ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہاز پر قبضہ کیا: امریکہ کا الزام

 امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر ہے جس کے دوران ایران کی بحری فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز کے نزدیک لائبیریا کے ایک تیل بردار جہاز پر سوار ہو کر کچھ دیر تک  قبضے میں لینے کی خبر سامنے آئی ہے۔

امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ سے جاری کردہ ایک ویڈیو سے لی گئی اس تصویر میں ایرانی کمانڈو مبینہ طور پر ایم وی ویلا آئل ٹینکر پر ہلی کاپٹر سے اتر رہے ہیں۔ (سینٹرل کمانڈ/ اے پی)

امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر ہے، جس کے دوران ایران کی بحری فوج کے اہلکاروں کی جانب سے آبنائے ہرمز کے نزدیک لائبیریا کے ایک تیل بردار جہاز پر سوار ہو کر کچھ دیر تک  قبضے میں لینے کی خبر سامنے آئی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ نے جمعرات کو ایک بلیک اینڈ وائٹ ویڈیو جاری کی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ایرانی خصوصی فورسز کے اہلکار ایک ہیلی کاپٹر سے رسی کی مدد سے ایم وی ویلا نامی بحری جہاز پر تیزی سے اتر رہے ہیں جس کی آخری پوزیشن متحدہ عرب امارات کے ساحلی شہر خور فکان کے قریب دیکھی گئی تھی۔

امریکی فوجی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ بدھ کو رہا کرنے سے پہلے ایرانی بحریہ نے تقریباً پانچ گھنٹوں تک اس جہاز پر قبضہ کیے رکھا۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ ایرانی کارروائی سے قبل اور قبضے کے دوران جہاز سے کوئی ڈسٹریس کال موصول نہیں ہوئی۔

ویڈیو میں نظر آنے والا ایرانی ہیلی کاپٹر سکورسکائی ایس ایچ 3 سی کنگ دکھائی دیتا ہے جو صرف ایران کی بحریہ ہی آپریٹ کرتی ہے۔

ایرانی بحریہ آبنائے ہرمز کے مشرقی کنارے پر خلیج عمان میں تمام آپریشنز کی نگرانی کرتی ہے اور دنیا کو برآمد ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ اس تنگ بحری راستے سے گزرتا ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ نے بتایا کہ دو دیگر ایرانی بحری جہازوں نے اس کارروائی میں حصہ لیا تھا۔

امریکی فوجی عہدیداروں نے ایران کی جانب سے جہاز کو قبضے میں لینے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔

تاہم ایرانی سرکاری میڈیا اور عہدیداروں نے فوری طور پر جہاز پر قبضے کی خبر کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ پیش کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

متحدہ عرب امارات کے حکام نے بھی اس واقعے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق ایم وی ویلا نامی بحری جہاز لائبیریا کی فرم ’بینڈٹ شپنگ کمپنی‘ کے نام پر رجسٹر ہے جسے یونانی فرم آئی ایم ایس ایس اے آپریٹ کرتی ہے۔ 

نجی سمندری انٹیلی جنس فرم ’ڈرائڈ گلوبل‘ نے کہا ہے کہ اس کو شبہ ہے کہ گذشتہ ہفتہ کے دوران خلیج عرب میں ایران کے نیم فوجی انقلابی گارڈ نے دو دیگر بحری جہازوں کو بھی ہراساں کیا تھا۔

2015 میں امریکہ کی جانب سے یک طرفہ طور پر جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کی تنگ گزرگاہ کے پانیوں پر اپنا تسلط جمانے کی کوششیں کی ہیں۔ 

امریکیوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس کی بحریہ نے اس علاقے میں متعدد ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کئی جہازوں کو قبضے میں لینے کے باوجود ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

جولائی میں ایرانی خام تیل کی سمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث اور امریکہ کو مطلوبہ آئل ٹینکر متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب سے ہائی جیک ہو گیا تھا۔

بعد میں حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اس جہاز پر ایران نے خود قبضہ کر لیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا