'اسلام آباد میں رجسٹریشن کے ساتھ نمبر پلیٹ، پنجاب میں کیوں نہیں؟'

پنجاب میں نمبر پلیٹ ڈیزائن ایک بار پھر بدلنے پر ڈائریکٹر ایکسائز کا کہنا تھا کہ 'یہ فیصلہ ایکسائز نے اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ پنجاب حکومت نے محکمہ ایکسائز، سیف سٹی اور پولیس کی مشاورت سے کیاہے۔' اس حکمت عملی پر سوالات کیا اٹھ رہے ہیں، جانیے رپورٹ میں۔

(اے ایف پی)

پنجاب میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس کاڈیزائن ایک بار پھر تبدیل کردیاگیا۔ اور اب شہریوں کو نئی نمبر پلیٹس کی فراہمی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے بعد پنجاب کے تمام اضلاع کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو ایک ہی طرح کے نمبر لگائے جائیں گے۔

ایکسائز حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیاگیا کہ پرانی نمبر پلیٹس کا فونٹ سائز چھوٹا تھا جو سیف سٹی کیمروں میں واضح نہیں ہوتاتھا۔

گذشتہ کئی ماہ سے بیس لاکھ کے قریب شہریوں کو نئی نمبر پلیٹس فراہم نہ ہونے پر صوبے بھر میں کئی مشکلات کا سامناکرناپڑرہاہے۔

کیا نئی نمبر پلیٹوں سے مسئلہ حل ہوگا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عمران اسلم نے کہا کہ 'نئے ڈیزائن کی نمبر پلیٹس پر صوبے بھر میں ایک ہی سیریل درج ہوگی۔ 

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پہلے والی نمبر پلیٹس بھی کمپیوٹرائزڈ تھیں۔ لیکن ان کا فونٹ سائز چھوٹاتھا اور سیکیورٹی فیچرز کی وجہ سے سیف سٹی کے کیمرے انہیں فالو نہیں کر پاتے تھے۔

نیا ڈیزائن سیف سٹی اتھارٹی کے ساتھ مل کر بنایاگیاہے جس سے مسائل حل ہوجائیں گے۔'

'دوسرا یہ کہ جن شہریوں کو رجسٹریشن کے باوجود گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس نہیں مل رہی تھیں، انہیں فراہم کرنے کا کام بھی تیز کردیاگیاہے۔'

انہوں نے کہاکہ پہلے مرحلے میں گذشتہ سال 2019 کی زیر التوا نمبر پلیٹس فراہم کی جارہی ہیں۔

عمران اسلم کے مطابق نمبر پلیٹوں کے حوالے سے ماضی میں درپیش مختلف مسائل اب اس نئے طریقے کے بعد حل ہوجائیں گے۔

محکمہ ایکسائز کی حکمت عملی پر سوالات:

دوسری جانب محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ 'بار بار نمبر پلیٹس تبدیل کر کے شہریوں کو دھوکا دیا جارہاہے۔' 

انہوں نے کہاکہ 'نئی نمبر پلیٹس بنانے کا ٹھیکہ من پسند افراد کو دیا گیاہے جبکہ بیس لاکھ سے زائد شہری پہلے ہی نمبر پلیٹس اور رجسٹریشن کارڈ حاصل نہیں کر پائے۔'

انہوں نے کہاکہ 'جس طرح اسلام آباد میں گاڑی یا موٹر سائیکل کی رجسٹریشن کے ساتھ ہی نمبر پلیٹس اور رجسٹریشن کارڈ فراہم کیے جاتے ہیں پنجاب میں ایسا کیوں نہیں؟'

ان کے مطابق 'یہ مسائل دفاتر سے حل کرنے کی بجائے شہریوں کو کوریئر کمپنی کے ذریعے گھروں پر نمبر پلیٹ اور کارڈز فراہم کرنے کا دعوی کیاجاتاہے لیکن کئی کئی ماہ گزرنے کے باوجود لوگ دفاتر کے چکر لگارہے ہیں اور کوئی سننے والانہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہاکہ 'ہر ضلع میں ای ٹی اوز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے لیکن ڈائریکٹرز کم ہیں کیونکہ ان ای ٹی اوز کے ذریعے اعلی حکام مالی مفاد لیتے ہیں۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں میں نمبرز نہ آنے کا بہانہ بنایاگیاہے کیونکہ پرانی کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس پر چالان تو ہورہے ہیں اور نمبرز بھی واضح ہوتے ہیں۔'

ان کے خیال میں 'یہ سب تبدیلیاں صرف کمائی کا ذریعہ ہیں، ان سے عوام کو سہولیات دینے یا مسائل حل کرنے کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔'

ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عمران اسلم نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ نمبر پلیٹس کی تبدیلی کا فیصلہ محکمہ ایکسائز نے اپنی مرضی سے نہیں کیا۔

یہ فیصلہ پنجاب حکومت نے محکمہ ایکسائز ، سیف سٹی اتھارٹی اور محکمہ پولیس کی مشاورت سے کیاہے۔

نمبر پلیٹس بنانے اور کوریئر کمپنی کو ٹھیکہ بھی قانونی شرائط پوری ہونے کے بعد دیا گیاہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان