سعودی آرامکو چینی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اب بھی سنجیدہ

آرامکو کا کہنا ہے کہ ’چین آرامکو کے لیے اب بھی ایک اہم منڈی ہے اور وہ اس خطے میں اپنی موجودگی کو بڑھانا چاہتی ہے۔‘

سعودی کمپنی آرامکو ریفائنری توسیع منصوبے کے بارے میں رواں سال کے شروع میں انڈونیشیا کی ریاستی توانائی کمپنی پرٹامینا سے بھی بات چیت کرچکی ہے(فائل تصویر: اے ایف پی)

سعودی عرب میں واقع پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی سب سے بڑی سرکاری کمپنی ’آرامکو‘ نے چین میں 10 ارب ڈالر کی لاگت سے مجوزہ ریفائننگ اینڈ پیٹروکیمیکل کمپلیکس کی تعمیر سے متعلق حالیہ ’غلط‘ رپورٹنگ کے باوجود کہا ہے کہ وہ اس پر عمل درآمد کے لیے اب بھی سنجیدہ ہے۔

امریکی میڈیا گروپ بلومبرگ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سعودی کمپنی عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں سے نمٹنے کے لیے اخراجات میں کمی کرنا چاہتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آرامکو نے اپنے چینی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کے بعد چین کے شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ میں اس کمپلیکس میں سرمایہ کاری روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم آرامکو نے اب تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’بلومبرگ کی نیوز رپورٹ جس میں آرامکو کے ’چائنہ نارتھ انڈسٹریز گروپ کارپوریشن (نورینکو) کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے بارے میں رپورٹ۔۔۔حقائق پر مبنی نہیں ہے۔‘

کمپنی کا کہنا ہے کہ ’چین آرامکو کے لیے اب بھی ایک اہم منڈی ہے اور وہ اس خطے میں اپنی موجودگی کو بڑھانا چاہتی ہے۔ لیاؤننگ کا یہ منصوبہ ابھی ڈیزائن کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور ہم چین میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تیسرے پارٹنر ’پنجن سنسین‘ نے بھی کسی فون کال یا ای میل کا جواب نہیں دیا۔

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے باعث توانائی کی طلب میں کمی کے باعث پوری دنیا میں توانائی کمپنیوں پر پڑنے والے اثرات سے مستقبل کے منصوبوں پر بے یقینی کے بادل چھا گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشترکہ منصوبے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ سال فروری میں بیجنگ کے دورے کے دوران دستخط کیے تھے۔ سعودی عرب ایشیا میں اپنا مارکیٹ شیئر بڑھانا چاہتا تھا اور اس نے اپنے ملک میں چینی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے۔

منصوبے کے تحت سعودی عرب کو تین لاکھ بیرل یومیہ تیل صاف کرنے کی صلاحیت رکھنے والی اس مجوزہ ریفائنری کے لیے 70 فیصد خام تیل فراہم کرنا تھا۔

کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں سے عالمی سطح پر تیل کی طلب میں زبردست کمی دیکھی گئی جس سے اس کی قیمتیں زمین بوس ہو گئی تھیں اس صورت حال میں سب سے زیادہ نقصان ریفائنرز کو اٹھانا پڑا تھا جو ادائیگیوں کے بھنور میں پھنس کر سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

بلومبرگ کے رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی کمپنی آرامکو ریفائنری توسیع منصوبے کے بارے میں رواں سال کے شروع میں انڈونیشیا کی ریاستی توانائی کمپنی پرٹامینا سے بھی بات چیت کرچکی ہے، لیکن موجودہ بحران کے باعث یہ مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے اور پرٹامینا کو اب دوسرے کسی ساتھی کی تلاش ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا