ملائیشیا: سابق وزیراعظم کو 12 سال قید، چار کروڑ ڈالرز سے زائد جرمانہ

ملائیشیا کی ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کو اربوں ڈالر کی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ثابت ہونے پر 12 سال قید اور چار کروڑ 94 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

عدالت میں پیشی کے موقعے پر نجیب رزاق مکمل طور پر پرسکون اور ان کا چہرہ جذبات سے عاری تھا (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

ملائیشیا کی ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کو اربوں ڈالر کی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ثابت ہونے پر 12 سال قید اور چار کروڑ 94 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

نجیب رزاق کو تین دیگر الزامات ثابت ہونے پر بھی دس، دس سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان میں اعتماد کو ٹھیس پہنچانے، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی طور پر ایک کروڑ ڈالر وصول کرنے جیسے الزامات شامل تھے۔

منگل کو کوالالمپور ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت مکمل ہونے پر جج محمد نزلان غزالی کا کہنا تھا کہ تمام شواہد پر غور کرنے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ استغاثہ اپنے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نجیب رزاق کو سات الزامات کا سامنا تھا جن میں اعتماد کو مجرمانہ طور پر ٹھیس پہنچانے، منی لانڈرنگ اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ون ملائشیا ڈویلپمنٹ فنڈ  (ون ایم ڈی بی فنڈ) کے سابق یونٹ ایس آر سی انٹرنیشنل سے ایک کروڑ ڈالر وصول کرنا شامل ہے۔ تاہم انہوں نے کسی جرم کا اعتراف نہیں کیا۔

پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ نجیب رزاق نے صرف ایک بار 1 ایم ڈی بی کے فنڈ سے جتنی رقم مبینہ طور پر خوردبرد کی اس کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زائد ہے۔ انہوں نے یہ رقم اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی۔ نجیب رزاق پر اس نوعیت کے 42 الزامات ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق نجیب رزاق کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی چار کروڑ 20 لاکھ ڈالر طلب نہیں کیے نہ ہی انہیں ایسی کوئی پیش کش کی گئی تھی۔

عدالت میں پیشی کے موقعے پر نجیب رزاق مکمل طور پر پرسکون اور ان کا چہرہ جذبات سے عاری تھا۔

امریکی اور ملائیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ 1ایم ڈی بی سے مجمموعی طور پر ساڑھے چار ارب ڈالر چرائے گئے جو دنیا بھر میں فن پارے، ایک پرتعیشن بحری جہاز کی خریداری اور ہالی وڈ فلم 'ولف آف دا وال سٹریٹ' کے لیے سرمایہ فراہم کرنے میں استعمال کیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی حکام کے مطابق ملائیشیا کے عوام کی جتنی رقم چوری کی گئی وہ حیران کن ہے۔ سابق امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز انتہائی بدعنوان حکمرانوں کا مالیاتی سکینڈل قرار دے چکے ہیں۔

نجیب رزاق کو پانچ سال سے زیادہ عرصے سے بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے لیکن 2018 کے انتخابات میں ناکامی کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز ہوا۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے مہاتیر محمد نے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

ون ملائشیا ڈولپمنٹ فنڈ (1 ایم ڈی بی) کیا ہے؟

1 ایم ڈی بی ایک سرمایہ کار کمپنی ہے جو ملائشیا میں ترقیاتی منصوبوں کے فنڈ فراہم کرتی ہے۔ 2009 میں قائم ہونے والی اس کمپنی کا ہیڈ کوارٹر دارالحکومت کوالا لمپور میں ہے۔ اس کمپنی کے قیام  کا مقصد ملک کی طویل المعیاد ترقی کے لیے عالمی شراکت داری اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا تھا۔ اس کمپنی کے دائرہ کار میں ریئل اسٹیٹ، سیاحت، توانائی اور زرعی کاروبار کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ امریکہ کے کمپنی کے عالمی شراکت دار ہونے کی وجہ سے امریکی محکمہ انصاف نے بھی ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ کمپنی کے فنڈ سے کم ازکم ساڑھے تین ارب ڈالر چوری کئے گئے ہیں۔

مشکوک ٹرانزیکشنز کی وجہ سے کمپنی کی 2015 سے سخت نگرانی کی جا رہی تھی اور ایسے شواہد سامنے آئے تھے جن سے منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی اور فنڈ کی چوری کی نشاندہی ہوتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا