جب تیمور مولانا روم کی قبر اکھڑواتے اکھڑواتے رہ گیا

دنیا کے بڑے فاتحین میں سے ایک امیر تیمور کو مولانا رومی کی شاعری پسند نہیں تھی اور وہ ان کی ہڈیاں قبر سے نکالنا چاہتا تھا۔

سمرقند میں موجود تیمور کی ایک تصویر (کری ایٹو کامنز)

معروف مصنف ہیرالڈ لیم نے اسے آخری فاتح عالم قرار دیا ہے۔ اس کی زندگی گھوڑے کی پیٹھ پر بسر ہوئی اور آدھی دنیا کے لشکروں کو یکِ بعد دیگرے مغلوب کیا اور اپنی سلطنت وسطی ایشیا سے افغانستان، ہندوستان، فارس، بغداد و دمشق، انقرہ اور آرمینیا تک وسیع کی۔ خراسان کے شہر سبز وار پر جب فتح پائی تو ڈیڑھ لاکھ کھوپڑیوں کا مینار بنوایا تاکہ دنیا جان لے کہ اس کے آگے سر اٹھانے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔

اس کا نام تیمور تھا اور وہ تیمور لنگ کے نام سے مشہور ہے۔ وہ 1336 میں سمرقند کے قریب کے ایک قصبے کیش میں پیدا ہوا جسے آج شہر سبز کہتے ہیں۔

امیر تیمور کی ایک خاصیت یہ تھی کہ وہ دونوں ہاتھوں سے تلوار چلا سکتا تھا۔ وہ نہ صرف حافظ قرآن تھا بلکہ اس کا حافظہ اتنا قوی تھا کہ قرآن کی کوئی بھی آیت الٹی پڑھ سکتا تھا۔ تیمور دینی اور دنیوی علوم کا ماہر تھا اسے مفتی اور فقیہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ تیمور کی آپ بیتی 1783 میں منظرعام پر آئی جسے ایک فرانسیسی مصنف مارسیل بریون نے مرتب کیا تھا۔ تیمور کے ہاتھ سے لکھی ہوئی یادداشتوں کا اصلی نسخہ یمن کے بادشاہ جعفر پاشا کے پاس محفوظ تھا جو ہندوستان سے ہوتا ہوا برطانیہ پہنچ گیا۔

یہ کتاب امیر تیمور کے بارے میں دلچسپ واقعات سے بھری پڑی ہے۔ تیمور کی زندگی ایک خواب سے شروع ہوتی ہے اور ایک خواب پر ہی ختم ہوتی ہے۔ سمرقند پر و بخارا پر تصرف حاصل کرنے کے بعد امیر تیمور نے ایک حیرت انگیز خواب دیکھا جس میں اسے آسمان میں معلق ایک سیڑھی پر چڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے جب وہ کئی زینے اوپر چڑھ چکا ہوتا ہے تو ایک غیبی آواز آتی ہے، کیا تو جانتا ہے کہ تو نے کتنے زینے طے کر لیے ہیں؟‘

تیمور نےجواب دیا، ’نہیں۔‘

پھر آواز آئی، ’تو جتنے زینے چڑھ آیا ہے یہ تیری زندگی کے شب و روز ہیں۔ البتہ تو جب تک زندہ رہے گا اوپر ہی جائے گا کبھی نیچے نہیں آئے گا، لہٰذا ایک نصیحت یاد رکھ کہ ہمیشہ دانشوروں، علما، صنعت کاروں اور شاعروں کا لحاظ رکھ، انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھ، چاہے وہ تیرے مخالف ہی کیوں نہ ہوں اور ایسے لوگوں کو ہرگز تکلیف نہ پہنچا، خواہ وہ تیرے دین کو نہ مانتے ہوں۔‘

تیمور نے اس نصیحت پر عمل کیا وہ جس شہر کو تاراج کرتا وہاں لاشوں کے انبار لگا دیتا لیکن وہاں کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے گھروں کو جائے امان قرار دے دیتا۔

ایک جگہ لکھتا ہے کہ ’میں مثنوی پڑھنے کے بعد مولانا روم سے متنفر ہو گیا کیونکہ مولانا روم تمام مذاہب کو احترام دیتا تھا اور کسی مذہب کو کسی دوسرے پر فوقیت نہیں دیتا تھا جبکہ میرا عقیدہ تھا کہ اسلام بقیہ تمام مذاہب سے برتر اور اعلی ٰ ہے۔ جب میں قونیہ میں داخل ہوا تو میرے ساتھیوں نے کہا کہ میں مولانا روم کی قبر ڈھا دوں اور ا س کی ہڈیاں قبر سے باہر نکال دوں لیکن نے کہا، ’تیمور ایک مردے کے ساتھ لڑائی بری بات ہے اور میں مولوی کی قبر ڈھا کر خود کو رسوا نہیں کروں گا۔‘

تیمور نے رومی کے دربار میں رقص کرنے والے ایک درویش کو طلب کیا اور ا س سے مکالمہ کیا اور پوچھا، ’یہ رقص کر کے تم اسلام میں بدعت کیوں پیدا کرتے ہو؟‘

’اس نے جواب دیا، ’ہم نے کوئی بدعت پیدا نہیں کی ہم کوشش کرتے ہیں کہ صحیح معنوں میں دین دار بنیں۔ خدا تعالی نے دین کو سادہ صورت میں نازل کیاتاہم دین دار لوگ مزید وظائف اور عبودیت پر عمل کرتے آئے ہیں۔‘ پھر میں نے کہا کہ صوفی لوگ وحدت الوجود کے قائل ہیں یعنی ہر شے ذات خداوندی کا عکس ہے اور کسی شے کا اپنا وجود نہیں۔ جس پر ا س نے جواب دیا کہ وحدت الوجود ہمارا نہیں عارفوں کی جماعت کا عقیدہ ہے۔‘

روایت ہے کہ جب تیمور نے شیراز کو فتح کیا تو حافظ شیرازی کو طلب کیا اور پوچھا، ’کیا یہ شعر تیرا ہی ہے:

خدایا محتسب مارا با آواز دف و نے بخش
کہ ساز شرع زین افسانہ بے قانون نخواہد شد

(ترجمہ: خداوند ہمارے محتسب کو بھی ساز و آواز کا سلیقہ بخش دے، اگر ایسا ہو جائے تو تیری شریعت میں کوئی بگاڑ پیدا نہیں ہو جائے گا)

بوڑھا شاعر بولا، ’جی ہاں اے امیر والا یہ شعر میں نے ہی عرض کیا تھا۔‘

’اچانک مجھے غصہ آ گیا، ڈھٹائی کی بھی حد ہوتی ہے۔ کیا تو نہیں جانتا کہ تیرا شعر دین ومذہب کے بارے میں بڑی اہانت ہے؟‘

بوڑھا شاعر بولا، ’میرا مقصد توہین کرنا ہر گز نہیں تھا بلکہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دف کی آواز اتنی بے وقعت ہے کہ اس سے اراکین دن میں خلل نہیں پڑ سکتا۔‘

’میں نے اپنے غصے پر قابو رکھا کیونکہ مجھے اپنے خواب کی نصیحت یاد آگئی۔ پھر میں نے پوچھا، ’کیا یہ شعر بھی تمہارا ہے:

’اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل مارا
بخال ہندویش بخشم سمرقند و بخارا را

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

(ترجمہ: اگر وہ میرا ترک شیرازی محبوب دل سے میرا ہوجائے تو میں سمر قند و بخارا کو اس کے چہرے کے سیاہ تِل پر قربان کر دوں۔)

تیمور نے ہنستے ہوئے کہا، ’حد ہو گئی فیاضی کی، میں نے ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اور خون کی ندیاں بہا کر سمر قند و بخارا کو فتح کیا اور تم محبوب کے ایک تل پر نچھاور کیے جاتے ہو؟‘

جواباً حافظ شیرازی نے اپنی شیروانی کے بٹن کھول کر چیتھڑا نما قمیص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’ہماری اسی بخشش اور دریا دلی نے تو ہمیں یہ دن دکھائے ہیں سرکار!‘

حافظ شیرازی کی حاضر جوابی سے خوش ہو کر امیر تیمور نے اسے ایک ہزار سونے کے سکے بخش دیے۔

تیمور نے جب دمشق فتح کیا اور اپنے دربار میں دمشق کے نامور علما  و فضلا کو طلب کیا جن میں ابن خلدون، عماد الدین مغربی، سراج سکندری، بہاء الدین حلبی، نظام الدین شامی (جس کا لقب افصح المشرقین و المغربین تھا) اور عرب شاہ شامل تھے۔

ابتدا میں تو تیمور نے ان سے عام سوالات و جوابات کیے لیکن نجانے اس کے دماغ میں کیا سمائی کہ اس نے ان علما سے کہا کہ ’کیا قرآنی آیات کو اس ترتیب سے لایا جا سکتا ہے کہ وہ موضوع کے اعتبار سے آگے پیچھے ہوں؟‘

لیکن علما نے بدعت کے ڈر سے یہ جرات نہیں کی کہ اس کام کو ہاتھ لگائیں اور ایسا قرآن مرتب کریں کہ اس میں آیات کا تسلسل اسی ترتیب سے ہو جس ترتیب سے 23 برسوں میں پیغمبر پر اتریں۔ اس لیے میں آپ حضرات سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ اس مسئلے پر غور کریں اور دیکھیں کہ آیا قرآنی آیات کو اسی ترتیب سے آگے پیچھے لایا جا سکتا ہے جس ترتیب سے وہ نازل ہوئیں اور کیا یہ عمل بدعت توقرار نہیں پائے گا؟‘

علما نے چند روز تک آپس میں مشاورت کی اور پھر امیرتیمور کے حضور پیش ہوئے۔ بہاء الدین حلبی نے کہا، ’ہمیں یہ علم نہیں کہ کون سی آیت کس برس اور کس دن نازل ہوئی ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی یا مدینہ میں اس لیے ہم ترتیب نہیں بدل سکتے۔‘

ابن خلدون نے کہا، ’اے امیر، صرف ایک ذات قرآنی آیات کی موجودہ ترتیب بدل سکتی ہے یا خارج کر سکتی ہے۔ وہ ذات نبی کریم کی ہے جو شاید قیامت کے روز اگر مناسب سمجھیں تو ا س کا م پر توجہ فرمائیں۔‘

امیر تیمور نے پوچھا، ’اے ابن خلدون قرآنی آیات سے بعض آیات خارج کر دینے سے تیری کیا مراد ہے؟ کیا خدا کے کلام کو متن سے خارج کیا جا سکتا ہے؟‘

ابن خلدون نے جواب دیا، ’اے امیر، قرآن میں بعض آیات ایسی ہیں جو آغاز اسلام میں نازل ہوئیں اور بعض آیات بعد کے سالوں میں نازل ہوئیں اور مصلحت کی بنا پر پہلی آیات کے حکم کو یا تو شدید تر کیا گیا یا پھر خفیف کر دیا گیا۔ اس لیے اس میں رد و بدل ممکن نہیں ہے۔‘

بعد میں عماد الادین مغربی نے بھی کہا کہ ’ابتدا میں مسلمانوں کو شراب سے دور رہنے کا حکم دیا گیا پھر اگلی آیات میں اسے حرام قرار دے دیا گیا۔‘

امیر تیمور نے علما کے استدلال کو پسند کیا اور کہا کہ ’میں اپنی اولاد کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے بعد کبھی قرآنی آیات کی ترتیب میں تبدیلی لانے کا ارادہ نہ کریں۔‘

اسی طرح امیر تیمور کا حلب کے عالم کامل الدین سے مکالمہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ امیر تیمور نے سوال اٹھایا، ’طوفان نوح کب شروع ہوا اور کب اختتام کو پہنچا؟‘

کمال الدین نے جواب دیا، ’طوفان نوح کے آغاز اور اختتام کی مدت معلوم نہیں لیکن اس کی مدت دس کروڑ سال تھی۔‘

امیر تیمور نے پوچھا، ’تمہارا مطلب ہے کہ حضرت نوح اور ان کے ساتھ دوسرے جانور دس کروڑ سال تک کشتی میں رہے؟‘

کمال الدین بولا، ’اے امیر، حضرت نوح اور ان کے ہمراہ حیوانات کا مسئلہ درحقیقت ایک عرفانی مسئلہ ہے۔ حضرت نوح اور ان کے جانور دس کروڑ سال زندہ نہیں رہ سکتے تھے نیز یہ کہ اس طویل مدت میں آسمان سے مسلسل پانی برستا رہا تھا۔ درحقیقت حضرت نوح اور ان کے ہمراہی حیوانات سے مراد، جو طوفان کے پورے عرصے میں پانی پر زندگی بسر کرتے رہے یہ ہے کہ اللہ تعالی ٰ نے انسان اور حیوان دونوں کو پانی اور پانی میں موجود مٹی یعنی صلصال سے پیدا کیا ہے۔‘

امیر تیمور نے دمشق کے دانشور عرب شاہ کو سمرقند بلایا اور ان سے پوچھا، ’رجال الغیب کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں؟ آیا سچ ہے کہ ان کی تعداد 353 ہے نہ کم ہوتے ہیں نہ زیادہ۔ اور کیا یہ بھی سچ ہے کہ دنیا انہی کے دم سے قائم ہے اگر وہ ختم ہو جائیں تو دنیا بھی نابود ہو جائے گی؟‘

عرب شاہ نے جواب دیا، ’ہم دانشوروں کے نزدیک یہ وہ قوتیں ہیں جو جن کے بل بوتے پر دنیا کا نظام برقرار ہے اگر یہ نہ ہوں تو پورا نظام بکھر جائے۔ وہ قوتیں کم ہوتی ہیں نہ زیادہ کیونکہ اس جہان میں کوئی چیز کم یا زیادہ نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جہان سے باہر ایسی جگہ نہیں کہ زیادہ چیزیں وہاں رکھی جا سکیں یا وہاں کی زائد اشیا اس دنیا میں لائی جا سکیں۔ یہ سب جگہ ایک ہی جہان ہے اور اس جہان میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔ لہٰذا رجال الغیب سے مراد وہ قوتیں ہیں جو دنیا کو چلا رہی ہیں وہ نہ کم ہوتی ہیں نہ زیادہ۔‘

امیر تیمور جنگجو تھا تاہم علما اور فضلا کی قدر کرتا اور جس شہر کو فتح کرتا اس کے عالموں کو بلا کر ان سے مکالمے کرتا ایک مکالمے کے دوران عیسائیوں کے مذہبی پیشوا اسقف اعظم نے امیر تیمور کو برا بھلا کہا اگر وہ کوئی اور ہوتا تو امیر تیمور اس کی گردن اڑا دیتا لیکن چونکہ وہ عالم تھا اس لیے امیر تیمور نے اسے سمرقند منتقل ہونے اور تاحیات مراعات دینے کی پیشکش کی جسے اس نے قبول کر لیا۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ تیمور نے جب دلی کا محاصرہ کر رکھا تھا تو ایک روز ہندوؤں کا روحانی پیشوا قلعے کی دیوار پر چڑھ کر تیمور سے مخاطب ہوا، اے امیر، تو اس وقت 63 برس کا ہو چکا ہے، اگر تو دلی فتح کرنے کا ارادہ ترک کر کے یہاں سے چلا جائے تو 94 برس کی عمر پائے گا لیکن اگر تو اس شہر میں داخل ہونے پر بضد رہا تو تیری طبعی عمر 70 برس ہو گی۔‘

تیمور نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے محاصرہ جاری رکھا اور بالآخر دلی کو فتح کر کے تاخت و تاراج کر ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تیمور نے واقعی 70 برس کی عمر پائی اور 19 فروری 1405 کو اس وقت انتقال کر گیا جب وہ چین فتح کرنے جا رہا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ