چترال کے سماجی کارکن پرویز لال کو کیوں گرفتار کیا گیا؟

اپر چترال میں 'نقص امن کے خدشے' کے پیش نظر پرویز لال کو 30 دن کے لیے حراست میں لینے پر مقامی لوگوں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پرویز لال علاقے کے جانے پہچانے سماجی اور سیاسی کارکن ہیں (فیس بک)

خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے مقامی سماجی وسیاسی کارکن پرویز لال کو 30 دن کے لیے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او)  آرڈیننس کے  تحت حراست میں لینے پر مقامی لوگوں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پرویز کی گرفتاری کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری مراسلے میں، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، لکھا گیا کہ امن عامہ کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں پرویز کو 30 دن کے لیے ضلع بدر کر کے ڈیرہ اسماعیل خان کی سینٹرل جیل میں رکھا جائے۔

مراسلے میں مزید لکھا گیا  'پرویز لال حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جس سے علاقے کے امن  کو خطرہ ہے۔' مراسلے کے مطابق ان کو حراست میں لینے کا حکم ڈپٹی کمشنر نے، جن کو ضلعی مجسٹریٹ کا درجہ بھی حاصل ہے، 1960 کے مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت دیا۔تاہم مراسلے میں یہ واضح نہیں  کہ پرویز ایسی کون سی سرگرمیوں میں ملوث تھے جن سے امن عامہ کو خطرہ لاحق تھا۔

 اس حوالے سے جب اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر شاہ سعود سے پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ قانونی طور پر ان کو بین الاقوامی میڈیا کےساتھ بات کرنے کی اجازت نہیں۔'اس قانونی مسئلے پر میں اپنا موقف نہیں دے سکتا کیونکہ قانونی طور مجھے بین الاقوامی میڈیا کےساتھ بات کرنے کی اجازت نہیں ۔آپ ایم پی او آرڈیننس پڑھیں اس میں سب کچھ موجود ہے۔'

جب انڈپینڈنٹ اردو نے  اصرار کیا کہ مراسلے میں واضح نہیں کہ  پرویز کی کن سرگرمیوں سے امن عامہ کو خطرہ لاحق ہے تو انہوں نے دہرایا کہ وہ میڈیا کے ساتھ قانونی طور پر بات نہیں کر سکتے۔ ضلع سوات کے علاقہ مدین میں بھی ایسا ہی ایک مقدمہ ان مظاہرین پر درج کیا گیا  جنہوں نے چار دسمبر کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سوات کے دورے پر اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرتے ہوئے روڈ بلاک کیا تھا۔

 ایم پی او آرڈیننس کیا ہے؟

یہ قانون جنرل ایوب خان کی دور میں 1960 میں بنایا گیا اور مغربی پاکستان کے گورنر نے اسے جاری کیا۔اس قانون کی دفعہ تین کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی شخص کو، اگر ان محسوس ہو کہ وہ امن عامہ کے لیے خطرہ ہے، حراست میں رکھ سکتے ہیں۔

2001 سے پہلے جب جنرل (ر) پرویز مشرف نے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے  تھے تو ڈپٹی کمشنرز کو، جنہیں ضلعی مجسٹریٹ کا درجہ بھی حاصل تھا، قانونی طور پر یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ کسی بھی شخص کو امتناعی حراست میں لے سکتے ہیں۔جب 2001 میں بلدیاتی سیٹ اپ بن گیا  اور ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ختم کردیا گیا تو سیکرٹری داخلہ کو ایم پی او قانون کااختیار دیا گیا تھا۔2008 میں صوبائی حکومت نے دوبارہ ڈپٹی کمشنرز کے اختیارات میں اضافہ کر کے یہ اختیار بھی دے دیا۔

گذشتہ دو عشروں سے قانونی معاملات پر رپورٹنگ کرنے والے روزنامہ ڈان سے وابستہ وسیم احمد شاہ نے بتایا کہ آئین پاکستان میں ایم پی او کے حوالے سے مختلف مواقع پر ترمیم کی گئیں۔انھوں نے بتایا کہ 1973 کے آئین کی دفعہ 199 کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ ایم پی او قانون کے تحت کسی شخص کی گرفتاری  کوچیلنج کرنے کی صورت میں اس بات کو یقینی بنائے کہ واقعی اس شخص کو قانون کے مطابق امتناعی حراست میں رکھا گیا۔

تاہم وسیم نے بتایا کہ ذولفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ان کے بہت سے سیاسی مخالفین کو ایم پی او قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، لہٰذا انہوں نے1975 میں آئین میں ترمیم کر کے عدالت سے یہ اختیار واپس لے لیا کہ وہ کسی بھی شخص کی، جو امتناعی حراست میں لیا گیا ہو، ضمانت کا حکم دے سکے۔

وسیم نے بتایا'بعد میں 1985 میں جنرل ضیاالحق نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے آئین کی دفعہ 199 سے کچھ ذیلی دفعات نکال دیں ، جس کے بعد عدالتیں ایسی درخواستیں کو سنتی ہیں جس میں ایم پی او کی تحت کسی شخص کی گرفتاری ہوئی ہو اور وہ عدالت سے ریلیف مانگتے ہوں۔'

اسی قانون کے حوالے سے 2016 میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ کے ججز جسٹس قیصر رشید اور جسٹس روح الامین نے ڈپٹی کمشنرز کو سختی سے بتایا تھا کہ وہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکیں کیونکہ کسی بھی ڈپٹی کمشنر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کو جوا کھیلنے، دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے یا نشہ کرنے پر حراست میں لے سکے۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس قانون کے غلط استعمال کے حوالے سے پہلے بھی پشاور، کوہاٹ اور صوابی کے ڈپٹی کمشنزر کو تنبیہ کی گئی تھی کہ اگر اس قانون کا غلط استعمال نہ روکا گیا تو ڈپٹی کمشنرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ 

پرویز لال نے کیا غلط کیا؟

اس سوال کا جواب ڈپٹی کمشنر اپر چترال کی جانب سے تو نہیں ملا  تاہم ایک راضی نامہ جو 2016 میں ڈپٹی کمشنر اور پرویز لال کے مابین کیا گیا تھا، جب وہ چترال جیل تھے، کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔ اس راضی نامے کے مطابق پرویز کو جیل سے اس شرط پر رہا کیا گیا تھا کہ مستقبل میں وہ کسی 'غیر قانونی' سیاسی جلسے میں شرکت کریں گے نہ اس کا اہتمام کریں گے اور نہ سہولت کار بنیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

راضی نامے میں پرویز سے یہ حلف بھی لیا گیا تھا کہ وہ کسی اخباری بیان یا اشتہار کے ذریعے حکومت کے خلاف کسی قسم کی 'اشتعال انگیزی، جس سے نقص امن کو خطرہ ہو' نہیں پھیلائیں گے۔ پرویز علاقے میں جانے پہنچانے سماجی کارکن ہیں ، جو مختلف ایشوز پر بولتے بھی ہیں اور حکومت کے خلاف مظاہروں میں بھی شرکت کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی اپر چترال کے سیکرٹری اطلاعات پرویز چترال کے حقوق کے لیے بنائے گئے تحریک حقوق اپر چترال کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں اس لیے حراست میں لیا گیا  کہ انھوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے حالیہ دورہ چترال کے موقعے پر ان کے خلاف تقریر کی اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد حکومت کی بروقت امداد نہ کرنے پر صوبائی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ٹوئٹر پر سابق سینیٹر اور سینیئر سیاست دان آفراسیاب خٹک نے لکھا  کہ پرویز لال کی انتظامیہ پر تنقید کے نتیجے میں گرفتاری بیوروکریسی کی اس امرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ احتساب سے بالاتر ہے۔ خٹک نے مزید لکھا 'اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنا چاہیے اور اس مسئلے کو اسمبلی کے فلور پر بھی زیر بحث لانا چاہیے۔'

 

ٹویٹر پر پرویز لال کی رہائی کے لیے Releasepervezlal# کے نام سے ہیش ٹیگ بھی چل رہا ہے جس میں ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ایک ٹویٹر صارف عماد بیگ نے لکھا  کہ پرویز لال کو صرف اس لیے حراست میں لیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پخونخوا کے دورہ چترال کے موقعے پر غیر ضروری پروٹوکول دینے پر تنقید کی تھی۔

ٹویٹر صارف کریمہ خان لکھتی ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی اور اجتماع منعقد کرنے کی آزادی کا حق آئین پاکستان نے ہر شہری کو دیا اور کسی بھی شخص کو اپنا حو استعمال کرنے پر گرفتار کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان