں کیا فائدہ ہے، آسان اور ہر بندے کی سمجھ میں آنے والے لفظ کون سے ہیں نیز کہانی میں کہانی پن کتنا ہے اور لکھنے والا کتنا بیچ میں گھسا ہوا ہے۔

پھر اردو پڑھنے والوں کی خوش نصیبی یہ تھی کہ رسالہ نکالنا شکیل عادل زادہ کے لیے باقاعدہ روزی روٹی کا معاملہ تھے تو وہ شاید دل سے چاہتے ہوئے بھی اس میں ادب برائے اصلاح یا ادب برائے زندگی قسم کی چیز کبھی نہیں ڈال پائے۔ سیدھی کہانی ہوتی تھی جو آرام سے ہضم ہو جاتی تھی۔

ان کے پاس مکمل وسائل تھے اور پورا اختیار تھا کہ ترجمے پر توجہ کم دیتے اور آس پاس موجود لکھنے والے، بلکہ وہی لوگ جو ترجمے کر رہے تھے ان سے جینوئن کہانیاں لکھوا لیتے۔ ایسا انہوں نے بہت کم کیا، اچھا کیا، اور کوشش کر کے، معاوضے دے کر لوگوں سے ترجمے کروائے۔

ان ترجموں کی خوبی یہ تھی کہ پڑھنے والا کہیں سے بھی بھاگ نہیں پاتا تھا۔ چھوٹے جملے، آسان زبان، رواں ڈائیلاگ، مشکل اور پرانے لفظوں سے پرہیز، کسی قسم کے لمبے سنگل ایکٹ کی عدم موجودگی، تیز پلاٹ، فیصلہ کن انجام اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ماحول میں رچاؤ پورا دیسی لیکن پھر بھی دماغ میں ترجمہ پڑھنے کا احساس اپنی بتی جلائے رکھے گا۔

بلاشبہ یہ کمال ان کی ایڈٹنگ کا تھا۔ کہانی ترجمہ کرنے والا جو مرضی بڑے سے بڑا نام ہو، وہ ایسا رندہ لگاتے تھے کہ سارے کونے جب تک گول نہ ہوتے کہانی سب رنگ میں آ نہیں سکتی تھی۔ اب رسالہ لیٹ ہو جائے تو ہوا کرے، جب آئے گا تو مکمل آئے گا ورنہ نہیں آئے گا۔

آپ نہ مانیں، آپ کو حق ہے لیکن میرے خیال میں اردو والوں کے پاس اگر کوئی الف لیلہ ہے تو وہ سب رنگ ہے۔ کہانیاں ملا جلا کے ایک ہی طرح کی ہوتی ہیں جو ساری دنیا میں گھومتی ہیں، کوئی کامیابی سے اپنا لے تو اس کے چراغ جل جاتے ہیں، ہم چھاپ دیں تو بات 'ڈائجسٹ' سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔

ادب عالیہ کوئی چیز نہیں ہوتا، اس کی سادہ ترین یہ تعریف لکھ لیجیے کہ جو ادب خود ادیب ایک دوسرے کو پڑھانے، ستانے اور جلانے کے لیے پیدا کریں، وہ عالیہ کہلائے گا، جو تھوڑا سا بھی عام بندے کو سمجھ آ جائے اسے عالیہ کی مسند سے نیچے اتار کے 'پاپولر' یا ڈائجسٹ فکشن میں ڈال کر بھول جائیں گے۔

اردو ادب کے ترجمہ نگاروں میں جتنے بڑے نام ہیں، کہیے تو نام لے بھی دوں؟ سب کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہوئی کہ اول تو انہوں نے اپنی کہانیاں یا ناول ایڈٹ کروانا مناسب نہیں سمجھے اور اگر کوئی ایڈیٹر نصیب بھی ہوا تو ان کے بھاری نام کے بوجھ تلے دب کر خود بے جان ہوا اور کہانی دم توڑ گئی۔ کسی کو عربی اردو کا شوق مار گیا، کوئی ٹیکسٹ کا وفادار رہا، کوئی لال رنگ کے جھنڈے کی نذر ہوا اور جو بچ گئے انہیں ترجمے کی رفتار نے خود پیچھے مڑنے کی اجازت ہی نہیں دی۔

ادھر سب رنگ میں ایسا نہیں تھا۔ ان کا ترجمہ ہوتا یا طبع زاد کہانی، سب کو شکیل عادل زادہ سمیت دیگر عملے کے ٹائٹ والے ہاتھ لگتے تھے، اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ لاکھوں میں چھپنا اور بکنا معمولی بات نہیں ہے سرکار، کچھ ہوتا ہے تو ہی چیز بکتی ہے۔

اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ دیکھ لیجیے کہ ابھی سب رنگ کلیکشن کا پہلا نمبر چھپ کے سامنے آیا نہیں اور پورے پاکستان کے پبلشرز کو دوبارہ ڈائجسٹی ادب یاد آنا شروع ہو گیا ہے۔ کئی ناول اور ڈائجسٹی ادب کی کلیکشنز سامنے آتی جا رہی ہیں۔ گویا ڈائجسٹوں کا وہ ٹرینڈ جو سب رنگ کے بعد چلا وہی معاملہ اب ان کی شاہ کار کہانیوں کے انتخاب کا ہے۔

ہمارے یہاں لوگوں کو مرنے کے بعد عموما ایسی قدر اور عزت ملتی ہے جو شکیل صاحب کو زندگی میں سب رنگ کی وجہ سے ملی۔ اس میں غور کرنے کی چیز یہ ہے کہ ان کا مرتبہ کیا ان کی زبان دانی، ان کے علم، ان کی پی آر سے بنا یا ان کی انتہائی سخت ایڈیٹنگ کی وجہ سے؟ میرا یقینی ووٹ ان کی حیرت انگیز ادارتی صلاحیتیوں کی طرف جائے گا، وہ پاکستان کے واحد کامیاب ادبی ایڈیٹر ہیں۔

آپ سب کچھ کرنا جانتے ہوں لیکن فائنل پریزنٹیشن اچھی نہ ہو تو زندگی میں ہر کام کا بیڑہ غرق ہوتا ہے، فائنل پریزنٹیشن بلامبالغہ آج تک اردو ادب میں ان سے اچھی کسی کی نہیں تھی۔ ہمارے پاکستان بھارت کے بہت سے بڑے بڑے نام اگر اپنا لکھا کسی بھی طرح شکیل صاحب سے ایڈٹ کروا لیتے تو یقین کیجیے ناولوں کے ناولٹ بننے تھے اور افسانوں کے افسانچے، لیکن وہ اتنے کسے ہوئے ہوتے کہ مجال کسی کی جو کوئی کہہ سکتا کہیں کہ استاد، یہاں لکھنے والا لڑھک گیا یا کہانی سلو ہو گئی۔ 

مجھے ایک دن کے وقفے سے دو کتابیں موصول ہوئیں۔ اجرا کا شکیل عادل زادہ نمبر اور جہلم بک کارنر کی سب رنگ کہانیاں۔ اگر اقبال خورشید جیسا ذہین انسان رسالے کا ایک پورا نمبر شکیل صاحب کے نام سے نکالتا ہے اور ایک کمرشل پبلشنگ ہاؤس حسن رضا گوندل کے انتخاب کو انتہائی خوبصورتی سے چھاپتا ہے، اور دونوں کا محور سب رنگ ہے تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ سب رنگ کا دور دور تک کوئی مقابل بھی ہے؟ بھائی جی، کمرشل ازم کے ساتھ ساتھ قاری میں ایک پورا ادبی ذوق ٹرانسفر کر دینا صرف اسی رسالے کی برکت ہے ورنہ کون سا ڈائجسٹ اردو میں ایسا آج تک چھپا ہے؟

شاید اردو ڈائجسٹ آج بھی مشہور ہو لیکن اپنی شدید مشہوری کے دور سے آج تک ماسوائے شدید اصلاحی ادب کے فقیر اس میں کچھ ایسا نہیں ڈھونڈ پایا جسے سب رنگ کا پاسنگ بھی قرار دے سکے۔ باقی رہ گئے سسپنس، جاسوسی اور سرگذشت تو ان کے پڑھنے والوں کے اپنے اپنے مزاج ہیں۔ بلاشبہ پڑھنے والوں کے لیے وہ بھی ایک نعمت سے کم نہیں تھے اور جن دنوں سب رنگ کا وقفہ طویل ہوتا تھا، ان دنوں خاص طور پہ یہی کام آتے تھے لیکن جس رسالے کا ایک ایک لفظ آپ کے دل پر نقش ہو اور جو آج بھی چھپے تو دیوان غالب جیسا ٹریٹمنٹ اسے اس کی کمرشل فیس ویلیو پر ملے تو وہ صرف اپنا سب رنگ ہے!

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نئی نسل میں سے جو بچہ یہ کالم پڑھ رہا ہے وہ جان لے کہ سہیل وڑائچ، رؤف کلاسرا، عامر خاکوانی، وجاہت مسعود، یاسر پیرزادہ سمیت جتنے بھی ہمارے بڑے کالم نگار ہیں، کمال کے لکھنے والے ہیں، وہ خود سب رنگ پڑھ کے اور پسند کر کے اور اس معیار کو جان کے، پرکھ کے لکھنے کی فیلڈ میں آئے ہیں۔ جسے بچپن یا جوانی میں ادب کا ایسا کڑا معیار مل گیا ہو وہ اپنی ذاتی تحریر میں کہیں لکھائی کے کرافٹ پر سمجھوتہ کر سکتا ہے؟ کبھی نہیں!

تو بسم اللہ کرو اور پلٹ جاؤ اس ادب کی طرف جو تمہیں سمجھ آئے اور پرہیز کرو ان کہانیوں سے جو تم پر مسلط کر دی گئی ہیں!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ