بلوچستان میں بارشیں: پانچ افراد ہلاک، شاہراہ بولان پر پل بہہ گیا

سیلابی ریلوں سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا، شاہراہ بولان پر  بی بی نانی پل کا ایک حصہ بہہ جانے سے سندھ اور بلوچستان کو ملانے والی سٹرک پر ٹریفک معطل ہوگئی ہے۔

شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلابی ریلے آنے سے امدادی کاموں میں بھی مشکلات کا سامنا ہے (تصویر: ندیم گرگناڑی)

مون سون بارشوں کے باعث بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے اور پانی میں بہہ کر کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب شاہراہ بولان پر  بی بی نانی پل کا ایک حصہ بہہ جانے سے سندھ اور بلوچستان کو ملانے والی سٹرک پر ٹریفک معطل ہوگئی ہے۔

ضلع خضدار کے سینیئر صحافی ندیم گرگناڑی نے ضلع میں دو افراد کے پانی میں بہہ جانے کی تصدیق کی۔ دوسری جانب لیویز کے مطابق کوہلو اور  ضلع ڈیرہ بگٹی میں بھی سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث تین افراد ہلاک ہوئے، جن کی لاشیں نکال لی گئیں۔

صحافی ندیم گرگناڑی نے مزید بتایا: 'وڈھ کے علاقے ڈانسر میں  وارث نامی شخص کی بکریوں پر دیوار گرنے سے 15 بکریاں ہلاک ہوگئیں جبکہ زیدی کےعلاقے میں کئی کچے مکانات منہدم ہوچکے ہیں۔

ندیم  گرگناڑی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سیلابی ریلوں کے باعث ضلع کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ گورو کے علاقے میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے علاقے کے گھر زیر آب آگئے ہیں اور مکین کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔

ادھر ضلع کچھی کے علاقے میں سیلابی پانی کے باعث رابطہ سڑکیں منقطع ہوگئی ہیں۔ مچھ کے صحافی عمران سمالانی نے بتایا کہ سیلابی ریلوں کے باعث شاہراہ بولان متعدد مقامات پر بند ہوگئی ہے اور ایک گاؤں کے مکین بھی محصور ہوگئے ہیں۔

عمران  سمالانی نے انڈپینڈںٹ اردو کو بتایا کہ ضلع کے علاقے کرتہ میں پانچ افراد کے سیلابی پانی میں بہہ جانے کی اطلاع ہے اور پانی کے باعث لیویز کو ریلیف کے کام میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

دوسری جانب ایری گیشن حکام کے مطابق سبی میں بھی ندی نالوں میں سیلابی کیفیت ہے جبکہ دریائے ناڑی اور تلی ندی میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

'21 اضلاع مون سون کے زیر اثر'

ادھر صورت حال کے حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی صدارت میں  بارشوں اور سیلابی صورت حال کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عمران زرکون نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے 21 اضلاع مون سون کی بارشوں کے زیر اثر ہیں، جن میں ڈیرہ بگٹی، کوہلو، جھل مگسی اور سبی زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ بارشوں سے پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث لاجسٹک سٹریٹجی پلان بنایا گیا ہے اور متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

دوسری جانب سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان کے  مطابق موسلادھار بارشوں اور سیلابی ریلے کے باعث بولان میں بی بی نانی پل کے قریب گیس پائپ کو نقصان پہنچا ہے جس سے مستونگ، قلات، پشین اور زیارت کو گیس کی سپلائی منقطع ہوگئی ہے۔
ضلع کیچ کے مختلف علاقوں میں بھی بارشوں کے نتیجے میں سیلابی ریلوں کے باعث مکران کوسٹل ہائی وے پر پل بہہ گیا ہے اور بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

سیلابی صورت حال کے باعث محکمہ صحت نے صوبے بھر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور کوئٹہ سمیت تمام ڈویژنل اور ضلعی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو موجود رہنے کی  ہدایت کی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان