امریکی حکومت کے لیے ایپل نے خفیہ آئی پوڈ بنایا: سابق انجینیئر

امریکی ٹیکنالوجی جائنٹ ایپل کے پراڈکٹ آئی پوڈ پر کام کرنے والے ایک سابق سافٹ وئیر انجینیئر نے دعویٰ کیا ہے کہ اپیل نے امریکی حکومت کے لیے ایک 'ٹاپ سیکریٹ' میوزک پلیئر بنایا۔

شیئر کے مطابق ایپل میں صرف چار افراد کو اس منصوبے کی خبر تھی(اے ایف پی)

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے آئی پوڈ پر کام کرنے والے ایک سابق سافٹ وئیر انجینیئر نے دعویٰ کیا ہے کہ اپیل نے امریکی حکومت کے لیے ایک ’ٹاپ سیکریٹ‘ میوزک پلیئر بنایا۔

ایپل کے لیے 18 سال کام کرنے والے ڈیوڈ شیئر کا کہنا ہے کہ 2005 میں آئی پوڈ سافٹ ویئر کے ڈائریکٹر نے انہیں ’امریکی محکمہ توانائی کے دو انجینیئرز کے ساتھ ایک خاص آئی پوڈ‘ بنانے کی ’خاص اسائنمنٹ‘ کا بتایا۔  

وہ دو انجینیئر بیچیل کمپنی کے تھے، جو امریکی محکمہ توانائی کے ساتھ ڈیفنس کنٹریکٹر کے طور پر کام کرتی ہے۔ ان کا مقصد ایک ایسا آئی پوڈ بنانا تھا جس پر کسٹمائزڈ ہارڈویئر ایسے چل سکے کہ معلوم ہی نہ ہو کہ چل رہا ہے۔

شیئر کے مطابق ایپل میں صرف چار افراد کو اس منصوبے کی خبر تھی۔ وہ، آئی پوڈ سافٹ ویئر کے ڈائریکٹر، آئی پوڈ ڈویژن کے صدر اور ہارڈ ویئر کے سینیئر نائب صدر۔

اس حوالے سے تمام رابطے ذاتی طور پر کیے گئے تاکہ کوئی کاغذی ثبوت نہ ہو۔

شیئر کا دعویٰ ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ دو انجینیئر کیا بنا رہے تھے، تاہم ان کو شبہ ہے کہ وہ ’کسی خفیہ گائگر کاؤنڑ‘ کی طرح تھا۔ گائگر کاؤنٹر تابکاری ناپنے کا آلہ ہوتا ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شیئر لکھتے ہیں: ’آپ شہر میں چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے گانے سن رہے ہوں گے اور ساتھ ساتھ ہی تابکاری کے لیے، سمگل شدہ یا چوری شدہ یورینیئم یا ڈرٹی بم کی تیاری کے منصوبے کے لیے سکین کر رہے ہوں گے۔ پریس یا عوام کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

شیئر کے مطابق: ’یہ بیچل کے ساتھ کوئی اشتراک نہیں تھا جس میں معاہدہ ہو اور پیسے دیے گئے ہوں۔ اپیل محکمہ توانائی کے لیے خفیہ طور پر یہ کام کر رہا تھا۔‘

حالانکہ بیچیل کو اپیل کی جانب سے آئی پوڈ کا سورس کوڈ نہیں دیا گیا، تاہم انہوں نے آئی پوڈ کے آپریٹنگ سسٹم کی ایک کاپی بنا لی اور اسے ایک میوزک پلیئر میں لوڈ کیا۔

انجینیئرز نے ڈسک پر ایک خفیہ حصہ بنایا، آئی پوڈ کی سٹوریج میں ایک ایسا حصہ، جس کو علیحدہ سے کام میں لایا جا سکتا تھا۔ اس سے ایسا ہوتا کہ کوئی صارف آئی پوڈ کو کمپیوٹر میں پلگ ان کرتا تو یہ معلوم نہ ہوتا کہ ڈیوائس میں تبدیلی کی گئی ہے۔

انہوں نے ریکارڈنگ کو آن اور آف کرنے کا ایک سسٹم بھی بنایا اور اس فنکشن کو خفیہ طور پر آئی پوڈ کی مینیو سکرین میں ڈال دیا۔

جس آئی پوڈ پر یہ ہوا وہ ففتھ جنریشن آئی پوڈ تھا جس میں اپیل کے میوزک پلیئر میں ویڈیو کا فنکشن بھی تھا۔ شیئر کے مطابق یہ ایپل کا آخری آئی پوڈ تھا جس میں اس نے آپریٹنگ سسٹم کو ڈیجیٹلی سائن آف نہیں کیا جس کا مطلب ہے کہ یہ ڈیوائس ہیک ہو سکتی تھی۔

آئی پوڈ نینو سے اپیل نے اپنا طریقہ کار بدلا جس کے بعد ہیکنگ نا ممکن ہوگئی۔

شیئر کا ماننا ہے کہ اگر اپیل کو اس سے ملتا جلتا سافٹ ویئر نینو میں ڈالنے کا کہا گیا ہوتا تو وہ منع کر دیتا۔

شیئر نے لکھا: ’اگر آپ ایپل سے اس کسٹم آئی پوڈ پروجیکٹ کے بارے میں پوچھیں گے تو پی آر کے لوگ آپ کو کہیں گے کہ ایپل کے پاس کسی ایسے منصوبے کا ریکارڈ نہیں۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے ایپل اور بیچیل سے اس پر ردعمل کے لیے رابطہ کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی