چین جولائی سے کرونا کی ویکسین استعمال کر رہا ہے: انکشاف

اس وقت دنیا میں کرونا وائرس کی سات ویکسینوں پر آخری مرحلے کے تجربات جاری ہیں جن میں سے چار ویکسینیں چینی ہیں۔

(اے ایف پی)

چین اپنے ضروری عملے کو جولائی سے کرونا وائرس کے خلاف تجرباتی ویکسین دے رہا ہے۔ اس بات کا انکشاف چین کے محکمۂ صحت کے اعلیٰ حکام نے کیا ہے۔

چین کے قومی صحت کے کمیشن کے ڈائریکٹر ژینگ ژونگ وائی نے کہا کہ طبی عملے اور سرحدی معائنے کا عملہ وہ اہم اہلکار ہیں جنہیں تجرباتی ویکسین دی گئی ہے۔

انہوں نے سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی کو بتایا کہ 22 جولائی کو جب حکومت نے ویکسین کے ’تجرباتی استعمال‘ کا منصوبہ شروع کیا تو اس کے بعد سے یہ بات ’قانون کے مطابق ہے‘ کہ خطرے سے دوچار عملے کو ویکسین دی جائے۔

انہوں نے کہا، ’چین میں اکثر مریض باہر سے آ رہے ہیں، اس لیے سرحدی عملہ زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ویکسین لگانے کے پروگرام میں اگلی باری ٹرانسپورٹ کے شعبے اور ویٹ مارکیٹس (زندہ جانوروں کی منڈیاں) میں کام کرنے والے عملے کی ہے۔  

حکام نے بتایا کہ حکومت موسمِ خزاں اور سرما میں وبا پر قابو پانے کے لیے بھی اس پروگرام کو توسیع دے سکتی ہے۔

اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق ژینگ نے یہ نہیں بتایا کہ کون سی تجرباتی ویکسین استعمال کروائی گئی ہے۔

اس وقت دنیا میں سات ویکسینیں ایسی ہیں جو فیز 3 سے گزر رہی ہیں جن میں چار چین نے تیار کی ہیں۔ ان میں سے دو ویکسینیں چین کی سرکاری دوا ساز کمپنی چائنا نیشنل فارماسیوٹیکل گروپ کے (ذیلی ادارے) چائنا نیشنل بائیوٹیک گروپ کی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’کرونا ویک‘ نامی تیسری ویکسین سائنوویک بائیوٹیک کی تیارکردہ ہے جب کہ کین سائنو بائیولاجکس چینی فوج کے تحقیقی ادارے اکیڈمی آف ملٹری میڈیکل سائنسز کے ساتھ مل کر Ad5-nCoV ویکسین پر کام کر رہا ہے۔

جولائی میں باضابطہ طور پر ’ہنگامی استعمال‘ کا پروگرام شروع ہونے سے قبل جون کے مہینے میں چینی فوج نے کین سائنو کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی تھی۔

سرکاری میڈیا نے یہ بھی کہا ہے کہ جون ہی میں سرکاری اداروں کے ان ملازمین کو دو تجرباتی ویکسینوں میں سے ایک کے استعمال کی اجازت دے دی گئی تھی جو بیرونِ ملک سفر کر رہے ہوں۔

سی این بی جی کے فیز 3 کے ٹرائل ارجنٹینا، پیرو، مراکش، بحرین اور عرب امارات میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔

انڈونیشیا اور برازیل میں سائنو ویک کی ویکسین کرونا ویک کے فیز 3 کے تجربات ہو رہے ہیں جب کہ بعد ازاں بنگلہ دیش میں بھی اس تجرباتی ویکسین کے ٹرائل ہوں گے۔

پاکستان، سعودی عرب اور روس نے کین سائنو کمپنی کی ویکسین کے تجربات منعقد کروانے پر رضامندی ظاہر کی ہے جب کہ آخری سٹیج کے ٹرائل میکسیکو میں بھی ہوں گے۔

تاہم ہر ملک چینی ویکسین پروگرام سے مطمئن نہیں ہے۔

حال ہی میں پاپوا نیو گنی کو پتہ چلا کہ ایک چینی کان کن کمپنی کے بعض ملازمین کو کرونا وائرس کی تجرباتی ویکسین دی گئی ہے تو انہوں نے 180 افراد پر مشتمل پرواز واپس بھجوا دی تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت