نیب قانون میں ترمیم کرنے والی کمیٹی کے کتنے ارکان نیب زدہ ہیں؟

اسلام آباد میں منگل کو حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان نیب قوانین میں ترامیم پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے حکومت نیک نیتی سے بات نہیں کرنا چاہتی۔

نیب قانون میں ترمیم کے لیے سپیکر قومی اسمبلی نے 23 جولائی کو شاہ محمود قریشی کی صدارت میں 28 اراکین پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کی تھی (نیب لوگو)

ایک جانب حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون میں ترمیم پر تعطل برقرار ہے تو دوسری جانب حکمراں جماعت کے لوگ ہی ان ترامیم کے لیے قائم خصوصی کمیٹی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بیان دیا ہے کہ خود مقدمات کا سامنا کرنے والے نیب قوانین میں ترامیم کرنے بیٹھیں گے تو ترامیم کا کیا بھرم رہ جائے گا؟

انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ اراکین جو نیب کےمقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ان کو ازخود کمیٹی سے علیحدہ ہو جانا چاہیے اور پارلیمان کی عزت کا خیال کریں۔‘

اسلام آباد میں منگل کو حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان نیب قوانین میں ترامیم پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے حکومت نیک نیتی سے بات نہیں کرنا چاہتی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ ن کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے ’ہم نے حکومت کو ترامیم کے لیے تجاویز دی تھیں لیکن حکومت سنجیدگی سے بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ پارلیمان کے فورم کو برقرار رکھا جائے گا لیکن حکومت نیک نیتی سے بات نہیں کر رہی۔‘

دوسری جانب شیری رحمان نے حکومتی پارلیمانی کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا پارلیمانی کمیٹی کا اب کوئی جواز نہیں رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم حکومت کی قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اب جو بھی بات ہوگی اے پی سی کے فورم سے ہوگی۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کے اراکین کون ہیں؟

نیب قانون میں ترمیم کے لیے سپیکر قومی اسمبلی نے 23 جولائی کو شاہ محمود قریشی کی صدارت میں 28 اراکین پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کی تھی۔

کمیٹی میں نو وفاقی وزرا، ایک وزیر مملکت جبکہ وزیراعظم کے مشیر بابر اعوان اور شہزاد اکبر شامل ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے اراکین بھی شامل ہیں۔

کمیٹی میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سمیت وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابراعوان، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، وفاقی وزیر برائے صنعت حماد اظہر، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ، مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر، ایم این اے ملک عامر ڈوگر، راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، سینیٹر شیریں رحمان، احسن اقبال، جاوید عباسی، خواجہ سعد رفیق، رانا ثنا اللہ، سردار ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کے نام شامل ہیں۔

کمیٹی کے کتنے اراکین پر نیب کے کیسز ہیں؟

وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے ہیں کہ جنہوں نے نیب قوانین میں ترمیم کرنی ہے ان پر خود نیب کے مقدمات رہے ہیں اس لیے غیر جانبدار افراد کو کمیٹی اراکین بنانا چاہیے تھا۔

واضح رہے کہ فواد چوہدری پر نیب کا کوئی مقدمہ نہیں ہے لیکن وہ کمیٹی کے اراکین میں شامل نہیں ہیں۔

ڈاکٹر بابر اعوان: نندی پور پاور پروجیکٹ ریفرنس

انڈپینڈنٹ اردو کی معلومات کے مطابق حکومتی اراکین میں وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان نندی پور پاور پروجیکٹ کیس میں ملوث رہے ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قومی خزانے کو 27 ارب روپے کا نقصان پہنچانے پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کو نندی پور پاور پلانٹ کی لاگت میں بے پناہ اضافے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

نیب کا کہنا تھا کہ پلانٹ کی تعمیری لاگت میں اضافہ اس وجہ سے ہوا کہ وزارت قانون نے ایک فارم جاری کرنا تھا جو نہیں کیا گیا۔

2012 میں بابر اعوان وفاقی وزیرِ قانون تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں چار بار سمری وزارتِ قانون کو بھیجی گئی لیکن ’جان بوجھ‘ کر تاخیری حربے استعمال کیے گئے۔

نندی پور پراجیکٹ 2007 میں مشرف دور میں آیا۔ 2012 میں نندی پور ریفرنس منظور ہوا۔

2018  میں نندی پور پاور پراجیکٹ میں نیب ریفرنس کی وجہ سے وزیر اعظم کی ہدایت پر بابر اعوان نے مشیر برائے پارلیمانی امور کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا لیکن جون 2019 میں احتساب عدالت نے ڈاکٹر بابر اعوان کو بری کر دیا تھا جس کے بعد دوبارہ انہیں وزیراعظم کا مشیر برائے پارلیمانی امور تعینات کر دیا گیا۔

وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک: مالم جبہ اراضی کیس

پرویز خٹک بھی نیب سے مخفوظ نہیں ہیں اور ان پر بھی ان کے بطور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وقت کا سرکاری اراضی سکینڈل کیس موجود ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے 2014 میں مالم جبہ میں 278 ایکڑ سرکاری اراضی من پسند کمپنی کے نام لیز کی تھی۔

پرویز خٹک اس کیس میں نیب کے سامنے پیش بھی ہو چکے ہیں جبکہ گذشتہ برس نیب کی جانب سے پرویز خٹک پر پاک آسٹریا انسٹی ٹیوٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعینات میں میرٹ کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

نیب ترجمان کے مطابق پاک آسٹریا انسٹی ٹیوٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی 2016 میں کی گئی تھی اور اس تعیناتی میں میرٹ کو نظر انداز کیا گیا۔

راجہ پرویز اشرف: رینٹل پاور کیسز

پیپلز پارٹی کے دور میں منتخب ہونے والے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف پر نیب کی جانب سے نندی پور پاور پروجیکٹ کے علاوہ  ریشما رینٹل پاور اور گلف رینٹل پاور منصوبے کے کیسز ہیں۔

سندھ کے علاقے نوڈیرو میں قائم رینٹل پاور پروجیکٹ کا معاہدہ چار مارچ 2010 کو کیا گیا تھا۔

راجہ پرویز اشرف جو اس وقت وفاقی وزیر پانی و بجلی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، انہوں نے اس منصوبے کی منظوری دی  تھی۔

واضح رہے کہ نیب نے 2013 میں نوڈیرو۔ ٹو ریفرنس دائر کیا تھا، ریفرنس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ راجہ پرویز اشرف اور پیپکو عہدیداروں نے گڈو پاور پلانٹ سے مشینری کو نوڈیرو ٹو میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور انہوں نے قومی خزانے سے 75 لاکھ روپے سامان کو نئی سائٹ پر منتقل ہونے سے قبل ہی پروسیسنگ فیس کے طور پر ادا کیے تھے۔

راجہ پرویز اشرف پر الزام ہے کہ انہوں نے 2008 میں وفاقی وزیر پانی و بجلی کی حیثیت سے آر پی پی معاہدے میں کک بیکس اور کمیشن وصول کی تھی لیکن حال ہی میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے راجہ پرویز اشرف کو آر پی پیز کے دو مقدمات یعنی ساہیوال اور پیراں غائب سے بری کر دیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے قومی خزانے کو کوئی مالی نقصان نہیں پہنچایا۔

شاہد خاقان عباسی: ایل این جی کیس

گذشتہ برس نیب نے ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے بطور وزیرِ پیٹرولیم ایک ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ مبینہ طور پر من پسند کمپنی کو دیا۔

نیب کا کہنا ہے کہ من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا 15 برس کے لیے ٹھیکہ دینے سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

شاہد خاقان عباسی کا موقف  رہا ہے کہ اس وقت ملک میں جاری توانائی بحران کو حل کرنے کے لیے یہ ٹھیکہ دینا ضروری تھا۔

رواں برس فروری میں ایک کروڑ کے ضمانتی مچلکوں پر شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور کی گئی۔

خواجہ سعد رفیق: پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس

نیب کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے اپنے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے ساتھ مل کر قیصر امین بٹ اور ندیم ضیا کی شراکت میں ایئر ایونیو کے نام سے ایک ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیا۔

نیب کے مطابق ایئر ایونیو کو بعد میں ایک نئے ہاؤسنگ منصوبے پیراگون سٹی سے بدل دیا گیا جو ریکارڈز کے مطابق غیرقانونی منصوبہ ہے۔

نیب کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے اس غیر قانونی منصوبے میں توسیع اور تشہیر کے لیے عوامی عہدے کا استعمال کیا اور کمرشل پلاٹوں کی فروخت سے اربوں روپے کے فوائد حاصل کیے جو کہ اصل میں پیراگون سٹی کی ملکیت نہیں تھے اور بدعنوانی پر مبنی اس اقدام اور کرپٹ پریکٹس کے ذریعے خریداروں کو دھوکہ دیا گیا۔

دسمبر 2018 میں خواجہ سعد رفیق کو نیب نے حراست میں لیا تھا۔

جبکہ رواں برس مارچ میں سپریم کورٹ نے خواجہ برادران کی ضمانت منظور کی تھی۔

رانا ثنااللہ: آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب نے رانا ثنااللہ کے خلاف کیس شروع کیا لیکن گذشتہ برس جولائی میں موٹروے پر رانا ثنااللہ کو محکمہ انسداد دہشتگردی نے منشیات کیس میں حراست میں لے لیا جس کے بعد دسمبر 2019 میں انہیں رہا کیا گیا، جبکہ آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس پر تحقیقات لاہور نیب میں جاری ہیں۔

احسن اقبال: ناروال سٹی سپورٹس کمپلیس کیس

سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو گذشتہ برس دسمبر میں نیب نے نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس انکوائری میں گرفتار کیا تھا۔

نیب ترجمان کے مطابق احسن اقبال کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا جبکہ رواں برس فروری میں عدالت نے احسن اقبال کی ضمانت منظور کی۔

نیب قانون کے مجوزہ ترمیمی مسودے میں کیا نیا ہے؟

حکومت کی طرف سے نیب قانون میں متعدد ترامیم کی تجاویز دو گئی ہے۔ ان تجاویز کے مطابق عوامی عہدہ رکھنے والے کے کسی کام کو نیک نیتی سے کرنے پر نیب کیس نہیں بن سکے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عوامی عہدہ اور سرکاری عہدہ رکھنے والے پر نیب کیس اسی صورت بنے گا جب ناجائز فائدہ حاصل کرنے کا ثبوت موجود ہو۔

چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت میں توسیع کی جاسکتی ہے۔

چیئرمین نیب کی مدت ملازمت موجودہ نیب قانون کے مطابق چار سال ہے۔  ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت تین سال ہے جبکہ حکومت چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت میں توسیع چاہتی ہے۔

عدالت ملزم کو ریفرنس کی نقول لازمی دے گی۔ لیویٹیکس اور محصولات کے معاملات نیب سے متعلقہ اداروں کو منتقل ہوجائیں گے۔

یہ مسودہ اپوزیشن کو بھی پیش کیا گیا جس کی چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی شاہ محمود قریشی نے مسودہ اپوزیشن کو دیے جانے کی تصدیق کر دی۔

گذشتہ اجلاس میں اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے ایف اے ٹی ایف، نیب سمیت مختلف قوانین کے حوالے سے دیے گئے مسودے پر غور و خوص کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن کے اراکین کو چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع پر اعتراض تھا جس پر مشاورت جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان