بیلاروس کی اپوزیشن رہنما نے راہ فرار کیوں اختیار کی؟

حالیہ انتخابات میں 26 سال سے اقتدار میں صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے حریف کے طور پر سامنے آنے والی سویتلانا تیخانوفسکایا کو سیاست میں اپنے شوہر کی خاطر آنا پڑا جو سیاسی قید میں ہیں، تاہم انتخابات کے بعد انہیں ملک چھوڑنا پڑ گیا۔

بیلاروس میں اپوزیشن رہنما سویتلانا تیخانوفسکایا کو اپنے بچوں کی خاطر ملک چھوڑنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔

حالیہ انتخابات میں موجودہ صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے 80 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ تیخانوفسکایا 9.9 ووٹ حاصل کر سکیں۔ انگریزی کی یہ سابق استاد خود کو فاتح تصور کرتی ہیں۔

انہوں نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اکثریت ہمارے ساتھ تھی۔ حکام کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیسے پرامن طریقے سے اقتدار ان کے حوالے کر دیں۔‘

الیگزینڈر لوکاشینکو انتخابات کے خلاف شدید احتجاج کے باوجود اقتدار سے 26 سال سے چپکے ہوئے ہیں۔ اس احتجاج کے خلاف حالیہ دنوں میں انہوں نے پرتشدد طریقے سے نمٹنے کی کوشش کی ہے۔ اس دوران بڑی تعداد میں گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔

یوٹیوب پر جاری ایک ویڈیو میں سویتلانا تیخانوفسکایا نے کہا: ’مجھے لگتا تھا کہ اس مہم نے مجھے سخت مضبوط کر دیا ہے اور مجھ میں کسی بھی چیز سے نمٹنے کی قوت دی ہے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ میں اب بھی وہی کمزور عورت ہوں۔‘

1986 میں یوکرین میں چرنوبل حادثے کے بعد منفی اثرات سے بچنے کی خاطر فلاحی تنظیموں کی جانب سے آئرلینڈ لائے جانے والے ہزاروں بچوں میں سویتلانا بھی تھیں۔ ان کی عمر اس وقت 12 سال تھی۔

آئرلینڈ میں انہوں نے انگریزی کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں بیلاروس کی موزر سٹیٹ پیڈاگوگکل یونیورسٹی میں تدریس کی تعلیم حاصل کی۔

سویتلانا کا آغاز سے صدارتی امیدوار بننے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ ان انتخابات سے قبل وہ کبھی سیاست میں نہیں آئیں۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق وہ گھریلو خاتون تھیں لیکن سیاست میں انہیں آنے پر مجبور حزب اختلاف کے کئی رہنماؤں نے کیا جو جبری ملک بدری یا قید میں ہیں۔ ان میں سویتلانا کے شوہر سرگئی تخانووسکی بھی شامل ہیں۔ 

ان کے شوہر کو صدارت کے لیے انتخابات لڑنے کے اعلان کے دو روز بعد ہی انتخابی اور پبلک سیفٹی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

سویتلانا نے سیاست میں آنے سے قبل اپنا تدریسی کیریئر اپنے دو بچوں کی خاطر چھوڑ دیا تھا اور شوہر کی مہم کو آگے لے جانے کی کوشش میں وہ سیاسی دھارے میں شامل ہوگئیں۔

انہیں جلد ہی الیگزینڈر لوکاشینکو کے جبر کے ذریعے اقتدار میں رہنے اور معاشی ابتری میں متبادل تصور کیا جانے لگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملک چھوڑ کر لیتھوینیا میں پناہ لینے والی سویتلانا دکھائی نہیں دی ہیں۔ انہیں جاننے والے ان کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں۔

37 سالہ سویتلانا سیاست سے قبل اپنے 10 سالہ بیٹے اور پانچ سالہ بیٹی کو زیادہ وقت دینا چاہتی تھیں۔ بیٹا پیدائشی طور پر قوت سماعت سے عاری تھا لہذا وہ اسے زیادہ توجہ اور وقت دینا چاہتی تھیں۔ علاج کی بہتر سہولت کی خاطر وہ منسک شہر سے جنوب مشرقی گومل منتقل ہوئیں جہاں وہ اسے سماعت کا آلہ لگوانے میں کامیاب ہوئیں۔

نو اگست کو انتخابات میں سویتلانا اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد کئی گھنٹوں کے لیے لاپتہ رہیں جس کے بعد خبر آئی کہ وہ لیتھوینیا میں ہیں۔ بعد میں انہوں نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ کیوں احتجاج کے دوران ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔ اس پیغام میں بھی انہوں نے اپنے بچوں کا ذکر کیا۔

’میں نے ایک مشکل فیصلہ کیا‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران ان کی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی جو بظاہر دباؤ میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس میں انہوں نے اپنے ہم وطنوں کو احتجاج ختم کرنے اور موجودہ صدر کا دوبارہ انتخاب قبول کرنے کی اپیل کی۔

بیلاروس میں مرد مظاہرین کی بڑی تعداد میں گرفتاریوں اور تشدد کے بعد خواتین سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلیں۔ انہوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنائی اور سفید پھول بھی اٹھائے تاکہ تشدد کی مذمت کر سکیں۔

انتخابی مہم کے دوران کئی کے لیے سویتلانا ایک کمزور سیاسی حریف تھیں لیکن ایک ایسی شخصیت جو حزب اختلاف کو ضروری اور مثبت شکل دے سکیں۔ ان میں دوسروں کو ساتھ ملانے کی صلاحیت بھی تھیں۔ خود صدر انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے اور اس لیے شاید کبھی گرفتار کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

جولائی میں سویتلانا نے ایک اخباری کانفرنس میں واضح کیا تھا تھ وہ اقتدار میں نہیں آنا چاہتیں۔ ’میں فورا دوبارہ انتخابات منعقد کروا کر اقتدار نئی قیادت کو سونپ دوں گی۔‘

ان کا امیروں سے پیسہ لے کر غریبوں کو دینے کا اصلاحاتی پروگرام کافی مقبول ہوا۔ ان کے جلسوں میں ہزاروں لوگ آئے اور یہ محض بڑے شہروں میں نہیں بلکہ موجودہ صدر کے مضبوط گڑھ دیہی علاقوں میں بھی ہوا۔

وہ لوگوں کی شکایت کی علامت بن گئیں لیکن اپنے بچوں کی خاطر انہیں راہ فرار اختیار کرنی پڑی – لیکن آخر کب تک؟

زیادہ پڑھی جانے والی گھر