پی ایچ ڈی طالبہ نادیہ شیزوفرینیا کی مریضہ تھیں: بھائی

کراچی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ نادیہ اشرف کی مبینہ خودکشی کے بعد ان کے سپروائزر ڈاکٹر اقبال چوہدری پر 'ہراسانی' کے الزام عائد کیے جا رہے ہیں لیکن نادیہ کے بھائی اور خود ڈاکٹر اقبال کیا کہتے ہیں؟

39 سالہ نادیہ کی پیدائش بہاولپور میں ہوئی تھی جہاں سے انہوں نے اپنی ابتدائی، کالج اور بیچلرز کی تعلیم مکمل کی (تصویر نادیہ فیملی)

جامعہ کراچی کی طالبہ نادیہ اشرف چوہدری نے گذشتہ روز اپنے فلیٹ میں، جہاں وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھیں، مبینہ طور پر خود کشی کرلی۔ نادیہ جامعہ کراچی میں واقع تحقیقی ادارے ڈاکٹر پنجوانی مرکز برائے مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ کی طالبہ تھیں۔

جب یہ مبینہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت نادیہ کی والدہ گھر پر موجود نہیں تھیں۔ ان کے بڑے بھائی شہباز کے مطابق والدہ قریب میں ہی ایک بازار سے گھر کا سامان لینے گئی تھیں۔ ’اگر وہ پانچ منٹ پہلے آجاتیں تو نادیہ آج حیات ہوتی۔‘

نادیہ اشرف کون تھیں؟

39 سالہ نادیہ کی پیدائش بہاولپور میں ہوئی تھی جہاں سے انہوں نے اپنی ابتدائی، کالج اور بیچلرز کی تعلیم حاصل کی۔ وہ کراچی کی ایک نجی جامعہ بیریٹ ہڈسن یونیورسٹی میں لیکچرر بھی رہ چکی تھیں۔

نادیہ 2005 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بہاولپور سے کراچی آئیں، جس کے بعد ان کا داخلہ ڈاکٹر پنجوانی تحقیقاتی سینٹر میں ایم فل پلس پی ایچ ڈی پروگرام میں ہوا تھا۔

وہ سب سے پہلے ڈاکٹر امین سوریا کی زیرِ نگرانی2007 میں ایم فل پی ایچ ڈی میں انرول ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر امین سوریا کے جانے کے بعد یہ طالبہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کے زیرِ نگرانی اپنی پی ایچ ڈی مکمل کررہی تھیں۔ وہ تحقیقی تربیت کے لیے اپنے ادارے کے خرچے پر فرانس بھی جا چکی تھیں۔

2016 میں نادیہ کی پی ایچ ڈٰی مکمل ہونی تھی لیکن چند مسائل کے باعث وہ اسے ابھی تک مکمل نہیں کر پائی تھیں۔ نادیہ کی دوست ڈاکٹر سونیا کا کہنا تھا کہ انہیں یہ سن کر بہت حیرانی ہوئی کہ نادیہ نے ’خود کو پھانسی دے‘ کر ’خود کشی‘ کر لی، کیوں کہ جہاں تک وہ اپنی دوست کو جانتی تھیں، وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی۔

ڈاکٹر سونیا کے مطابق نادیہ بہت ہی ہمت والی، ہونہار اور بلند ارادوں کی مالک تھی۔ ’مگر اس سب کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گھریلو اور پی ایچ ڈی سے منسلک مسائل کی وجہ سے کافی پریشان رہتی تھی۔‘

نادیہ کے بھائی شہباز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہمیں سب سے پہلا جھٹکا تب لگا تھا جب نادیہ نے دو سال پہلے اپنی کلائیاں کاٹ کر پہلی بار خودکشی کرنے کی کوشش کی۔

شہباز کے مطابق ایسا نادیہ نے اس وقت کیا تھا کہ ’جب ان سے کم نمبر حاصل کرنے والی ایک طالبہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دے دی گئی تھی جس کا صدمہ نادیہ سے برداشت نہیں ہوا کیوں کہ انہیں 2016 میں ڈگری ملنی تھی مگر ان کے تحقیقی کام میں کچھ کمیوں کے باعث انہیں نہیں مل سکی تھی۔‘

ان کے مطابق ’اس دوران نادیہ کو کراچی نفسیاتی ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا جہاں ان کا کچھ وقت تک علاج چلتا رہا اور ڈاکٹرز نے ہمیں بتایا کہ انہیں شیزوفرینیا نامی ذہنی بیماری ہے۔‘

ماہر نفسیات ڈاکٹرعائشہ صدیقہ کے مطابق شیزوفرینیا ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس میں مبتلا افراد وہمی ہوتے ہیں اور وہ ایسی چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو موجود نہیں ہوتیں۔ ’انہیں کئی قسموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، چیزیں دکھائی دیتی ہیں، ان کو ہر وقت لگتا ہے کہ ان کے جسم پر چیز رینگ رہی ہے۔‘

ڈاکٹر عائشہ کے مطابق یہ عارضہ والدین سے بچوں میں جینیاتی نظام کے تحت منتقل ہوسکتا ہے یا بچپن میں کسی صدمے سے گزریں ہوں، انہوں نے کسی طرح کے جسمانی، ذہنی اور جذباتی تشدد کا سامنا کیا ہو یا پھر بچپن میں وہ کسی انفیکشن وائرس کا شکار ہوئے ہوں۔

شہباز نے بتایا کہ ان کے والد اشرف چوہدری 2007 میں لاپتہ ہو گئے تھے جس کے بعد کافی ڈھونڈنے پر بھی ان کا کوئی سراغ نہیں مل پایا۔ ’نادیہ اپنے والد سے کافی قریب تھیں اور انہوں نے اس حادثے کا کافی صدمہ لیا تھا۔‘

کیا ڈاکٹر اقبال چوہدری کی وجہ سے ’خودکشی‘ کی؟

کیا نادیہ اپنے سپروائزر ڈاکٹر اقبال چوہدری کی وجہ سے پریشان تھیں؟ کیا وہ انہیں ’ہراساں‘ کرتے تھے اور کیا نادیہ نے اس حوالے سے گھر پر کبھی بات کی تھی؟

ان سوالوں کے جواب میں شہباز کا کہنا تھا کہ ’نادیہ نے ہمارے سامنے کبھی بھی ڈاکٹر اقبال کی برائی نہیں کی۔ میں نے ڈاکٹر اقبال سے ایک بار ملنے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے مجھے یہ کہہ کر اپنے سپر وائزر سے ملوانے سے منع کر دیا تھا کہ وہ میری بات کا برا مان جائیں گے۔‘

شہباز کے مطابق ’نادیہ یہ نہیں چاہتی تھی کیوں کہ وہ ان کا بہت احترام کرتی تھی اور کہتی تھی کہ ڈاکٹر اقبال میرے والد کی جگہ پر ہیں۔‘

نادیہ کی ’خودکشی‘ کی خبر سامنے آنے کے بعد سے متعدد حلقوں اور میڈیا چینلز پر ڈاکٹراقبال چوہدری کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے کیوں کہ نادیہ کی پی ایچ ڈی پچھلے 16 سال سے مکمل نہیں ہو پائی تھی جس کی وجہ سے وہ کافی پریشان رہتی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی ایک دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’نادیہ کہتی تھی کہ ڈاکڑ اقبال انہیں کبھی بھی پی ایچ ڈی مکمل نہیں کرنے دیں گے۔‘ تاہم اس حوالے سے جب ڈاکٹر اقبال چوہدری سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’نادیہ بہت باصلاحیت اور ذہین طالبہ تھی لیکن وہ بہت بیمار بھی تھیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ ’نادیہ اتنی بیمار رہتی تھیں کہ وہ بھرپور طریقے سے اپنی پی ایچ ڈٰی پر توجہ نہیں دے پاتی تھی۔ میرے لیے یہ بہت ہی تکلیف دہ ہے کہ لوگ مجھ پر نادیہ کو ہراساں کرنے کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ وہ بالکل میرے بچوں کی طرح تھی، بالکل اسی طرح جیسے میرے ماتحت پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ میرے بچوں کی طرح ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ نادیہ کو کئی مشکلات کا سامنا تھا جس کے باعث وہ اپنی ریسرچ پر پوری طرح توجہ نہیں دے پاتی تھیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ وہ ریسرچ ورک شروع کرتیں اور اس کے بیچ میں غائب میں ہوجاتیں اور جب وہ واپس آتیں تو اپنی صحت اور خاندان کے مسائل کے حوالے سے باتیں بتاتی تو میں ان کی بات کو سمجھتا تھا۔‘

ڈاکٹر اقبال چوہدری کے مطابق نادیہ کے اصل مسائل ان کے خاندان سے منسلک تھے۔ ’وہ اپنے والد کی گمشدگی اور اپنے چچا کی جانب سے پراپرٹی کے تنازعات کے حوالے سے پریشان رہتی تھیں۔ نادیہ کو ڈر تھا کہ یہ لوگ انہیں کچھ کر دیں گے یا ان کی صحت خراب ہونے کے باعث انہیں کچھ ہو جائے گا۔

’وہ اپنی والدہ کی بارے میں بہت فکرمند رہتی تھیں۔ اسی وجہ سے ان کی پی ایچ ڈی تاخیر کا شکار ہوئی جبکہ عام طور پر ان کے تحقیقاتی ادارے کے طلبہ چار سے پانچ سالوں میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کر لیتے ہیں۔‘

ڈاکٹر اقبال چوہدری نے نادیہ کے حوالے سے مزید کہا کہ ’اگر نادیہ کے ساتھ اتنے مسائل نہ ہوتے تو وہ بہت اچھی پی ایچ ڈی سکالر بن سکتی تھیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان