بھارت اور چین سرحد پر فوجی سرگرمیاں 'جلد ختم کرنے' پر راضی

ماسکو میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور ان کے بھارتی ہم منصب سبرامنیم جے شنکر کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں دونوں فریقین نے متنازع سرحد پر فوجی سرگرمیوں کو کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے  سائیڈ لائن اجلاس میں چینی وزیر خارجہ  وانگ یی (دائیں) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف (درمیان ) اور بھارتی  وزیر خارجہ  سبرامنیم جے شنکر  تصویر کے لیے پوز دیتے ہوئے (اے ایف پی)

ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق اپنی متنازع ہمالیائی سرحد پر متعدد فوجی جھڑپوں کے بعد بھارت اور چین نے اس علاقے میں فوجی سرگرمیوں کو 'جلد از جلد ختم کرنے' پر اتفاق کیا ہے۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک نے رواں ہفتے ایک دوسرے پر سرحدی خلاف ورزیوں اور فائرنگ کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد ایک ماہ سے جاری اس سرحدی تنازعے میں شدت آگئی تھی، جس میں پہلے ہی کم از کم 20 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

چار ہزار میٹر (13 ہزار 500 فٹ) کی بلندی پر واقع اس سرحد پر بھارت اور چین نے سینکڑوں فوجی دستے تعینات کر رکھے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روس کے دارالحکومت ماسکو میں جمعرات کے روز چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور ان کے بھارتی ہم منصب سبرامنیم جے شنکر کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں دونوں فریقین نے متنازع سرحد پر فوجی سرگرمیوں کو کم کرنے پر اتفاق کیا۔

بیان میں کہا گیا: 'دونوں ممالک کی سرحدی دفاعی افواج کو مذاکرات جاری رکھنے چاہییں، جلد سے جلد سرگرمیوں کو کم کرنا چاہیے، ضروری فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے اور صورت حال کو معمول پر رکھنا چاہیے۔'

دونوں نے 'ایسی کارروائیوں سے گریز کرنے پر بھی اتفاق کیا جن سے صورت حال کشیدہ ہوسکتی ہے۔'

دونوں ممالک کے وزرا آٹھ ملکی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود تھے۔

بھارت اور چین کے مابین سرحد کا کبھی بھی مناسب تعین نہیں ہوسکا۔ دونوں ممالک نے 1962 میں ایک مختصر سرحدی جنگ بھی لڑی، لیکن 1975 کے بعد سے اس علاقے میں باضابطہ طور پر کوئی گولی نہیں چلائی گئی تھی، جب ایک جھڑپ میں چار بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعدازاں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان 15 جون کو لداخ کی وادی گلوان میں جھڑپ کے دوران 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اب تک کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ چین نے بھی اس جھڑپ میں جانی نقصان کا اعتراف کیا تھا لیکن اس کی جانب سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار نہیں جاری کیے گئے۔

اس جھڑپ کے بعد دونوں ممالک نے اس دور دراز اور سطح سمندر سے چار ہزار میٹر بلند علاقے میں ہزاروں فوجی تعینات کردیے تھے۔

بھارت اور چین ایک دوسرے کو کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہراتے آئے ہیں۔

اس سے قبل 5 ستمبر کو ماسکو میں ملاقات کے دوران بھی بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کے چینی ہم منصب جنرل وئی فینگہی نے اپنے بیانات میں کشیدگی کا ذمہ دار مخالف فریق کو قرار دیا تھا۔

بھارت کی جان سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ملاقات کے دوران راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ 'بھارت تنازعے کا حل مذاکرات کے ذریعے کرنا چاہتا ہے لیکن بھارت کی جانب سے اپنی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے دفاع پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔'

دوسری جانب چینی وزیر کی جانب سے سخت موقف اپنایا گیا تھا ور جنرل وئی کا کہنا تھا کہ 'بھارت اور چین کے درمیان موجود کشیدگی کی سچائی بہت واضح ہے، جس کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ چینی علاقہ کھویا نہیں جا سکتا۔'

انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ 'اپنی فرنٹ لائن فورسز پر اپنے کنٹرول کو مضبوط کرے' اور 'ایسے اقدامات سے گریز کرے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔'                                                                         

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا