'شادی نہ ہونے کے غم میں خواتین قتل اور برہنہ' کرنے کا ملزم گرفتار

گوجرانوالہ میں گرفتار سیریل کلنگ کے ملزم نے پولیس کو بتایاکہ وہ شادی نہ ہونے کے غم میں صرف خواتین کو ہی قتل کرتے تھے، پولیس کے مطابق واردات کے بعد خواتین کی لاش بھی برہنہ ملتی تھی۔

(تصویر: گوجرانوالہ پولیس)

پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں پولیس نے غیر روایتی انداز میں سیریل کلنگ کے ملزم کو گرفتارکر کے شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوا دیا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش اقبال جرم کیا کہ انہوں نے تین خواتین سمیت چار افراد کو قتل کیاہے۔

یاد رہے کہ گوجرانوالہ میں گزشتہ چار ماہ کے دوران چار خواتین سمیت سات افراد کو ایک ہی طریقے سے قتل کیاگیا تھا۔

مقتولین کے سر میں اینٹ یا پتھر مار کر جان لی گئی جب کہ بیشتر وارداتوں میں خواتین کو قتل کے بعد برہنہ کیاگیا۔

مسلسل ایک ہی طرز کے طریقہ واردات سے پولیس حکام کئی ماہ سراغ لگانے میں ناکام رہے لیکن اس کے بعد منظم انداز میں حکمت عملی بنائی گئی اور ملزم کو پکڑکرعدالت میں پیش کر کے اسے جیل بھجوایاگیاجہاں شناخت پریڈ کا عمل جاری ہے۔

ملزم نے خواتین کو ہی قتل کیوں کیا؟

گوجرانوالہ کے متعلقہ ڈی ایس پی میاں معظم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پیپلز کالونی کے علاق میں چار ماہ کے دوران خواتین کی سیریل کلنگ ہوئی۔

یکے بہ دیگرے ہر واردات میں ایک ہی طریقے سے سر میں اینٹ مار کے یا پتھر سے قتل کیا جاتاتھا۔

کل سات قتل ہوئے جن میں چار خواتین تھیں۔ ملزم نے گرفتار ہونے کے بعد پولیس کو بتایاکہ وہ شادی نہ ہونے کے غم میں صرف خواتین کو ہی قتل کرتے تھے۔

واردات کے بعد خواتین کی لاش بھی برہنہ ملتی تھی تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد پتہ چلے گا کہ ملزم زیادتی میں بھی ملوث رہے یا نہیں۔

میاں معظم کے مطابق ملزم نے تین خواتین اور ایک مرد کے قتل کا جرم قبول کیاہے۔

ملزم کو عدالت پیش کیا گیا تھا جہاں سے انہیں شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوایاگیاہے۔ مقتولین کے لواحقین انہیں شناخت کریں گے اور بعدازاں جمعرات تک واپس پولیس کے حوالے کیا جائے گا اور مزید تفتیش ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ ملزم کا طبی معائنہ بھی کرایا جائے گا جس میں معلوم ہوگا کہ کیا یہ نفسیاتی مریض ہیں یا تندرست ہیں نیز ان کے ساتھ کوئی شامل ہے یا نہیں ۔

پھر اس لحاظ سے تفتیش بڑھائی جائے گی۔ اعتراف جرم کے بعد اب وہ قانون سے نہیں بچ سکتا۔

ملزم کا طریقہ واردات اور گرفتاری:

گوجرانوالہ کے صحافی شان بیگ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایاکہ پولیس پیپلز کالونی کے علاقے میں ایک ہی انداز میں قتل اور اقدام قتل کی وارداتوں سے حیران تھی اور چار ماہ کے دوران کئی درخواستیں موصول ہوئیں جن میں قاتل کو کوئی نہ پہچان سکا۔

اپریل سے اس قسم کی شکایات موصل ہونا شروع ہوئیں اورجولائی کے آخرتک وارداتوں کو سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ چار خواتین اور تین مردوں کو سر میں اینٹ یا پتھر مار کر قتل کیاجاتارہا لیکن کسی نے بھی قاتل کی نشاندہی کی نہ کوئی سراغ مل رہاتھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لہذا پولیس نے افسران کےاجلاس میں مشاورت کی اور اس علاقے میں پچاس سے زائد پولیس اہلکار سول کپڑوں میں تعینات کیے گئے جو کئی روز تک رات کے وقت گلیوں میں چھپ کر ڈیوٹی دیتے رہے۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق انہوں نے ملزم کو ایک گھر کی چھت پر سیڑھی لگا کر چڑھتے ہوئے دیکھا اور حراست میں لے لیا۔

ان کے مطابق پولیس کو موصول درخواستوں میں رات کے وقت چھتوں پرسوئی ہوئی خواتین اور مرد قتل ہوئے۔

شان بیگ نے بتایاکہ پولیس تحقیقات کے مطابق ملزم کی عمر چالیس سال ہے اور ان کی شادی نہ ہونے سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار لگتے ہیں۔

کیونکہ وہ شادی شدہ جوڑوں کو علیحدہ کرنے کے لیے انتقام کے طور پر انھیں قتل کرنے لگے۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ ملزم 2007 میں ایک شخص کو زخمی اور پھر 2017 میں ایک خاتون کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے۔

ذرائع  کے مطابق دونوں واقعات میں پکڑے جانے کے باوجود ناکافی شواہد اور تفتیش میں سقم رہ جانے کے باعث جیل سے رہا ہو گئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان