پنجاب کے سکول کھلے تو ’سیل‘، نہ کھلے تو ’لانگ مارچ‘

پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں جو سکول کھولے جا رہے ہیں انہیں سیل کیا جائے گا جبکہ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے حکومتی ایکشن کے خلاف لانگ مارچ کا عندیہ دے دیا۔

پنجاب کے وزیر برائے سکول ایجوکیشن مراد راس کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں جو سکول کھولے جا رہے ہیں انہیں سیل کیا جائے گا جبکہ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے حکومتی ایکشن کے خلاف لانگ مارچ کا عندیہ دیا ہے۔

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے کہا ہے کہ ملک بھرمیں 15 اگست سے کھلنے والے نجی سکولوں کے خلاف حکومتی ایکشن بند نہ کیا گیا تو ملک بھر میں لانگ مارچ کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے 15 اگست سے ملک بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے نجی سکولوں کو کھول دیا ہے

کاشف مرزا نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’سنیچر کو جب ہم نے سکول کھولے تو حکومت نے ہمارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’سوات، مالاکنڈ، چارسدہ، قصور اور دیگر شہروں میں اساتذہ اور پرنسپلز کو ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کیا اور انہیں سڑکوں پر گھمایا گیا جس کے بعد ہم نے ملک بھر میں لانگ مارچ کی کال دی ہے۔ اگر حکومت نے اساتذہ کی گرفتاریوں کا سلسلہ نہ روکا تو ہم ملک بھر میں لانگ مارچ نکالیں گے۔‘

کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ ’ہم نے 80 فیصد سکول کھول دیے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ جہاں ایس او پیز مکمل ہیں وہاں پانچویں اور اس سے بڑی کلاسوں کے بچے سکول آئیں اور جہاں ایس او پیز مکمل نہیں ان سکولوں کو ایس او پیز پورے ہونے کے بعد کھولا جائے۔‘ ان کے مطابق وہ ایلیٹ سکول جو آن لائن کلاسز کی سہولت دے رہے ہیں انہیں نہیں کھولا گیا۔

’کھلنے والے نجی سکولوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے وہ سکول ہیں جہاں آن لائن تعلیم کی سہولت فراہم کرنا مشکل تھا یا ان سکولوں کے بچوں کے والدین کا مطالبہ تھا کہ سکول کھول دیے جائیں۔‘

کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ ’ہم نے والدین کے لیے آسانی رکھی ہے کہ اگر وہ سکول نہیں بھیجنا چاہتے تو بچوں کا کورس ان کے گھر تک پہنچا دیں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ جو کرونا فری علاقے ہیں جن میں رحیم یار خان، گلگت بلتستان وغیرہ  شامل ہیں وہاں اجازت دی گئی ہے کہ چھوٹے بچے بھی سکول آئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ جو سکول کھولے گئے ہیں وہاں تین دن سینئیر طالب علم آئیں گے جبکہ باقی تین دن جونیئر طالب علم آئیں گے۔ اس کے علاوہ آگے ان بچوں کو بھی ہم نے صبح اور دوپہر کی دو شفٹوں میں تقسیم کر دیا ہے جبکہ صوبہ سندھ اور پنجاب میں ہم نے سکولوں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ صرف سینیئر کلاسز کو بلائیں۔‘

کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں دو لاکھ سات ہزار نجی سکول ہیں جن میں ایلیٹ سکولز سے لے کر چھوٹے درجے کے نجی سکول بھی شامل ہیں جو فیڈریشن کے تحت آتے ہیں۔

’حکومت ہمیں سکول کھولنے سے روک نہیں سکتی کیونکہ ہم آئین کے خلاف کوئی کام نہیں کر رہے، آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 اے کے تحت  پانچ  سے 16 سال تک کے ہر بچے کے لیے  تعلیم بنیادی حق ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اساتذہ خود کشیوں پر اتر آئے ہیں جبکہ کچھ  تو ریڑھیاں لگانے لگے ہیں، اس معاشی قتل کو روکنے کے لیے نجی سکولوں کا کھلنا ضروری ہے۔‘

دوسری جانب صوبائی وزیر برائے سکول ایجوکیشن پنجاب مراد راس نے پیر کو سکول کھولنے کے  ایس او پیز کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس بھی کی جس کے بعد انہوں نے ایک ٹویٹ میں خبردار کیا کہ  ’نجی  و سرکاری سکول 15 ستمبر سے کھولے جائیں گے، کوئی بھی اس سے پہلے سکول کھولنے کی کوشش کرے گا تو اس کا سکول سیل کر دیا جائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت کسی قیمت پر نہیں دی جائے گی اس لیے اس حوالے سے کوئی غلطی نہ کرے۔‘

مراد راس نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ جہاں سکول کھلے وہاں کرونا کے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ ’ہم 15 ستمبر سے سکول کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس