ایسی کرشماتی اننگز کرس ووکس ہی کھیل سکتے ہیں

مانچسٹر ٹیسٹ کے تیسرے دن کرکٹ کے تمام پنڈتوں  کا ایک ہی بات پر اتفاق تھا کہ چوتھا دن انگلینڈ کے بلے بازوں پر بہت بھاری ہوگا۔

(اے ایف پی)

مانچسٹر ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو تین وکٹ سے ہراکر سیریز میں برتری حاصل  کرلی۔

میچ کی خاص بات کرس ووکس اور جوز بٹلر کی اننگز تھ۔یں۔

مانچسٹر ٹیسٹ کے تیسرے دن کرکٹ کے تمام پنڈتوں  کا ایک ہی بات پر اتفاق تھا کہ چوتھا دن انگلینڈ کے بلے بازوں پر بہت بھاری ہوگا۔

جیسے جیسے دن چڑھے گا وکٹ کی کاٹ بڑھتی جائے گی اور گیند سخت سوکھی ہوئی پچ سے ٹکراکر اس قدر کھردری ہوجائے گی کہ یاسر شاہ کو پہلی اننگز کی نسبت نصف سے بھی کم محنت کرنی پڑے گی۔

پاکستان کے ایک سابق کوچ تو  یہ ٹوئٹ کرکے سوگئے تھے کہ صبح یاسر اور شاہین شاہ کے لیے دو گھنٹے بھی کافی ہوں گے کہ پوری انگلش ٹیم کو ڈریسنگ میں پہنچادیا جائے۔

چوتھے دن پاکستان کی دو وکٹ باقی تھلں اور کچھ رنز جڑ سکتے تھے لیکن مشتاق احمد سے وسیم اکرم اور مائیکل ایتھرٹن تک سب ہی 244 رنز کو بہت سمجھ رہے تھے۔

اطمینان کی گھڑیاں اور پختہ ہوگئیں جب یاسر شاہ  اور نسیم شاہ نے مزید 32 رنز جوڑ لیے ۔

277 کا ہدف انگلینڈ کے لیے ماؤنٹ ایورسٹ سے کم نہ تھا۔ ایک ایسی پچ پر جہاں پہلی اننگز میں محمد عباس اور شاہین شاہ روایتی سوئنگ کررہے تھے اور یاسر شاہ کی جادوگری عروج پر تھی، دوسری اننگز میں ایک ایک گیند لوہے کے چنے سے کم نہ تھی۔

انگلینڈ کا دوسری اننگز کا آغاز تو سانسیں بحال کرنے کے لیے کافی تھا کوئ وکٹ نہ گری  اور اوپنرز نے پہلے گیارہ اوورز بھی نکال لیے تب کہیں جاکے جو روٹ کے چہرے پر اڑتی ہوائیوں میں کمی آنے لگی۔

 ایک وکٹ کھو کے بھی جب سکور 100 کے قریب پہنچ گیا تو انگلش کیمپ میں سکون کی فضا آنے لگی ۔

لیکن یہ اطمینان عارضی تھا  کیونکہ یاسر شاہ اور نسیم شاہ نے شگاف ڈالنا شروع کردیے تھے  اور دیکھتے ہی دیکھتے جو روٹ اوربین اسٹوکس سمیت پانچ مستند بلے باز گھر واپس پہنچ چکے تھے۔

  بین اسٹوکس یاسر شاہ کی جس گیند پر آؤٹ ہوئے اس نےپاکستانی ٹیم کا خون بڑھادیا تھا گیند میں کاٹ تیزی اور باؤنس سب کچھ تھا ۔

یہی تو پاکستان کو چاہئیے تھا !!!

اظہر علی مطمئن تھے کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق چل رہا ہے ہوا چاہے چلے نہ چلے لیکن یاسر شاہ کی انگلیاں چل رہی ہیں ۔

وکٹ پر موجود جوز بٹلر اور کرس ووکس کی رخصتی بھی طے تھی کیونکہ پہلی اننگز میں جس طرح دونوں یاسر شاہ سے غچہ کھاتےرہے تھے اظہر کو اطمینان تھا اب بھی ایسا ہی ہوگا اور سہ پہر کی چائے ہوٹل میں پئیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن کرکٹ کسی سائنسی فارمولے کی طرح نہیں چلتی بلکہ بعض اوقات سائنس کو بھی حیران کردیتی ہے۔

آج کرس ووکس اور جوز بٹلر حیرتوں کے سمندرمیں شاہینوں کا سفینہ غرق کرنا چاہتے تھے۔

وہی یاسر شاہ جو کچھ دیر قبل تک جادوگر بنے ہوئے تھے ووکس اور بٹلر کا نشانہ بننے لگے۔

شاہین شاہ ریورس سوئنگ ڈھونڈتے ہوئے روایتی سوئنگ بھی کھو بیٹھے۔ عباس کی گیندیں اندر آنا ہی بھول گئیں۔ جو گیند پڑتی وہ وہیں رہ جاتی کیونکہ ووکس اور بٹلر نے سوچا اگر ہارنا ہی ہے تو عزت سے ہاریں۔ ان کے ذہن میں نپولین کا جملہ تھا کہ اگر مرنا ہی ہےتو حملہ کرکے مرو ۔

دونوں بلے بازوں نے جارحانہ حکمت عملی اپنائی اور ہر گیند کو ون ڈے کے سٹائل میں رنز کے لیے کھیلا۔  کچھ قسمت نے یاوری کی اورکچھ پاکستانی بولرز کی گھبراہٹ نے ،نتیجہ یہ نکلا کہ رنز تیزی سے بڑھنے لگے ایسے میں مصباح کے شاگرد اظہر نے پرانا فارمولا آزمایا یعنی دفاعی فیلڈ لے لی جو مزیدخودکشی کے مشن میں تبدیل ہوگیا ۔

کرس ووکس پہلے بھی کئی دفعہ ایسی صورتحال میں انگلینڈ کو جتواچکے تھے اس لیے پر امید تھے اور دفاعی فیلڈنگ نے انھیں  مستحکم کردیا۔

ان کے ساتھ بٹلر بھی تابڑ توڑ حملے کررہے تھے لیکن یہ ووکس ہی تھے جنھوں نے کھیل کا رخ تبدیل کیا تھا۔ 

وکٹ نے بھی پاکستانی بولرز کے ساتھ دغا کیا اور زیادہ روپ نہ بدلا جس سے غیر متوقع باؤنس کی امیدیں پچ کی خاک میں مل گئیں۔

کرس ووکس کا 120 گیندوں پر 84 رنز کی شاندار اننگز اس وقت کھیلنا جب سامنے روٹ اور سٹوکس جیسے سپر سٹارز کی وکٹیں بے بسی کا منظربن جائیں کسی کرشمہ سے کم نہیں۔

ووکس کی اننگز نے صرف میچ نہیں جتوایا بلکہ تین دن سے خبروں میں چھائے ہوئے پاکستانی بولنگ اٹیک کو اگلے ٹیسٹ تک نفسیاتی دباؤ میں لے لیا۔  

کل تک جن بولرز کی جادوگری کے چرچے تھے آج شاید اندرون خانہ طعنوں کی زد پر ہوں۔

کیونکہ بولرز بس وہی کرتے رہے جتنا ان کو کہا گیا تھا۔ جب ریورس سوئنگ نہیں مل رہی تھی تو باؤنسرز کاہتھیار آزمایا جاتا لیکن کوچز کی بھرمار میں بولرز اپنا دماغ بھول گئے تھے سو سرکس کے گھوڑے کی طرح دائرے میں گھومتے رہے ۔

کرس ووکس کے اعتماد کی ایک جھلک تو ایک دن قبل پریس کانفرنس میں ہی نظر آگئی تھی جب انھوں نے کہا تھا کہ ٹیسٹ ہم ہی جیتیں گے۔

کیا کرس ووکس نے کرشماتی اننگز کا فیصلہ کرلیا تھا یا انھیں پاکستانی بولرز کی گھبراہٹ کا علم تھا ؟

مانچسٹر ٹیسٹ میں میچ ہر سیشن میں جس طرح کروٹیں بدلتا رہا اس نے شائقین میں دلچسپی تو بڑھائی لیکن دونوں کپتانوں کی نیندیں چھین لی تھیں۔  

جوروٹ اور اظہر علی دونوں کی ذاتی کارکردگی تو اچھی نہ تھی لیکن میچ کا آخری سیشن جو روٹ کو کم ازکم خوشیاں دے گیا۔

کیا مانچسٹر ٹیسٹ کی شکست اظہر علی کے سر سے کپتانی کا تاج چھین لے گی؟ یقیناً نہیں، لیکن یہ دورہ شاید ان کے لیے بحیثیت کپتان آخری  ثابت ہو۔  

7 ٹیسٹ میچز میں کپتانی اور 6 میں شکست اور اپنا کل اسکور 323 رنز،  کچھ  ایسے اعداد و شمار ہیں جن پر ٹیسٹ کرکٹ تو کیا کلب کرکٹ میں بھی کپتانی نہیں بچتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ