آسٹریلیا: لاک ڈاؤن کے خلاف اکسانے والی حاملہ خاتون گرفتار

زوئے بوہلر کو ان کے بچوں کے سامنے ریاست وکٹوریا کے شہر بالارات میں ہتھکڑی لگا کر گرفتار کیا گیا۔

28 سالہ خاتونکو گرفتاری کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی حمایت میسر ہے (ویڈیو سکرین گریب)

آسٹریلیا میں پولیس نے دیگر افراد کو مبینہ طور پر لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج پر اکسانے پر گرفتار کیا ہے، تاہم خاتون کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ قانون توڑ رہی ہیں۔

زوئے بوہلر کو ان کے بچوں کے سامنے ریاست وکٹوریا کے شہر بالارات میں ہتھکڑی لگا کر گرفتار کیا گیا۔

ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگوں کو ہفتے کے اختتام پر وبا کے حوالے سے عائد بندشوں کی خلاف ورزی پر اکسایا۔

لیکن 28 سالہ خاتون، جن کو گرفتاری کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی حمایت میسر ہے، کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کا ایسا کرنا جرم کے مترادف ہے۔

آسٹریلیا میں زوئے بوہلر کی آبائی ریاست کرونا (کورونا) وائرس کا گڑھ بن چکی ہے اور بڑھتے کیسز کی وجہ سے ریاست کا دارالخلافہ میلبورن اگست کے اوائل سے مسلسل لاک ڈاؤن میں ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: 'پولیس مجھے ایک فون کال کر سکتی تھی اور کہہ سکتی تھی کہ دیکھیں آپ کو اپنا ایونٹ فیس بک سے ہٹانا ہوگا ورنہ آپ کے خلاف مجرمانہ کارروائی ہو گی اور میں اسے ہٹا دیتی۔'

خاتون کے مطابق: 'یہ اتنا آسان ہو سکتا ہے۔ میں ایسی انسان نہیں ہوں جو کبھی کوئی جرم سرزد کر سکتی ہے۔'

وکٹوریا پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر لیوک کارنیلیس نے پولیس کی جانب سے زوئے کو ہتھکڑی لگانے کو 'مکمل طور پر جائز' قرار دیا لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے سے اہلکاروں کو منفی انداز میں دکھایا گیا ہے۔

کارنیلیس کا کہنا ہے کہ 'ایک حاملہ خاتون کو گرفتار کرنا دیکھنے میں افسوس ناک لگتا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیس نے تین مردوں کو بھی اس الزام پر گرفتار کیا ہے کہ انہوں نے ہفتے کو میلبورن میں ایک احتجاج منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا، جس میں دوسرے افراد کو بھی کرونا کے حوالے سے عائد پابندیوں کو توڑنے پر اکسایا جانا تھا۔

لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپس نے پر امن مظاہروں کو روکنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل خطرناک آمرانہ طرز حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔

این جی او ہیومن رائٹس واچ کی ایلین پیئرسن نے ٹوئٹر پر لکھا: 'جب ریاست وکٹوریا سٹے ایٹ ہوم (گھر پر رہیں) کے احکامات کے زیر اثر ہے اور اجماعات پر پابندی ہے تو کسی ایسے فرد کی گرفتاری، جو کہ احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہا ہو، ایک خطرناک مثال ہے۔'

انہوں نے مزید لکھا: 'لوگوں کو پیشگی گرفتار کرنا اور وہ بھی ایک پر امن مظاہرے کر لیے، جس کا اعلان سوشل میڈیا پر کیا گیا ہو، ایسا آمرانہ حکومتوں کی جانب سے کیا جاتا ہے اور یہ آسٹریلیا جیسی جمہوریت میں نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس کی جانب سے سختی لاک ڈاؤن کی مخالفت کرنے والوں کے موقف کو مزید سخت کر سکتی ہے اور ایسا کرنا ان افراد کو مزید متحرک کر سکتا ہے۔'

دوسری جانب سول لبرٹیز کی تنظیم لبرٹی وکٹوریا نے 'برداشت اور صبر' سے کام لینے کی ذمہ داری پولیس اہلکاروں پر عائد کی ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا: 'اگر پولیس چاہتی ہے کہ شہری تعاون کریں اور مل کر کام کیا جائے، تاکہ اس بحران سے نمٹا جا سکے تو انہیں شہریوں کے ساتھ عزت اور تمیز سے پیش آنا ہو گا اور مل کر کام کرنا ہو گا بجائے انہیں خود سے دور کرنے کے۔'

بیان میں مزید کہا گیا کہ 'عوامی صحت کے اقدامات کے طور پر مجرمانہ کارروائی اور جرمانے صرف آخری حربہ ہونا چاہیے۔ آپ ایک وبا سے پولیس کی طرح نہیں نمٹ سکتے۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا